استاد سے اختلاف احترام ہی کا ایک رنگ ہوتا ہے۔ کچھ کم عقل مگر یہ نکتہ نہیں سمجھتے۔ انہیں مورد الزام ٹھہرانا بھی مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ یہ غریب الف لیلیٰ کے ابو الحسن کی دنیا کے باسی ہیں۔ نسیم حجازی کے پُر خروش ناولوں سے ادبی ذوق کی تحصیل کی ہے۔ سوئے اتفاق سے انہیں استاد بھی ایسے شب کور نصیب ہوئے جن کی نظر عنایت سے بصیرت تو خیر، بصارت بھی چند برس کے دائرے میں محصور ہے۔ مثلاً مردان کے ایک مرد حُر لکھتے ہیں کہ ’مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو عمران خان کی سونامی نے اکٹھا ہونے پر مجبور کیا۔‘ ارے صاحب، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید 10 جون2005 کو جدہ میں میاں نواز شریف سے ملاقات کرنے تشریف لے گئی تھیں۔ جمہوری روابط کا یہ سلسلہ بالآخر 14 مئی 2006 کو میثاق جمہوریت پر منتج ہوا۔ 10 جون 2005 کو عمران صاحب کا کل سیاسی اثاثہ میانوالی کے حلقہ این اے 71 سے قومی اسمبلی کی وہ اکلوتی نشست تھی جو انہوں نے فوجی آمر پرویز مشرف سے ایک سو نشستوں کے مطالبے کے بعد پختون قالین فروشی والی تجارتی روایت میں ہتھیائی تھی۔ ذاتی طور پر ان دنوں عمران صاحب کی توجہ بنی گالہ کی جائیداد کے معاملات پر مرکوز تھی جو ریونیو ریکارڈ کے مطابق 11 جون، 2005 کو ان کے نام منتقل کی گئی۔ 300 کنال رقبے پر غیرقانونی طور پر تعمیر کیا گیا یہ بنگلہ 5 مارچ 2020 کو سپریم کورٹ نے بارہ لاکھ روپے کے عوض ریگولرائیز کیا جب عمران خان ریاست مدینہ کے وزیر اعظم تھے نیز ڈیم فنڈ، آبادی کانفرنسوں اور ہائی کورٹ کے ججوں سے اپوزیشن سیاستدانوں کے خلاف حسب منشا فیصلوں کی نوید پا کر جھوم اٹھنے والے ثاقب نثار سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ عمران خان کی سیاست میں تب سونامی کی اصطلاح کا کہیں وجود نہیں تھا اور وہ اپنے غیر سیاسی اتالیقوں کے اتباع میں میثاق جمہوریت کو مذاق جمہوریت اور مک مکا کہا کرتے تھے۔ 2008ء میں بے نظیر شہید اور نواز شریف کا سیاسی مقام تو انتخابی نتائج ہی سے واضح تھا البتہ دونوں سیاسی قوتوں میں افہام و تفہیم کو انکے جمہوری تدبر کی بجائے عمران خان کے نام نہاد سونامی کا ردعمل قرار دینا ہمارے صحافتی عبقری کے تخیل کی پرواز ہے۔ گاڑی کو گھوڑے سے آگے باندھنا شاید اسی کو کہتے ہیں۔ لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں۔ امام القلم کا یہ دعویٰ بھی محل نظر ہے کہ ’عمران خان کے اقتدار سے باہر ہونے کے بعد یہ دونوں جماعتیں پی ڈی ایم کے جھنڈے تلے اکٹھی اقتدار میں بیٹھیں‘۔ پی ڈی ایم 20 ستمبر2020ءکو قائم ہوئی تھی تب اکتوبر 2021ء، جنرل باجوہ کی توسیع پسندی اور فیض رسانی کے طویل مدتی خواب ابھی وقت کے بیجوں میں تھے۔
ادھر استاد گرامی بھی تسلسل سے گولہ باری فرما رہے ہیں۔ بار دگر عرض ہے کہ استاد سے اختلاف احترام ہی کا ایک رنگ ہوتا ہے۔ مربی و مرشدی لکھتے ہیں ’چن چڑھنے والا ہے، ری سیٹ ایجنڈا رکے گا نہیں، یہ چلتا رہے گا، کوئی مانے نہ مانے۔ کوئی نہیں مانتا تو جہاں جانا ہے وہاں جائے۔ کٹا کھل چکا ہے، اگلے چند دنوں میں کٹا سربازار دیدار کرائے گا ،ملکی ترقی کیلئے ری سیٹ ہوگا، نئے صوبے بھی بنیں گے، مرکز کا مالیاتی حصہ بھی بڑھے گا، وہ سب کچھ ہو گا جو ہونی میں لکھا ہے‘۔ برادر کا رنگ تحریر معمول سے قدرے تیز ہو گیا۔ صاحب ’ملکی ترقی ‘ کی پخ تو خیر شعری ضرورت ہے، اگر ’ہونی‘ کے فیصلے سرکاری دفاتر میں ریاستی اہل کاروں ہی کو کرنا ہیں تو ہم غریب الدیار مجبور محض ہیں۔ ہم نے اس ملک میں یحییٰ، حمید، پیرزادہ، گل حسن اور رحیم خان جیسا مضحک طائفہ بھگت رکھا ہے جس کے کارن یہ ملک دو لخت ہو گیا۔ قوم باشعور ہوتی تو اس سانحے پر آج تک سر بزانو ہوتی، ہم مگر ایسی ’ہم چو ما دیگرے نیست‘ خاک کے پتلے تھے کہ ہم نے تو عوام کو وطن کا نقشہ مبدل کرنے والی اس ہزیمت کی ٹی وی پرجھلک تک دیکھنے کی اجازت نہیں دی۔ جیسے تب لاچار تھے، ویسے ہی آج بے دست و پا ہیں۔ وطن نہ ہوا، بچوں کے کھیلنے کے لیے Lego کے بے بضاعت بلاک ہو گئے۔ ’ہر کہ آمد عمارت نو ساخت۔ رفت و منزل بہ دیگرے پرداخت‘ ایک صاحب کی آنتوں میں سوزش ہوئی انہوں نے لندن کے ڈورچسٹر ہوٹل میں بیٹھ کر مغربی پاکستان کی اکائیاں بھینچ کر ون یونٹ بنا دیا۔ میجر جنرل رائو فرمان علی کے کاسہ تاریک میں کوندا لپکا تو انہوں نے وفاقی حکومت سے پوچھے بغیر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ہتھیار ڈالنے کی پیش کش بھیج دی۔ ایک صاحب سلوک نے پاکستان کے نام پر نصف صدی سے خجل ہوتے چار لاکھ بہاریوں کو درخور اعتنا نہیں جانا مگر تیس لاکھ افغانیوں کو ملک میں پناہ ہی نہیں دی، نقل و حرکت، رہائش اور کاروبار کے غیرمشروط حقوق بھی سونپ دیے۔ ایک بزرجمہر منہ اٹھا کے کارگل کی پہاڑیوں پر چڑھ دوڑے۔ ان کی مہم جوئی سے برصغیر میں پائیدار امن کے قیام کا نصف صدی میں ملنے والا بہترین موقع ضائع ہو گیا۔ 2010ء میں صوبائی حقوق کا معاملہ طے ہوا ۔ قومی مالیاتی ایوارڈ کی تقسیم میں تمام وفاقی اکائیوں نے خوش دلی سے مفاہمت پیدا کی۔ اس پر ایک صاحب فہم نے ارشاد فرمایا کہ یہ آئینی ترمیم تو چھ نکات سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ طمطراق ایسا گویا اگرتلہ سازش کیس قائم کرتے ہوئے اور پھر یہ دفتر لپیٹتے ہوئے چھ نکات کے مضمرات پوری طرح سمجھ لئے تھے؟ استاذی ایک معروف و مستند صحافی ہیں۔ انکی خبر پر انگشت نمائی بے خبر صحافی کی حد پرواز سے تجاوز ہے لیکن اختلاف کیے بغیر چارہ نہیں ۔ دبیز سبز مخمل سے آراستہ میزوں پر رکھی فائلوں میں جو بھی کانا باتی درج ہو درویش کہے دیتا ہے کہ اس سے بھلائی برآمد نہیں ہو گی۔ وفاق میں افتراق پیدا ہو گا ۔ معیشت جامد رہے گی۔ W. B. Yeats نے ایک صدی پہلے لکھا تھا Things fall apart, Centre holds not ۔ اور اگر اپنی شعری روایت کی طرف پلٹیں توپاکستان ٹی وی سے شہرت پانے والے آغا ناصر نے لکھا تھا۔
ہونا تو وہی ہے جو مُقدر میں لکھا ہے
لیکن وہ مرے خواب مرے خواب مرے خواب