فیروز الدین احمد فریدی
ان سطور کی ابتدا، ایک عاشق ِرسول ﷺ کے ایک خط کے چند الفاظ سے ہے جو پچھلی صدی کی تیسری دہائی کے آغاز میں لکھا گیا۔ یہ صاحب، بحری جہاز میں ہندوستان سے انگلستان جارہے تھے۔ مہینہ ستمبر کا تھا، سال 1931 ء۔جب جہاز عدن کے قریب پہنچا اور بحیرۂ عرب کی نرم موجوں پر تیرتی ہوئی ان کی نظر پہلی بار جزیرہ نمائے عرب کی زمین پر پڑی تو قلب میں طوفان بپا ہوگیا اور جس طرح صدف کے منہ میں قطرہ آب ٹپک کر گہر ِآب دار بن جاتا ہے، ان کے قلم سے یہ 43؍ الفاظ یکے بعد دیگرے موتیوں کی مانند ٹپکے اور انمول ہوگئے: ’’اے عرب کی سرزمین تو ایک پتھر تھی جسے دنیا کے معماروں نےزد کردیا تھا ، مگر ایک یتیم بچےﷺ نے خدا جانے تجھ پر کیا افسوں پڑھ دیا کہ موجودہ دنیا کی تہذیب و تمدن کی بنیاد تجھ پر رکھی گئی ‘‘۔
یہ مختصر سیدھے سادے ،دل نشین الفاظ نہ صرف عشق و عقیدت سے شرابور ہیں، بلکہ تایخ کی ایک لازوال حقیقت کےترجمان بھی ہیں ،ان لازوال الفاظ کے مرتب و معمار کا نام تھا محمد اقبالؒ۔
دنیا میں کم لوگ ایسے گزرے ہیں جنہیں مہد سے لحد تک اتنے مصائب، مشکلات اور مہمات کا سامنا کرنا پڑا ہو، جتنے محمد ﷺ کو اپنی مختصر دُنیاوی زندگی میں پیش آئیں جو قمری تقویم کے حساب سے ۶۳ / اور عیسوی کیلنڈر کے مطابق ۶۱ / برسوں پر محیط رہی۔ ماں کے پیٹ میں تھے کہ باپ چل بسے۔ چھ برس کے ہوئے تھے کہ ماں کی گود سے محروم ہو گئے۔ نو برس کے تھے کہ سرپرست دادا اللہ کو پیارے ہوئے۔
چچا کی سرپرستی میں آئے تو چچاکی مالی حالت پہلے ہی سے زبوں تھی اور اس طرح دنیا کا عظیم ترین انسانﷺ جس سے ربّ ذوالجلال کو رہتی دنیا تک انسانوں کی گلہ بانی کا کام لینا تھا، مکے کے گرد واقع جھلسی ہوئی سیاہ پہاڑیوں، خشک ٹیلوں اور گرم صحراؤں میں مویشیوں کی گلہ بانی کرتا رہا۔ ان حالات میں جنم لینے والے گم نامی میں پیدا ہوتے، گم نامی میں زندگی کی سانسیں پوری کرتے، اور گم نامی میں ہی مر جاتے ہیں، اور ان کی موت کے چند برس، بلکہ بعض اوقات چند ماہ بعد ، خود ان کی اپنی اولا د بھی انہیں بھولنے لگتی ہے۔ لیکن مکے کے اس یتیم بچے کے لیے لوح محفوظ میں درج تھا:وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ"ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا "۔
یہ اللہ کا حکم تھا جو آسمانوں پر لکھا ہوا تھا اور وقت آنے پر، جب اس حکم اور فیصلے کا اعلان، عرب کی زمین پر، ایک ایسے انسان ﷺ کی زبان سے کرایا گیا جو رسمی تعلیم سے محروم تھا تو وہ وقت اس انسانﷺ کی زندگی کا سخت ترین دور تھا۔ دوست چند، مخالف دو چند اور مصائب دہ چند۔ اُس وقت اُن مٹھی بھر دوستوں کو چھوڑ کر باقی سب نے یہی سوچا، یا کہا ہوگا کہ لوسنا تم نے ،کیسی نا قابلِ یقین بات کہی جارہی ہے، لیکن جب صاحبِ کُن فَيکُون ایک بار حکم دیتا ہے کہ ’’ہو جا ‘‘تو انہونی باتیں آناً فاناً ہو جاتی ہیں۔
چند برسوں میں یہ نا قابل یقین بات حقیقت بن گئی اور وہ ذکر جو عقبہ کی گھاٹیوں اور فاران کی چوٹیوں سے بلند ہوا تھا ،پورے جزیرہ نمائے عرب پر چھا گیا۔ سال صدیاں بنتے گئے ۔ آج چودہ صدیاں بیت چکی ہیں۔ میں نے اپنے گناہ گار کانوں سے آسٹریلیا کے مغربی ساحل پر بھی یہ ذکر بلند ہوتے سنا۔ سوئٹزرلینڈ کے برف پوش پہاڑوں کے دامن میں بھی انسانوں کو یہ گواہی دیتے اور پہاڑوں کو اسے دُہراتے سنا۔
افریقہ کے ریگ زاروں اور انگلستان کے سبزہ زاروں، اسپین کے کلیساؤں اور امریکہ کی وسعتوں میں بھی اس پاک ذکر کو اپنی پوری رعنائیوں سے جلوہ گر دیکھا۔ بھلا اس بندے حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے ذکر کی رفعتوں کا کیا ٹھکانا جس پر خود اس کا آقا اور مولا سلام بھیجے۔ یہی تو وہ ایک کام ہے جس میں عبد کے ساتھ معبود اور مخلوق کے ساتھ خالق بھی برابر کا شریک ہے۔
محمدﷺ جب غارِ حرا میں داخل ہوئے تو محمد بن عبداللہ تھے، جب نکلے تو محمد رسول اللہ ﷺ تھے، لیکن تفویض رسالت سے پہلے بھی، محمد بن عبد اللہ کی زندگی کا محور اللہ کی ذات تھی جو منصب رسالت پر فائز ہونے کے بعد، اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے ، کھاتے پیتے، ان کی رگ رگ، روئیں روئیں اور نفس نفس میں سما چکا تھا۔
”من تو شدم تو من شدی ‘‘کی اس سے مکمل عملی تفسیر دنیا کبھی پیش نہ کر سکے گی۔ قرآن پڑھیں تو بعض جگہ یوں لگتا ہے جیسے دو دوستوں میں دل کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کہیں محبت کا اظہار ہو رہا ہے، کہیں تسلی دی جارہی ہے، کہیں تعریف کی جارہی ہے، کہیں خوش خبری دی جارہی ہے،کہیں دوستﷺ پر سلام بھیجا جا رہا ہے۔ سلام بھیجنے والا کون؟ اور دوست ﷺ بھی کیسا !
محمدﷺ دیکھنے میں تو گوشت پوست کے ایک انسان لگتے تھے، لیکن حقیقت میں اللہ کا ایک جامع پروگرام تھے جو کمپیوٹر کے پروگرام کی طرح اُن کے دل، دماغ اور روح میں جذب کر دیا گیا تھا اور انہیں ہر لمحے کنٹرول کرتا ، کیوں کہ انہیں بھیجنے والے نے اس مبارک ہستی ﷺکو ایک خاص مقصد کے لیے اس جہانِ فانی میں بھیجا تھا۔ ان کا ہر قول اور ہر فعل اللہ کی طرف سے تھا اور انہیں بھی علم تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ جب یہ فیصلہ کرنے کا وقت آیا کہ وہ ﷺ مدینے میں کس کے مہمان ہوں گے تو زبان سے نکلا کہ جہاں بھی میری اونٹنی بیٹھ جائے۔
اونٹنی جہاں بیٹھی، وہاں ایک نالے، چند قبروں، کچھ درختوں اور چھوارے بنانے کے چند چبوتروں کے سوا کچھ نہ تھا، لیکن اونٹنی کے بیٹھنے کے بعد، چودہ سو برس سے، لاکھوں نہیں، کروڑوں نہیں، اربوں کی تعداد میں دنیا کے ہر کونے سے، ہر عمر، رنگ، زبان، ملک اور قوم کے انسان، ہر قسم کی سواریاں دوڑاتے، اس مختصر سی جگہ کی ایک ہلکی سی جھلک دیکھنے کے لیے رواں دواں رہے ہیں اور انسان کی بات محض اس لیے کی جارہی ہے کہ انسانی آنکھ ابھی انسانوں کو ہی دیکھ سکتی ہے۔
اسی طرح چند برس بعد جب حدیبیہ کے مقام پر فیصلہ کرنا تھا کہ اسلامی لشکر کہاں پڑاؤ ڈالے تو پھر یہی فرمایا کہ جہاں میری اونٹنی بیٹھ جائے۔ اونٹنی جہاں بیٹھی وہاں پانی سواری کے لیے تھا، نہ سواروں کے لیے۔ ساتھیوں کو قدرتی طور پر تشویش ہوئی، لیکن اونٹنی سوار ﷺ کے اترتے ہی پانی بھی مل گیا اور وہ معاہدہ بھی ترتیب پایا جسے رب العالمین نے ”فتح مبین‘‘ قرار دیا۔ فیصلہ اونٹنی کر رہی تھی نہ وہ ﷺ۔
فیصلہ تو کوئی اور ہی کر رہا تھا! سچ تو یہ ہے ..... ہر چند ہر سچ کی طرح اس سچ میں بھی مشکل بہت ہے ...... کہ جب انسان اللہ کا ہو جاتا ہے تو اللہ اس کا ہو جاتا ہے۔ پھر انسان کے ہاتھ میں اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اللہ کے فیصلے انسان کے فیصلے ہو جاتے ہیں اور انسان کے فیصلے اللہ کے فیصلے بن جاتے ہیں۔
محمد ﷺ کی زندگی اللہ کے کلام کے مطابق اُسوۂ حسنہ تھی۔ قرآن کے الفاظ میں آپ ﷺ اخلاق کے اعلیٰ مرتبے پرفائز تھے۔ رسول اکرمﷺ کی محبوب ترین بیوی عائشہؓ کے الفاظ میں قرآن آپ ﷺ کا اخلاق تھا۔ ایک قرآن وہ ہے جسے ہم اور آپ دیکھتے، سنتے اور پڑھتے ہیں۔ ایک قرآن وہ تھا جو مکے کے بازاروں اور مدینے کی گلیوں میں گشت کرتا تھا۔
جو خانہ کعبہ میں ملتزم سے لپٹ کر، بچوں کی طرح بلک بلک کر روتا تھا۔ جو تپتے بخار کی حالت میں، رات رات بھر ، جنت البقیع میں، اپنے امتیوں کی قبروں پر گڑ گڑا، گڑ گڑا کر ان کے لیے دُعائے مغفرت کیا کرتا تھا۔ جو معصوم بچوں کو کبھی اپنے سینے سے چمٹاتا، تو کبھی ان کے لیے سواری بن جاتا۔ مبارک ہیں وہ آنکھیں جنہوں نے اسے دیکھا۔
مبارک ہیں وہ کان جنہوں نے وہ پیاری آواز سنی۔ مبارک ہیں وہ دل جن کی دھڑکنوں میں وہ آج بھی بس رہے ہیں۔ ان سے بڑا انسان ان سے پہلے پیدا ہوا، نہ ان ﷺ کے بعد پیدا ہوا، اور نہ کبھی ہوگا۔ آپ ﷺنہ صرف خاتم النبیین تھے، بلکہ رحمۃ للعالمین بھی تھے اور یہ الفاظ خود رب العالمین کے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے حبیب ﷺ کا ذکر ہی بلند نہیں کیا، بلکہ جس نے بھی اللہ کے حبیبﷺ کو اپنا محبوب جانا ، اس کا بھی ذکر بلند کیا۔ حبشی بلال کو ویسے بھلا کون جانتا اور موذّن اسلام بلالؓ کو کون مسلمان ہے جو نہیں جانتا۔ ابو بکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی شہرت اگر ہوتی بھی تو صرف اپنے اپنے قبیلے، علاقے یا زمانے تک محدود رہتی، لیکن یہ اس یتیم بچے ﷺ کی مقناطیسی قوت اور کیمیا گری کا ہی اثر تھا کہ جو بھی کھنچا چلا آیا ، نام پا گیا ، اور جو جتنا قریب آتا گیا، اس کے نام کو اس جہاں میں اتنی ہی جلا ملی اور دو جہاں میں اتنا ہی اونچا مقام ملا۔
وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ کا اس سے بڑا جیتا جاگتا اور مستند ثبوت بھلا اور کیا ہوسکتا ہے؟ یہ ذکر کل بھی بلند تھا ، آج بھی بلند ہے اور انشاء اللہ کل بھی بلند رہے گا۔ یہ ذکر ازل سے بلند ہے اور ابد تک بلند رہے گا۔ یہ ذکر اس گھڑی تک بلند رہے گا جب تک اللہ کا نام بلند ہے، اور اس وقت تک موجود رہے گا جب تک اللہ موجود ہے، اور اللہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہےگا۔ اس ذکر کو بلند کرنے کے لیے بلند آواز ضروری نہیں، بلند دعوے درکار نہیں۔
جو بھی سچے دل اور صحیح عقیدے سے ایک بار خود کو اس سے وابستہ کر دے گا ،وہ اس کا حصہ بن جائے گا۔ یہ ذکر بلند سے بلند تر ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا، کیوں کہ اس کی جبلت میں بلند ہونا ہے، اور اپنے وابستگان کو بھی بلند سے بلند تر کرتا رہے گا، کیوں کہ اسے بلند کرنے کا ذمہ اُس نے لیا ہے جو کا ئنات کی ہر شے سے بلند و برتر ہے۔وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا“
اس تحریر کا آغاز ایک عاشقِ رسول ﷺکی عشق و عقیدت سے شرابور نثری تحریر سے ہوا تھا۔ مناسب لگتا ہے کہ اس کا اختتام بھی اسی کی عشق و مستی میں ڈوبی ہوئی شعری تحریر سے ہو:
وہ دانائے سُبل، ختم الرُسل، مولائے کُل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ