• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کبھی ہمارے معاشرے میں کامیابی کا ایک انتہائی سادہ، آسان اور طے شدہ تصور ہوا کرتا تھا۔ والدین کی خواہش ہوتی تھی کہ بچہ خوب محنت سے پڑھے، کسی نامور اور معیاری یونیورسٹی سے اعلیٰ ڈگری حاصل کرے، پھر کسی بڑے سرکاری یا نجی ادارے میں ایک باعزت ملازمت حاصل کر لے اور بس! اس کے بعد یہ فرض کر لیا جاتا تھا کہ مستقبل ہمیشہ کے لیے محفوظ اور تابناک ہو چکا ہے لیکن آج کی دنیا اس پرانے نظریے سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ اب صرف ایک روایتی ڈگری حاصل کر لینا کسی صورت کامیابی کی حتمی ضمانت نہیں رہا۔ آج کا دور ہم سے ایک نیا سوال پوچھتا ہے۔ آج اصل سوال یہ نہیں کہ آپ نے کتنے سال پہلے کتنی تعلیم حاصل کی تھی، بلکہ تلخ اور بنیادی سوال یہ ہے کہ آپ نے اپنے علم، مہارت اور صلاحیت کو آخری مرتبہ کب اپ ڈیٹ کیا تھا؟

دنیا کی ممتاز اور تاریخی جامعات میں ہارورڈ یونیورسٹی کا نام ہمیشہ سرفہرست اور نمایاں رہا ہے۔ صدیوں سے یہ عظیم ادارہ علم و تحقیق، فکری تربیت اور قیادت کا ایک عالمی مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے فارغ التحصیل افراد نے سیاست، سائنس، طب، قانون، کاروبار اور معاشرتی علوم سمیت دنیا کے ہر شعبے میں گہرے نقوش چھوڑے۔ ہارورڈ بزنس ریویو بھی مینجمنٹ، جدید انتظام اور کاروباری فکر کے حوالے سے دنیا کے معتبر ترین جرائد میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم ہارورڈ کی مثال کو گہرائی سے سمجھیں، تو اس کا سب سے اہم سبق اس کی عظیم الشان عمارتیں، اس کے نامور پروفیسرز یا اس کی دی جانے والی ڈگریاں نہیں ہیں، بلکہ اس کا اصل سبق مسلسل سیکھنے کا رویہ ہے۔

کاروباری اور تعلیمی دنیا میں اکثر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ ڈگری کی شیلف لائف صرف پانچ سال ہوتی ہے۔ اگرچہ اسے کسی حتمی سائنسی قانون کے طور پر لینا درست نہیں، کیونکہ ہر شعبے میں علم کی تبدیلی کی رفتار ایک جیسی نہیں ہوتی، مگر اس جملے میں ایک گہری اور تلخ حقیقت ضرور چھپی ہے۔ ڈگری کا کاغذ پرانا نہیں ہوتا، لیکن اس ڈگری کو حاصل کرتے وقت جو علم، تکنیک اور مہارتیں آپ نے سیکھی تھیں، اگر انہیں وقت کے ساتھ مسلسل تازہ نہ کیا جائے، تو ان کی عملی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔

اس کی مثالیں ہمارے گرد و پیش میں بکھری پڑی ہیں۔ ایک سافٹ ویئر انجینئر جو دس سال پہلے سیکھی ہوئی کسی پرانی پروگرامنگ لینگویج کے سہارے جی رہا ہو، وہ آج کی جدید اور تیز ترین ٹیکنالوجی کی دنیا کا مقابلہ ہرگز نہیں کر سکتا۔ ایک ڈاکٹر اگر روزانہ ہونے والی نئی تحقیقات، جدید ادویات، اور جدید ترین تشخیصی طریقوں سے بے خبر رہے، تو اس کے پاس موجود بیس سال پرانی ڈگری اسے جدید طب کا ماہر نہیں بنا سکتی۔ اسی طرح ایک استاد، جو تعلیم دینے کے جدید طریقوں، ڈیجیٹل ذرائع اور مصنوعی ذہانت سے ناواقف ہو، وہ آج کی جدید اور باریک بین نسل کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے میں مشکلات محسوس کرے گا۔

یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اصل مسئلہ ڈگری کا نہیں، بلکہ ہمارے ذہنوں کا جمود ہے۔ہمارے معاشرے کی ایک بہت بڑی اجتماعی اور فکری کمزوری یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو صرف نوکری حاصل کرنے کے ایک وسیلے تک محدود کر دیا ہے۔ بچہ اسکول اور کالج جاتا ہے، امتحان پاس کرتا ہے، ڈگری کا کاغذ ہاتھ میں لیتا ہے، ملازمت حاصل کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اپنی کتابیں ہمیشہ کے لیے بند کر دیتا ہے۔ گویا تعلیم کا جو اصل مقصد تھا، وہ نوکری کے تقرر نامے کے ساتھ ہی پورا ہو گیا۔ یہ جمود زدہ سوچ صرف ایک فرد کی ذات کے لیے نقصان دہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس ادارے کے لیے، اور بالآخر پوری قوم کی معاشی و اخلاقی پیشرفت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔

نوکری ملنے کے بعد ہم میں سے اکثریت روایتی انداز پر کام کرنے کی عادی ہو جاتی ہے۔ ہم ملازمت کو ایک تخلیقی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے صرف ایک روزمرہ کا معمول بنا لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دنیا تکنیکی اور فکری لحاظ سے بہت آگے نکل جاتی ہے اور ہم اپنے دفتری کمروں میں پرانے اور فرسودہ طریقوں کی محافظت میں مصروف رہتے ہیں۔ اگر آج بھی کسی ادارے میں دہائیوں پرانی ٹیکنالوجی، کاغذی کارروائی کی غیر ضروری پیچیدگیاں اور فرسودہ طریقہ کار صرف اس لیے جاری ہیں کہ ہم تو ہمیشہ سے ایسا ہی کرتے آئے ہیں، تو یاد رکھیے کہ مسئلہ صلاحیت کا نہیں، بلکہ سوچ اور ذہنیت کا ہے۔ریلوے، آبپاشی، زراعت، صنعتی پیداوار، خوراک کی منتقلی و تحفظ، اور سرکاری اداروں کا نظام دنیا بھر میں ان تمام شعبوں نے جدید تحقیق، آٹومیشن، ڈیٹا اینالیٹکس اور ٹیکنالوجی کو اپنا کر کمال حاصل کیا ہے۔ لیکن ہم نے جہاں جہاں تبدیلی اور جدت کو قبول کرنے سے انکار کیا، وہاں ہماری ترقی کی رفتار سست سے سست تر ہوتی چلی گئی۔

اس بدلے ہوئے عالمی منظرنامے میں مصنوعی ذہانت ایک نئے اور بے مثال انقلاب کی بنیاد رکھ چکی ہے۔جہاں مصنوعی ذہانت میں بے پناہ امکانات چھپے ہیں، وہیں اس کے سنجیدہ خطرات بھی ہیں۔ اس لیے، مستقبل کا کامیاب اور باوقار انسان وہ نہیں ہوگا جو اپنا ہر کام آنکھیں بند کر کے ٹیکنالوجی کے حوالے کر دے گا۔ بلکہ کامیاب انسان وہ ہوگا جو یہ باریکی سے جانتا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت سے کون سا کام اور کیسے کروانا ہے، کون سا کام اپنی انسانی عقل اور تخلیق سے خود کرنا ہے، اور ٹیکنالوجی کے دیے گئے جوابات اور ڈیٹا کی جانچ پڑتال کس طرح کرنی ہے۔ یہ سنہری اصول ہمیشہ یاد رکھیے کہ ڈگری آپ کے لیے روزگار کا پہلا دروازہ تو کھول سکتی ہے، لیکن مسلسل حاصل کیا جانے والا نیا علم ہی انسان کو مستقبل کی بدلتی دنیا میں قابلِ قدر اور باصلاحیت رکھتا ہے۔ اور شاید آج ہمیں اپنی کاغذ کی ڈگری سے زیادہ، اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارا علم اور ہماری سوچ بھی وقت کے ساتھ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے؟

تازہ ترین