زاہد یعقوب عامر
یہ ستمبر 2005کی بات ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سےواہگہ بارڈر کے راستے پاکستانی سول قیدیوں کا ایک گروپ پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا۔ وہی انداز جو ہمیں اکثر میڈیا پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ مچھیرے۔۔۔ غلطی سے بارڈر پار کر جانے والے ۔۔۔کچھ اسمگلرز۔۔۔دونوں طرف سے کیمرے میں محفوظ کیے جانے والے مناظر اور دنیا کو دکھانے کے لیے امن کے پیغام۔۔۔ ایسے میں خالی ہاتھوں، الجھے بالوں، ناتواں جسم اور عجیب و غریب سے حلیے والا ایک قیدی بھی ان کے ساتھ ہے۔ جذبات سے عاری چہرہ۔۔۔ پوچھنے پر کچھ نہ بتا پایا۔
اشارے سے زباں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کٹی ہوئی زبان اہل کاروں کو نظر آتی ہے۔ زبان کی طرف دیکھنے والے اہل کاروں کے احساسات دیکھ کر اس قیدی کے چہرے پر بھی ایک مسکراہٹ ابھرتی ہے۔۔۔آنکھوں میں عجیب سی چمک نظر آتی ہے۔
ضروری کاروائی مکمل کی جاتی ہے.تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا گیا۔وہ اپنی اپنی منزل کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس قیدی سے ضروری پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ وہ کچھ نہ بتا پایا۔ حکام اس شخص کے بارے میں فیصلہ کرنے سے قاصر تھے۔ اس صورت حال کے پیش نظر اسے بلقیس ایدھی سینٹر بھجوا دیا گیا۔
اخبارات میں اشتہارات دیےگئے۔ مقبول حسین کی ایک بہن حیات تھیں، جن کا ایک بیٹا فوج سے ریٹائرڈ ہوچکا تھا۔ اسے خبر ملی کہ بھارت کی طرف سے آنے والے قیدیوں میں اپنے ماموں کو تلاش کر سکتے ہو۔ بشارت حسین نے تمام عمر اپنی ماں سے مقبول حسین کے بارے میں سنا تھا۔
وہ اس کا سچا ہیرو تھا۔ انہوں نے کبھی یقین نہیں کیا تھا کہ مقبول حسین اس دنیا میں نہیں ہے۔ بشارت ایدھی سینٹر پہنچا اور اس نے مقبول حسین کو دیکھا۔اس کی تصویر والدہ کو دکھائی اور اسے مختلف علامات اور نشانات سے پہچان لیا گیا۔
سپاہی مقبول کے عزیز محمد شریف27ستمبر2005کو انہیں بلقیس ایدھی ہوم سے ان کے آبائی گاؤں ناریاں، تراڑ کھل، ضلع سندھنوتی، آزادکشمیر لے گئے۔ پھر ایک انکشاف تمام پاکستان کے لیے کسی کرامت سے کم نہیں تھا۔ یہ نیم پاگل نظر آنے والا شخص، سپاہی مقبول حسین تھا۔
کشمیر میں ہونے والے آپریشن کاسپاہی،جو دشمن کی قید میں زندگی کے چالیس برس گزار کر اپنی دھرتی ماں پر واپس پہنچا تھا۔ اس دعوے کے پیش نظر مقبول حسین کو کشمیر رجمنٹل سنٹر لایااور کمانڈنٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے ایک نوجوان فوجی کی طرح کمانڈر کوسیلوٹ کیا اور ایک کاغذ پر یہ نمبر لکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’330139‘‘
کمانڈنٹ کو کٹی ہوئی زبان والے شخص کے بارے میں اتنا ہی تجسس تھا، جس قدر تجسس کا اظہار دوسرے لوگ کر رہے تھے۔ کمانڈنٹ کے حکم پر قیدی کے لکھے ہوئے نمبر کی مدد سے جب ایک پرانی فائل کھولی گئ تو یہ واقعی سپاہی مقبول حسین تھا۔ وہ مقبول جسے جنگ کے دوران نہ ملنے کے سبب ایک مخصوص وقت کے بعد شہید قرار دے دیا گیا تھا۔
وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن کے علاقے میں اسلحے کے ایک ڈپو کو تباہ کر کے واپس آ رہا تھا کہ اسی دوران اس کی دشمن سے جھڑپ ہو گئی۔ سپاہی مقبول حسین پشت پر وائرلیس سیٹ اٹھائے ہوئے تھا اور افسران کے لیے پیغام رسائی کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ہاتھ میں اٹھائی ہوئی مشین گن سے دشمن کا مقابلہ بھی کر رہاتھا۔ اسی دوران وہ مقابلے میں زخمی ہو گیا۔
سپاہی اسے اٹھا کر واپس لانے لگے، مگر ساتھیوں کی حفاظت اور مشکلات کا سوچ کر مقبول حسین نے خود کو ایک کھائی میں گرا لیا۔ ساتھی اسے تلاش کرتے رہے، لیکن وہ آنے والے دشمن کو روکنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ساتھی جب اسے نہ ڈھونڈ سکے تو آگے بڑھ گئے اور پھر مقبول حسین نے اپنی مشین گن سے دشمن کو مسلسل الجھائے رکھا۔ اسی دوران اسے مزید گولیاں لگیں اور وہ دشمن کے ہاتھوں جنگی قیدی بن گیا۔
جب جنگ ختم ہوئی تو دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ ہوا۔ اس دوران بھارت نے کہیں بھی سپاہی مقبول حسین کا ذکر نہ کیا ۔ اس لیے پاک فوج نے بھی سپاہی مقبول حسین کو شہید تصور کر لیا۔ یادگارِ شہداء پر بھی اس کا نام کندہ کر دیا گیا۔
بھارتی افواج نے مقبول حسین پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے، اسے چارفیٹ کی کوٹھری میں بند کرکے تشدد اور اذیت سے دوچار کیا گیا۔ پاؤں سے ناخن اورمنہ سے دانت اکھاڑ دیے گئے۔ لیکن اس کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہوتا۔۔۔پاکستان زندہ باد۔ وہ اسے مجبور کرتے کہ پاکستان کو بُرا، بھلا کہو۔۔۔ مگر اس کی زباں پر صرف اپنے وطنِ عزیز کا نعرہ ہوتا۔۔۔۔پاکستان زندہ باد۔