• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں واقع سرحد یونیورسٹی میںپیش آنے والے افسوسناک واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر فوج مخالف پروپیگنڈا دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ صورتحال اُس وقت پیش آئی جب 24اگست کو سرحد یونیورسٹی میں طلباء کے احتجاج کے دوران ایک فوجی افسر اور بعض طلباء کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور نوبت ہاتھا پائی تک جاپہنچی۔

باوردی شخص احتجاجی طلباء کے درمیان گھری یونیورسٹی کی پروفیسر اپنی اہلیہ جسے طلباء نے یونیورسٹی کی عمارت میں داخلے سے روک رکھا تھا، کو وہاں سے نکالنے کیلئے کیمپس پہنچا تھا، جب وہ اہلیہ کو احتجاجی طلباء کے ہجوم سے نکال کر لے جانے لگا تو صورتحال کشیدہ ہوگئی اور طلباء نے باوردی شخص پر حملہ کردیا جس کے ردعمل میں اس شخص نے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ کی اور اپنی اہلیہ کو گاڑی میں بٹھاکر لے جانے میں کامیاب ہوگیا۔ بعد ازاں پاک فوج کے بیان کے مطابق اعلیٰ فوجی حکام نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات اور تادیبی کارروائی کا عندیہ دیاہے۔

حیرت انگیز طور پر ایک ایسا واقعہ جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، سوشل میڈیا پر غیر معمولی شدت کے ساتھ فوج مخالف بیانیہ میں تبدیل ہوگیا۔بعض حلقوں نے ہوائی فائرنگ اور طلباء کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کو طاقت کے ناجائز استعمال سے تعبیر کیا جبکہ لوگوں کی اکثریت نے باوردی شخص پر طلبہ کے حملے اور وردی کی توہین کو انتہائی سنگین معاملہ قرار دیا۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی باوردی شخص پر حملے اور وردی پر ہاتھ ڈالنے کو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیا اور کہا کہ یونیفارم پہنے شخص کا بھی خاندان اور عزت نفس ہوتی ہے۔ ان کے اس بیان کو سیاسی حلقوں میں سراہا گیا۔ یہ امر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں جب بھی فوج اور عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کا کوئی موقع سامنے آتا ہے، بیرونی عناصر اسے اپنے مفادات کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد بھی بھارت سے منسلک سوشل میڈیا اکائونٹس کو پاک فوج کے خلاف استعمال کیا گیا۔

سرحد یونیورسٹی کا واقعہ اسلئے زیادہ تشویشناک ہے کہ یہ ایک تعلیمی ادارے میں پیش آیا جو نوجوانوں کی تربیت اور کردار سازی کا مرکز ہوتا ہے۔ احتجاج طلبہ کا حق ہوسکتا ہے مگر کسی استاد یا شہری کو زبردستی روکنا، ہجوم کے ذریعے دبائو ڈالنا یا کسی فرد پر حملہ کرنا احتجاج کے حق کی حدود سے تجاوزہے۔ اسی طرح کسی باوردی فرد کی جانب سے اسلحے کا استعمال بھی ایک حساس معاملہ ہے جسے بنیاد بنا کراس فعل کو پوری فوج سے جوڑ دینا ناقابل قبول ہے۔ اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فوجی افسر نے اپنے اختیار، عہدے یا وردی کا ناجائز استعمال کیا، طلبہ پر تشدد کیا یا غیر ضروری طور پر اسلحہ لہرایا ہے تو فوج میں احتساب کا ایک سخت نظام موجود ہے اور فوج میں کوئی بھی افسر قانون سے بالاتر نہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج ایک قومی ادارہ ہے اور ملکی سلامتی، سرحدوں کے دفاع، دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد میں فوج کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تاہم ادارےپر تنقید کی آڑ میں نفرت انگیز مہم چلانا قابل مذمت ہے۔ پاکستان کو اس وقت اداروں کے درمیان تصادم نہیں بلکہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔ فوج، عدلیہ، پارلیمان، حکومت، پولیس، یونیورسٹیاں اور سول سوسائٹی اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں تو ریاست مضبوط ہوگی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو واقعہ کا صرف ایک حصہ دکھاتی ہے، تنازع کس بات پر شروع ہوا، کس نے پہل کی، کس مرحلے پر صورتحال قابو سے باہر ہوئی اور ہوائی فائرنگ کی ضرورت کیوں پیش آئی، ان سوالات کے جوابات مکمل تحقیقات ہی سے سامنے آسکتے ہیں۔ اگر باوردی شخص نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے لیکن دوسری طرف ایک باوردی شخص اور اس کی اہلیہ کے ساتھ ہتک آمیز سلوک پر ملوث طلباء کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونا چاہئے اور اگر یونیورسٹی انتظامیہ معاملے کو بروقت حل نہیں کرتی تو اس سے بھی سوال ہونا چاہئے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والے شرپسند عناصر کا بھی سخت احتساب کیا جائے۔ حکومت کو چاہئے کہ واقعہ کی تمام پہلوئوں سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے تاکہ حقائق سامنے آئیں اور فوج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے والے شرپسند عناصر کو بے نقاب کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔سرحد یونیورسٹی کا واقعہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ اختلاف کو دشمنی، احتجاج کو ہنگامہ آرائی اور ایک فرد کے فعل کو پورے ادارے کے خلاف نفرت میں تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ نہ وردی قانون سے بالاتر ہو، نہ ہجوم قانون بنے اور نہ سوشل میڈیا عدالت کا کردار ادا کرے۔ حقائق سامنے آئیں، ذمہ داروں کا تعین ہو اور قانون سب کیلئے یکساں طور پر حرکت میں آئے۔ اسی میں عوام، اداروں اور ملک کا مفاد پوشیدہ ہے۔

تازہ ترین