• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر آپ نے زندگی میں کبھی محبت کی ہے تو آپ آدھے شاعر ہیں، یعنی آپ کے پاس شاعری کا خام مال تو موجود ہے، اس خام مال کو شاعری میں ڈھالنے کے لیے شاعری کا کرافٹ سیکھنا پڑتا ہے، غزل ہو یا نظم، بلکہ نثری نظم کے لیے بھی ایک خاص مشق درکار ہوا کرتی ہے۔ جب ہم کالج میں تھے تو اکثر دوستوں نے اپنی محبتوں کے اعزاز میں شاعری نما کچھ چیزیں کہی ہوتی تھیں۔ وہ خالص جذبات کا اظہار ہوتا تھا۔ وہ تڑپنے پھڑکنے کے رات دن گزر جاتے تو اکثر دوستوں کا شاعری کا شوق بھی اتر جاتا تھا اور وہ "نارمل" ہو جاتے تھے۔ ان اصحاب کو زندگی ہانک کے بے ڈھب راستوں پر لے جاتی ہے، یہ گرتے پڑتے، سنبھلتے کسی معاشی منزل پر پہنچ کر سانس لیتے ہیں، کچھ ہوش ٹھکانے آتے ہیں تو انہیں اپنا "معجزانہ کلام" بھی یاد آنے لگتا ہے، یعنی وہ غنچے جو بن کھلے مرجھا گئے۔ یہ خیالات ہمیں امریکا میں ایک مقامی فلائٹ کے دوران آ رہے ہیں۔ کیوں آ رہے ہیں؟ آج ہم جن جاں گسل مراحل سے گزرے تھے یہ انہی کا ثمر ہے۔آج صبح پروگرام یہ تھا کہ احمد مشتاق صاحب کے ساتھ دو تین گھنٹے گزاریں گے، انہیں گھر اتاریں گے، اور پھر ایک لنچ پر چلے جائیں گے۔ ہیوسٹن میں آخری دن تھا سو کچھ بھی کل پر نہیں ٹالا جا سکتا تھا۔ دونوں ملاقاتیں اسی ترتیب سے ممکن تھیں۔ احمد مشتاقؔ صاحب نے یک دم ملاقات کی ہامی بھری تھی سو بس اتنی ہی گنجائش تھی کہ لنچ ایک گھنٹا آگے کر دیا جائے، اور صبح اپنے پسندیدہ شاعر کے درشن کر لیے جائیں۔ ایک تجویز یہ بھی آئی کہ احمد مشتاقؔ صاحب کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بھی لنچ پر ہمارے ساتھ چلیں۔ لیکن اس میں ایک قباحت تھی۔ لنچ کے میزبان اور احمد مشتاقؔ صاحب دو مختلف سیاروں کے باشندے تھے، مختلف زبانیں بولتے تھے، مختلف حسیات رکھتے تھے، اور اندیشہ تھا کہ احمد مشتاقؔ صاحب کا دم رکنے لگے گا۔ اور ہمیں بھی لالچ تھا کہ ملاقات علاحدہ ہو تو شعر و سخن ہی موضوع رہے گا اور احمد مشتاق صاحب کو زیادہ سے زیادہ کریدیں گے، ان کے قد آور ہم عصروں کے قصے سنیں گے، ادب اور ادیبوں کو کھنگالیں گے۔الٹی ہو گئیں سب تدبیریں۔ حالات کے جبر نے ہمیں احمد مشتاقؔ صاحب سمیت لنچ پر پہنچا دیا۔ یہ ایک پرائیویٹ کلب کا فائن ڈائننگ ریستوران تھا۔ ہم نے احمد مشتاقؔ صاحب کو ہیڈ سیٹ پربٹھایا اور خود ان کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ ہمارے ساتھ خاور حسین اور ان سے آگے عباس تابش صاحب نشست فرما ہوئے۔ میز کے دوسری جانب ہمارے تین میزبان براجمان تھے۔ ہمارے میزبان اصحاب انتہائی خوش اخلاق، مہمان نواز اور ثروت مند واقع ہوئے تھے۔ شعر و سخن سے ان دوستوں کا اتنا ہی تعلق تھا جتنا میر تقی میرؔ کا پراپرٹی کے کام سے رہا ہو گا۔ میزبانوں کو یہ بتایا گیا تھا کہ احمد مشتاق ؔ کوئی معروف شاعر وغیرہ ہیں۔ نیوزی لینڈ کے سٹیک، ارجنٹائن کا بیف، ٹرکش لیمب اور جاپانی مچھلی کا ذکرِ خیر ہونے لگا۔ احمد مشتاقؔ صاحب کی پیشانی پر جلی حروف میں لکھا تھا " پھس گئی جان شکنجے اندر۔" آرڈر دینے لگے تو میزبان نے احتراماً سب سے پہلے احمد مشتاقؔ صاحب سے پوچھا جنہوں نے ابھی تک مینیو کارڈ کو چھوا تک نہیں تھا۔ "کچھ بھی" مشتاق صاحب کی آواز میں عدم دل چسپی تھی۔ ہم نے مشتاق صاحب کی زندگی آسان کرنے کیلئے ان سے پوچھا سلاد کھائیں گے۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ پتے نہیں کھاتے۔ "مچھلی کھائیں گے" ہم نے پوچھا۔ "کھا لاں گا" انہوں نے جواب دیا۔ آرڈر ہو گیا تو اصحابِ یمین و یسار کی باہمی دل چسپی کے موضوعات تمام ہو چکے تھے۔ ہم نے مشتاقؔ صاحب کے ساتھ کھسر پھسر شروع کر دی، پھر عباس تابش اور خاور صاحبان نے بھی اپنی اپنی کرسی کا رخ مشتاق صاحب کی طرف کر لیا۔ لنچ کے اختتام تک یہی منظر برقرار رہا، میزبان آپس میں گفتگو فرماتے رہے، مہمان آپس میں۔یکے از میزبانان، جنہوں نے بل ادا کیا، انہوں نے چلتے چلتے احمد مشتاقؔ صاحب سے غزل سنانے کی فرمائش کی۔ "فیر سہی" مشتاقؔ صاحب کا جواب تیار تھا۔ ان صاحب نے اپنا فون کھولا اور بلا تاخیر گویا ہوئے۔ "چلیے پھر میں آپ کو اپنے شعر سناتا ہوں، جوانی میں کبھی کہے تھے۔" مشتاق ؔ صاحب کچھ بڑبڑائے۔ شعراء کی صف میں سناٹا چھا گیا۔

اس سے پہلے کہ وہ صاحب شعر کے موتی رولتے ہم نے انہیں باز رکھنے کی آخری کوشش کی" ڈاکٹر صاحب، ہم شاعروں میں تو اتنی جرات نہیں کہ مشتاقؔ صاحب کو شعر سنائیں، آپ دیکھ لیں۔" انہوں نے ہماری بات ان سنی کی اور شروع ہو گئے۔ وہ شاعر نہیں تھے، متشاعر بھی نہیں تھے۔ وہ ایک اچھے آدمی تھے، جنہوں نے ابھی ابھی لگ بھگ 1500 ڈالر کا بِل ادا کیا تھا۔ ان کے "شعر" کے پہلے مصرع کا وزن جوش ملیح آبادی جتنا اور دوسرے کا جونؔ بھائی جتنا تھا۔ ایک "شعر" کے بعد کہنے لگے ایک اور سنیے۔ "خدا دا واسطہ جے" مشتاقؔ صاحب کا احتجاج اس بار ذرا بلند تھا۔ میزبان پر شیطان غالب آ چکا تھا۔ انہوں نے دوسرا "شعر" بھی اُگل دیا۔ ظہرانہ تمام ہوا۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے، دئیر از نو فری لنچ۔احمد مشتاقؔ گا ڑی میں بیٹھے تو آنکھیں بند کر کے یوں کراہنے لگے جیسے انہیں ہاکیوں سے زدوکوب کیا گیا ہے۔

تازہ ترین