• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’۱۹۵۳ء کی تحریک ِختم نبوت کے بعد ایک سرکاری افسر نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر، امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے طنزاً کہا: ’’شاہ جی! وہ آپ کی تحریک کا کیا ہوا؟‘‘ فرمایا: ’’میں نے اس تحریک کے ذریعے ایک ’’ٹائم بم‘‘ مسلمانوں کے دلوں کی زمین میں چھپا دیا ہے، جب وہ اپنے وقت پر پھٹے گا تو قادیانیوں کو اقتدار کی کوئی طاقت تباہی و بربادی سے نہیں بچا سکے گی۔ہم دیکھتے ہیں کہ ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کو یہ ’’ٹائم بم‘‘ خود قادیانیوں کے ہاتھوں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پھٹا، جس سے قادیانیت کے ایوان میں زلزلہ آیا، قادیانیوں کے قصر خلافت ربوہ پر مایوسیوں کے بادل منڈلاتے رہے اور سات ستمبر ۱۹۷۴ء کو جب مطلع صاف ہوا تو دنیا نے دیکھا کہ قادیانیت کا مصنوعی سورج اسلامی اُفق سے غروب ہوچکا ہے اور آئین پاکستان میں قادیانیت کا نام غیر مسلم اقلیتوں کی فہرست میں سکھوں، ہندوؤں اور اچھوتوں کے ساتھ درج ہے اور دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ امریکہ سے برطانیہ تک اقتدار کی کوئی طاقت قادیانیوں کو اس انجام بد سے نہ بچاسکی‘‘۔(تحفۂ قادیانیت، جلد اول، ص ۲۰۴)

۷؍ستمبر ۱۹۷۴ کو آئین میں ترمیم کی گئی اور قادیانیوں کو باقاعدہ آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا اور یہ اس عظیم تحریک کے نتیجے میں ہوا جو ۲۹؍ مئی کے حادثے کے بعد شروع ہوئی تھی ، ۲۹ ؍ مئی سے سات ستمبر تک تقریباً سو دن بنتے ہیں، برصغیر کی تاریخ مین یہ سو دن سو سال کے برابر ہیں اور بر صغیر نے شاید ہی کوئی مذہبی تحریک اس سے زیادہ پُر امن اور عظیم دیکھی ہو، اس تحریک کا مختصر خلاصہ یہ ہے۔

۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کا حادثہ:۔ اس دن شیطان نے قادیانیت کے روپ میں جارحانہ و سنگدلانہ کھیل کھیلا، ٹرین ربوہ (موجود چناب نگر ) اسٹیشن پہنچی توقادیانی غنڈوں نے ٹرین میں سوار نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبا کے ڈبے کا دونوں اطراف سے گھیراؤ کرلیا اور طلباء پر آہنی سلاخوں، لوہے کے تاروں ، آہنی پنجوں سے حملہ کردیا، طلبا کو خوب مارا پیٹا، انہیں لہو لہان کردیا ،ان کے کپڑے پھاڑ دئیے، جسم زخموں سے چور چور ہوگئے، ان کا سامان لوٹ لیا گیا، یہ سب کچھ مرزا طاہر کی سربراہی میں ہوا۔ٹرین فیصل آباد (اس وقت لائل پور) پہنچی تو چونکہ ختم نبوت کے راہنماؤں تک واقعہ کی اطلاع پہنچ چکی تھی اس لیے ٹرین روک کر درجِ ذیل مطالبات انتظامیہ کے سامنے رکھے گئے:

۱)اس سانحے کی ہائی کورٹ سے تحقیق کروائی جائے۔۲)اس سانحے میں شریک تمام ملزمان بشمول اسٹیشن ماسٹر ربوہ ونشتر آباد کوگرفتار کیاجائے۔۳)اس سانحے کے تمام ملزمان کو کڑی سزادی جائے۔ضلع کے اسٹیشن پر موجود ڈپٹی کمشنر نے چیف سیکریٹری کو فون کیا اور مطالبات ان کے سامنے پیش کیے ، انہوں نے فون پر ہی مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کروائی ۔ اسی دن شام کوالخیام لائل پور میں پریس کانفرنس کی گئی، جس میں اخباری نمائندوں کے سامنے واقعہ کی پوری تفصیل بیان کی گئی اور اگلے روز فیصل آباد شہر میں ہڑتال اور جلسہ کا اعلان کیا گیا۔

۳۰؍مئی۱۹۷۴ء کو پورے فیصل آباد، سرگودھا میں مکمل ہڑتال ہوئی، اس کے علاوہ ساہیوال ، جھنگ ، چک جھمرہ، منڈی بہاؤ الدین ، خانیوال، جڑانوالہ اور آس پاس کے شہروں میں بھی ہڑتال ہوئی، بازار بند رہے۔۳۰؍مئی کو ہی ملتان میں تمام دینی جماعتوں کا اجلاس ہوا، مشترکہ اجلاس میں قرار داد مذمت پاس کی گئی۔

۳۱؍ مئی ۱۹۷۴ء کو وزیر اعلیٰ پنجاب محمد حنیف رامے نے لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس کے۔ایم۔ صمدانی (خواجہ محمد احمد صمدانی) پر مشتمل ایک رکنی ٹریبونل کا اعلان کیا جو اس واقعے کی تحقیق کرکے ذمہ داروں کا تعین کرے۔ ٹریبونل کو ہدایت کی گئی کہ وہ آج سے ہی کام شروع کردے۔

یکم جون ۱۹۷۴ء :پنجاب اسمبلی میں اس وقت ہنگامہ ہوگیا ،جب اسپیکر نے وزیر اعلیٰ کی یقین دہانی کے بعد حزب اختلاف کے سات اراکین کی طرف سے پیش کردہ التواء کی تحریکوں پر بحث کی اجازت نہیں دی۔ یکم جون کو جمعیت علمائے اسلام گوجرہ کے زیر اہتمام عظیم الشان جلسۂ عام منعقد ہوا، جس میں دیگر مقررین کے علاوہ مولانا مفتی محمود ؒنے بھی خطاب فرمایا، اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔

۳؍جون۱۹۷۴ء کو علامہ سیّد محمد یوسف بنوریؒ نے علمائے کرام اور مختلف جماعتوں کا ایک نمائندہ اجتماع راولپنڈی میں طلب کیا، اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ۹؍جون کو لاہور میں مجلس عمل کا اجلاس بلایا جائے۔

۳؍ جون ۱۹۷۴ء کی صبح مولانا عبید اللہ انور کے ہاں اندرون شیرانوالہ گیٹ ، مختلف سیاسی اور دینی جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ پریس کانفرنس میں مختلف دینی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

۳؍ جون کو وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان کی حکومت احمدی نہیں ہے۔ یہ صحیح معنوں میں عوام کی منتخب حکومت ہے، ہمارا مذہب اسلام ہے،چنانچہ احمدیوں کا مسئلہ ایوان میں زیر بحث لانے کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں۔

۴؍ جون ۱۹۷۴ء کو مجلس عمل کے زیر اہتمام مسجد وزیر خان لاہور میں پانچ بجے شام جلسہ کا اعلان کیا گیا، اس جلسہ کے اعلان کے ہوتے ہی اسے روکنے کے لیے حکومت نے ۳؍ جون کی رات سے ہی مساجد میں مسئلۂ ختم نبوت کے اظہار پر پابندی لگادی۔ جلسہ سے قبل ہی علماء و زعماء اور تحریک کے رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا۔ لاہور کی فضا میں شدت و حدّت دیکھ کر رات گئے ان تمام حضرات کو رہا کردیا گیا۔

۷؍ جون ۱۹۷۴ء کو وزیر اعلیٰ پنجاب نے علماء اور مساجد کے ائمہ کو اپنے یہاں بلایا اور ان سے انتہائی جذباتی انداز میں اپیل کی کہ وہ امن و امان بحال رکھنے میں حکومت سے تعاون کریں۔ علّامہ احسان الٰہی ظہیر، اوردووسرے علماء نے وزیر اعلیٰ پر واضح کردیا کہ ہم امن و امان کو برقرار رکھیں گے، مگر قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے، ربوہ کو کھلا شہر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلمانوں کے بنیادی مطالبات ہیں۔

۹؍ جون ۱۹۷۴ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر سیاسی ودینی جماعتوں کا اجلاس جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں منعقد ہوا، جس میں بیس جماعتوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس اجلاس میں درجِ ذیل فیصلے ہوئے:مولانا محمد یوسف بنوری کو آل پارٹیز مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا کنوینر بنایا گیا۔۱۴؍ جون کو فیصل آباد میں اجلاس بلایا گیا، جس میں مجلس عمل کا مستقل انتخاب ہوگا۔۱۴؍ جون کو ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔

اس اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ہر جماعت اپنے دو نمائندے نامزد کرے، علّامہ بنوریؒ اور مولانا عبدالستار نیازیؒ نے پریس کانفرنس میں کنونشن کے درجِ ذیل مطالبوں کا اعلان کیا:صدر اور وزیر اعظم کے حلف کو پیش نظر رکھتے ہوئے قادیانی فرقے کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ قادیانیوں کو کلیدی اسامیوں سے فوراً ہٹایا جائے۔ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ امیر جماعت احمدیہ مرزا ناصر احمد اور خدام احمدیہ کے ذمہ دار افراد کو گرفتار کیا جائے۔

ختم نبوت کے اکابرین نے اجلاس سے فارغ ہوکر عام کارکنوں کو درج ذیل ہدایات دیں:ہمارا دشمن صرف قادیانی ہے اس کا خیال رکھیں، حکومت سے تصادم نہ ہونے پائے۔ قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے۔۱۴؍ جون کی ہڑتال کو کامیاب بنایا جائے۔ اس وقت کے وزیر اعظم نے حالات کی نزاکت کوسمجھتے ہوئے مجلس عمل کے راہنماؤں سے فرداً فرداً ملاقات کا سلسلہ شروع کیا، سب سے پہلے بھٹو صاحب نے آغا شورش کاشمیری سے ملاقات کی۔

۱۱؍ جون ۱۹۷۴ء کو لاہور میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا مشترکہ اجلاس ہوا، جس میں آغا شورش کاشمیری نے بھی شرکت کی اور بھٹو صاحب سے ملاقات کے احوال سے آگاہ کیا۔ بھٹو صاحب نے فرداً فرداً مجلس عمل کے راہنماؤں سے ملاقات کی۔ ان میں مولانا عبید اللہ انور، نواب زادہ نصر اللہ خان، میاں طفیل محمد ، مولانا مظفر علی شمسی ، مولانا ظفر احمد انصاری، مفتی زین العابدین، حکیم عبد الرحیم اشرف اور حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہم اللہ شامل تھے۔ ۱۲؍ جون ۱۹۷۴ءکو مجلس عمل کا نواب زادہ نصر اللہ خان کے دفتر میں اجلاس ہوا۔

جس میں وزیر اعظم بھٹو کے ساتھ مجلس کے راہنماؤں کے مذاکرات پر غورکیا گیا ۔ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ مجلس عمل کے مطالبہ کے باوجود قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے ۱۴؍ جون کی ہڑتال ملتوی نہیں ہوگی۔ 

مجلس عمل نے دوبارہ تمام دینی وسیاسی جماعتوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ۱۴؍ جون کی ہڑتال کامیاب بنائیں۔ قبل ازیں۱۳؍ جون ۱۹۷۴ء کو وزیر اعظم بھٹو نے ایک طویل تقریر کی جو ریڈیو پر نشر ہوئی، اس میں ختم نبوت پر اپنے ایمان کا اظہار فرمایا کہ میں مسلمان ہوں اور میرا عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺاللہ کے آخری نبی ہیں۔

بھٹو صاحب نے اپنی تقریر میں کہا ۳۰؍ جون کو بجٹ منظور ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے ممبران کو اس مسئلے میں کھل کر اظہار رائے کا موقع دیا جائے گا۔ میری پارٹی کے ممبران اپنی رائے دینے میں آزاد ہوں گے، ان پر پارٹی نظم و ضبط کی پابندی لازمی نہیں ہوگی۔۱۴؍ جون کو مجلس عمل کی دعوت پر کراچی سے درہ خیبر اور لاہور سے کوئٹہ تک پورے پاکستان میں ایسی بھرپور اور مکمل ہڑتال ہوئی کہ پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔راہنمایانِ قوم اور اخبارات نے اس ہڑتال کو تحریک کے حق میں ریفرنڈم قرار دیا۔۱۶؍ جون ۱۹۷۴ء ماڈل ٹاؤن کے ایک بنگلے میں مجلس عمل کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت مولانا سیّد محمد یوسف بنوری ؒ نے کی۔

اس اجلاس میں بھٹو صاحب کی ۱۳؍ جون کو کی جانے والی تقریر پر غور کیا گیا۔ ۱۴؍ جون کی کامیاب ہڑتال کے بعد آئندہ تحریک کا لائحۂ عمل کیا ہوگا؟ ا س پر غور کیا گیا، اس اجلاس میں ربوہ کے واقعے اور جج کے ذریعے اس کی تحقیقات کا بھی جائزہ لیاگیا۔ اجلاس میں مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کو مجلس عمل کا باقاعدہ صدر منتخب کیا گیا اور مجلس عمل کے دیگر عہدیداران کا تعین عمل میں آیا ۔۲۰؍جون ۱۹۷۴ء کو صوبہ سرحد کی اسمبلی نے متفقہ طور ر درج ذیل قرار داد پاس کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔۲۱؍ جون ۱۹۷۴ء کو علّامہ سیّد محمد یوسف بنوری ؒ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے فرمایا: ’’قادیانیت کو اقلیت قرار دینے کے بارے میں وزیر اعظم کی یقین دہانی کے مطابق ۳۰؍ جون تک انتظار کیا جائے گا اور دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی ، لیکن اگر ٹال مٹول کی گئی تو آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے مجلس عمل کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔ مولانا بنوری ؒنے کہا کہ ہمارا مقصد حکومت سے ٹکر لینا نہیں ہے اور گزشتہ ملک گیر ہڑتال کا مقصد اس امر کا اظہار کرنا تھا کہ اس مسئلے پر ساری قوم متفق ہے۔

انہوں نے اس سلسلے میں قومی اسمبلی میں قرار داد پیش کرنے اور یہ معاملہ اسلامی مشاورتی کونسل یا سپریم کورٹ کے سپرد کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قرار داد کی حیثیت محض سفارش کی ہے۔ مشاورتی کونسل بالکل بیکار ہے اور سپریم کورٹ میں جانے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ اس معاملے پر سب متفق ہیں۔‘‘۲۶؍ جون ۱۹۷۴ءکے اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ ’’باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت پاکستان نے تمام عرب ممالک اور افریقہ کے اسلامی ممالک سے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے بارے میں رابطہ قائم کر رکھا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ سعودی عرب، اردن اور لیبیا کی حکومتوں نے پاکستان کو اپنے اس مؤقف سے آگاہ کردیا ہے کہ وہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی حمایت کرتے ہیں۔ ۲۷؍ جون ۱۹۷۴ء معلوم ہوا کہ قادیانی فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے متعلق حکومت قومی اسمبلی میں قرار داد کے بجائے تحریک پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

جس کے ذریعے اسمبلی سے رائے لی جائے گی کہ اس فرقے کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے متعلق کیا طریقہ اختیار کیا جائے،طے پایا کہ یہ تحریک ۲۹؍ جون یا ۳۰؍ جون کو پیش کی جائے گی۔۲۸؍ جون ۱۹۷۴ء کو مرکزی مجلس عمل کا اجلاس پنڈی میں مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وزیر اعظم بھٹو کے وعدے کے مطابق ۳۰؍ جون کو قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے بل پیش کیا جائے اور بل کی منظوری تک اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہ کیا جائے۔جون کے آخر میں بنگلہ دیش کے دورے پر جاتے ہوئے وزیر اعظم بھٹو صاحب نے اعلان کیا کہ قادیانی مسئلہ کا فیصلہ کرنے کے لیے قومی اسمبلی کو ایک تحقیقاتی کمیٹی کی شکل دے دی جائے گی۔

۳۰؍ جون ۱۹۷۴ء کو حزب اختلاف کی طرف سے قومی اسمبلی میں ایک قرار داد پیش ہوئی، یہ قرار داد مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے پیش کی۔ اس کے ساتھ ہی وزیر قانون مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ نے ایک تحریک پیش کی۔

یکم جولائی ۱۹۷۴ء ۔وعدے کے مطابق بنگلہ دیش سے واپسی پر یکم جولائی کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا، جس میں پوری قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا اور اس کے سامنے غور کرنے کے لیے یہ دو قرار دادیں پیش کی گئیں۔

اس اجلاس میں یہ بھی طے ہوا کہ اس خصوصی کمیٹی کے لیے چالیس ارکان کا کورم ہوگا ، تیس ارکان حزب اقتدار کے اور دس ارکان حزب اختلاف کے۔۳؍ جولائی ۱۹۷۴ء پورے ایوان پر مشتمل قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے ۳؍ جولائی ۷۴ء کو اپنے اجلاس میں کارروائی کے ضمنی ضابطے منطور کیے۔قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے ۴؍ جولائی کو اپنے اجلاس کے دوسرے دن اتفاق رائے سے بارہ ارکان پر مشتمل ایک رہبر کمیٹی منتخب کی۔

خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ ربوہ اور جنرل سیکرٹری انجمن اشاعت اسلام لاہور کی طرف سے اپنا اپنا نقطۂ نظر تحریری طور پر پیش کرنے اور بعض امور میں دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کی درخواست منظور کرلی گئی۔

۱۴؍ جولائی ۱۹۷۴ء ’’ کو قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے رہبر کمیٹی کی سفارشات اتفاق رائے سے منظور کرلیں۔ سفارشات یہ تھیں:(۱)انجمن احمدیہ ربوہ اور انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کے سربراہوں کے بیانات قلمبند کرنے کا کام ۲۲؍جولائی ۱۹۷۴ء تک مکمل کرلیا جائے۔(۲) خصوصی کمیٹی کے جو ممبر دونوں جماعتوں کے سربراہوں سے سوالات دریافت کرنا چاہتے ہوں ، وہ ۲۴؍ جولائی ۱۹۷۴ء تک قومی اسمبلی کے سیکرٹری کو بھیج سکتے ہیں۔(۳)طے پایا کہ رہبر کمیٹی انجمنوں کے سربراہوں سے دریافت کیے جانے والے سوالات کو آخری شکل دے گی اور منظوری دے گی۔(۴)اٹارنی جنرل سے جن کے ذریعے سوالات دریافت کیے جائیں گے، کہا جائے گا کہ وہ ۲۵؍ جولائی ۱۹۷۴ء سے رہبر کمیٹی اور خصوصی کمیٹی کے تمام اجلاسوں میں شرکت کریں۔

قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلے پر بحث شروع ہوئی اور جس طرح طے کیا گیا تھا کہ مرزائی اور لاہوری پارٹی کے بیانات تحریراً لیے جائیں گے اور انہیں زبانی بھی اپنی صفائی کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے مطابق قادیانی اور لاہوری گروپ دونوں نے اپنے محضر نامے قومی اسمبلی میں علیحدہ علیحدہ پیش کیے۔

اس موقع پر قادیانیوں کے سربراہ مرزا ناصر نے ۱۸۲؍ صفحات پر مشتمل اپنا محضر نامہ پیش کیا، اسے تمام ممبران قومی اسمبلی میں تقسیم کیا، قادیانی اور لاہوری گروپ نے صرف تحریری طور پر ہی اپنا موقف جمع نہیں کرایا، بلکہ تمام ممبران کے سامنے زبانی بھی اپنا موقف پیش کرنے کی درخواست کی، جسے مفتی محمود رحمہ اللہ سے مشاورت کے بعد قبول کرلیا گیا۔ ۲۰؍ جولائی ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا جو ڈھائی گھنٹے جاری رہا۔ اجلاس میں احمدیہ انجمن اشاعت لاہور کے سربراہ صدر الدین کا محضر نامہ پڑھا گیا۔۲۱؍ جولائی۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی کی پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا اجلاس شام کے وقت منعقد ہوا جس میں جماعت احمدیہ ربوہ کے سربراہ مرزاناصر احمد کا حلفی بیان قلمبند کیا گیا۔

۵؍ اگست ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی کے مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا بند کمرہ اجلاس اسمبلی کے چیمبر (اسٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد میں صبح دس بجے منعقد ہوا۔ اسپیکر نیشنل اسمبلی صاحب زادہ فاروق علی نے بحیثیت چیئرمین صدارت کی ۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ پہلا اجلاس سوا بارہ بجے تک جاری رہا۔ اس کے بعد دوبارہ اجلاس شروع ہوا۔

اجلاس میں گواہ پر جرح کا طریقہ کار طے ہوا، مرزا ناصر کا تعارف ہوا اور مرزا ناصر پر جرح شروع ہوئی۔۶؍ اگست ۱۹۷۴ء :قومی اسمبلی کے پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے آج دوسرے روز بھی انجمن احمدیہ ربوہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر جرح کی جو پانچ گھنٹے جاری رہی۔

خصوصی کمیٹی کے دو اجلاس ہوئے، جرح جاری تھی کہ شام کو کمیٹی کا اجلاس ملتوی ہوگیا۔ یہ اجلاس کل صبح ۱۱؍ بجے پھر شروع ہوگا۔۷؍ اگست ۱۹۷۴ء: قومی اسمبلی کے پورے ایوان کی خصوصی کمیٹی نے آج انجمن حمدیہ ربوہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر تیسرے روز بھی جرح جاری رکھی۔ یہ جرح دو اجلاسوں میں کی گئی جو سات گھنٹے تک رہی۔

اجلاس آئندہ روز صبح دس بجے پھرمنعقد ہوا۔۸؍ اگست ۱۹۷۴ء : چوتھے روز بھی قومی اسمبلی کے ایوان نے خاص کمیٹی کی حیثیت سے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر جرح جاری رکھی جو سات گھنٹے پر مشتمل دو اجلاسوں میں کی گئی۔ ابھی جرح جاری تھی کہ کمیٹی کا اجلاس اگلے روز دس بجے تک ملتوی ہوگیا۔

۱۰؍ اگست ۱۹۷۴ء :قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی کا اجلاس صبح پانچویں دن بھی جاری رہا، جس میں انجمن احمدیہ ربوہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر جرح کی گئی۔ اجلاس دو گھنٹے جاری رہا اور بعد ازاں کسی بعد کی تاریخ پر ملتوی ہوگیا۔

جس میں گواہ پر جرح جاری رہی۔ اب ایوان کا اجلاس ۱۲؍اگست کو قومی اسمبلی کی حیثیت سے شروع ہوا۔ ۱۲؍ اگست ۱۹۷۴ء :متحدہ جمہوری محاذ کے سیکرٹری جنرل پروفیسر غفور احمد نے کہا کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی مسئلے پر اب تک جو کارروائی کی ہے، حزب اختلاف اس سے مطمئن ہے۔ اب تک صرف وزیر اعظم نے کوئٹہ کےدورے کے دوران اپنی پریس کانفرنس میں یہ بیان دیا ہے کہ مسئلہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء تک حل کردیا جائےگا۔

۲۱؍ اگست ۱۹۷۴ء :انجمن احمدیہ ربوہ کے سربراہ پر قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں تفصیلاً جرح کی گئی۔ آٹھویں روز بھی چار گھنٹے تک جرح جاری رہی۔ کمیٹی کا اجلاس آئندہ روز صبح دس بجے منعقد ہوا۔۲۲؍ اگست ۱۹۷۴ ء خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں مرزا ناصر پر جرح ہوئی۔۲۳؍ اگست ۱۹۷۴ء :قومی اسمبلی کی پوری ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے آج بھی اپنے اجلاس میں انجمن احمدیہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر جرح کی، اجلاس چھ گھنٹے جاری رہا۔

کمیٹی نے آئندہ روز بھی اپنے اجلاس میں انجمن احمدیہ کے سربراہ پر جرح کی۔۲۴؍ اگست ۱۹۷۴ء پورے ایوان پر مشتمل قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے انجمن احمدیہ ربوہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر جرح مکمل کرلی ۔ کمیٹی نے دو اجلاس منعقد کیے جو قریباً سات گھنٹے جاری رہے۔ گواہ پر جرح کل گیارہ روز جاری رہی، کمیٹی کا اجلاس بعد ازاں ۲۷؍ اگست کومنعقد ہوا۔ ۲۷؍ اگست ۱۹۷۴ء کو انجمن احمدیہ اشاعت اسلام کے سربراہ صدر الدین اور عبد المنان عمر، مرزا مسعود بیگ پر جرح ہوئی۔ ۲۸؍ اگست ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی نے انجمن احمدیہ پر جرح مکمل کرلی۔

۲۹،۳۰؍ اگست ۱۹۷۴ء کو مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں اپنا بیان پڑھنا شروع کیا۔ ۲۹، ۳۰؍اگست کو مولانا مفتی محمودؒ نے اپنا بیان مکمل فرمایا ۔۳۰؍اگست ۱۹۷۴ء:مجاہد ملّت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ایم این اے نے اپنی طرف سے علیحدہ محضر نامہ تیار کیا تھا۔ جسے مولانا عبد الحکیم ایم این اے نے ۳۰؍اگست کے اجلاس کے آخری حـصہ میں پڑھنے کا عمل شروع فرمایا جو ۳۱؍ اگست کے اجلاس کے اختتام تک مکمل ہوگیا۔

۲؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے اجلاس میں ممبران نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی بحث میں حصہ لیا اور قادیانی مسئلہ پر اظہار خیال کیا۔۳؍ستمبر۱۹۷۴ء:کو بھی ممبران قومی اسمبلی نے بحث میں حصہ لیا اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

۴؍ ستمبر ۱۹۷۴ء سری لنکا کے وزیر اعظم تشریف لائے، ان کے اعزاز میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اس لیے کارروائی خصوصی کمیٹی کا حصہ نہ تھی۔

۵؍ ستمبر۱۹۷۴ء کو پھر قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا۔ اس اجلاس میں بھی ممبران قومی اسمبلی کے قادیانی مسئلے پر بیانات ہوئے۔ اجلاس کے آخری حصے میں جناب یحییٰ بختیار اٹارنی جنرل نے بحث کو سمیٹنا شروع کیا۔۶؍ ستمبر : ممبران قومی اسمبلی اوریحییٰ بختیار کے بیانات و بحث اختتام کو پہنچی۔

۷؍ ستمبر کو بھی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں ممبران نے بحث میں حصہ لیا۔

قادیانی مسئلے کا فیصلہ کرنے کے لیے قومی اسمبلی نے پورے ایوان پر جو مشتمل خصوصی کمیٹی تشکیل دی، اس خصوصی کمیٹی نے ۵؍ اگست سے ۷؍ستمبر تک کل ۲۱(اکیس)دن کی کارروائی میں۲۸(اٹھائیس) اجلاس منعقد کیے اور بحیثیت مجموعی ۹۶ گھنٹے غور کیا۔ کمیٹی کے سامنے ربوہ جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد نے ۴۱ (اکتالیس) گھنٹے اور ۵۰(پچاس) منٹ تک شہادت قلم بند کروائی اور ان کا بیان گیارہ دن جاری رہا۔

لاہوری جماعت کے سربراہ پر دو اجلاس میں بحیثیت مجموعی ۸ گھنٹے ۲۰ منٹ تک جرح ہوئی، خصوصی کمیٹی کے چیئرمین قومی اسمبلی کے اسپیکر صاحب زادہ فاروق علی خان تھے۔اسی دوران حکومت اور مجلس عمل نے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے ایک سب کمیٹی تشکیل دی تھی، اس سب کمیٹی کے کئی اجلاس منعقد ہوئے مگر کسی فیصلہ کن نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے۔

مجلس عمل نے ۶؍ ستمبر کو راولپنڈی میں اجلاس طلب کیا تھا۔ ۶،۷؍ ستمبر کی درمیانی رات کو راجہ بازار پنڈی میں جلسۂ عام کا اعلان بھی تھا۔ ۶؍ ستمبر کی صبح ایم این اے ہاسٹل میں مفتی محمود ؒکے کمرے میں مجلس عمل کا خصوسی اجلاس ہوا۔ اس کے بعد قومی اسمبلی کے دفاتر میں سب کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

سب کمیٹی کے ممبران اس اجلاس میں شرکت کے لیے چلے گئے،اور اُدھر دار العلوم راجہ بازار میں مجلس عمل کی میٹنگ شروع ہوئی ، پوری مجلس عمل اس پر غور کررہی تھی کہ اگر حکومت مطالبات تسلیم نہ کرے تو پھر ہمیں تحریک کو کن خطوط پر چلانا ہوگا؟ اسی دوران مولانا مفتی محمود ؒ کا فون آیا کہ حالات پُرامید ہیں، توقع ہے کہ سب کمیٹی متفقہ مسودہ تیار کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

عبد الحفیظ پیرزادہ نے بھٹو صاحب کو فون کرکے سب کمیٹی کی کارروائی سے باخبر کیا، بھٹو صاحب نے تمام اراکین کمیٹی کو اپنے ہاں طلب کیا، تھوڑی دیر گفتگو ہوئی، بھٹو صاحب نے تمام کا موقف سنا اور کہا کہ : ’’اب مزید وقت ضائع نہ کریں، رات بارہ بجے دوبارہ اجلاس ہوگا، آپ تمام حضرات تشریف لائیں، اس وقت دو ٹوک فیصلہ کریں گے۔

رات کو راجہ بازار کی جامع مسجد میں جلسۂ عام منعقد ہوا، مقررین نے بڑی گرم تقریریں کیں، ہجوم آتش فشاں پہاڑ کی شکل اختیار کیے ہوئے تھا، اعلان کیا گیا کہ کل اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو راجہ بازار میں شہیدانِ ختم نبوت کی لاشوں کا انبار ہوگا۔

رات بارہ بجے حسب پروگرام بھٹو صاحب کی صدارت میں دوبارہ اجلاس ہوا جو ڈھائی گھنٹے جاری رہا۔مذاکرات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئے اور بالآخر بھٹو صاحب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر رضامند ہوگئے۔۷؍ ستمبر کو رات کے اجلاس کی روشنی میں قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا بند کمرے میں اجلاس ہوا، جس میں کمیٹی کی سفارشات کو آخری اور حتمی شکل دی گئی اور قرار داد اور ترمیمی بل کا مسوہ متفقہ طور پر تیار کیا گیا۔

قومی اسمبلی میں بل کی منظوری … !

اسی روز (۷؍ستمبر)خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے بعد قومی اسمبلی کا کھلے ایوان میں اجلاس ہوا ، اجلاس کا آغاز ساڑھے چار بجے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد وزیر قانون مسٹر عبد الحفیظ پیر زادہ نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر مشتمل قرارداد پیش کی جو اتفاق رائے سے منظورکرلی گئی۔ چار بج کر چالیس منٹ پر مرکزی وزیر قانون جناب عبد الحفیظ پیرزادہ نے آئین میں ترمیم کا بل پیش کیا۔

اس کے فوراً بعد انہوں نے اسمبلی کے بعض قواعد کو معطل کرنے کی دو تحریکیں پیش کیں، تاکہ ان ترامیم کو تیزی کے ساتھ مرحلوں سے گزارا جاسکے۔ ان دستوری ضروریات کو پورا کرنے ، ترمیمی بل کو پڑھنے اور اسے ایوان کے سامنے پیش کرنے میں صرف تیرہ منٹ صرف ہوئے اور چار بج کر ترپن منٹ پر بل پہلے مرحلے سے گزر چکا تھا۔ ان تیرہ منٹوں میں ان متواتر اور مسلسل تالیوں کا وقت بھی شامل ہے جو بل پیش کرنے کے دوران بار بار بلند ہوتی رہیں۔

قومی اسمبلی کے تمام ارکان پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے متفقہ طور پر جو بل پیش کیا تھا ،اس کے مطابق دستور کی دفعہ ۱۰۶ میں دی گئی ۔ اقلیتوں کی فہرست میں ’’قادیانی گروہ اور لاہوری گروہ‘‘ کو بھی شامل کردیا گیا اور دفعہ ۲۶۰ میں ایک نئی شق کا اضافہ کیا گیا جس کے ذریعے ’’ہر فرد جو حضوراکرم ﷺ کے بعد کسی مدّعی نبوت کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو، وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں ہے۔‘‘

اس بل کو جب وزیر قانون پیش کررہے تھے تو فقرے فقرے پر بعض دفعہ تو لفظ لفظ پر قومی اسمبلی کے اکثر ارکان جذبات سے بے قابو ہوکر ڈیسک اور تالیا ںبجا رہے تھے اور جیسا کہ بعد میں وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو نے اپنی تقریر میں کہا: ’’در حقیقت ہم سب جذبات کے طوفان سے معرکہ آراء تھے۔‘‘

اگلے تین منٹوں میں بل دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکا تھا اور جناب پیر زادہ آئین میں ترمیم کے بل کو فی الفور زیر غور لانے کی تحریک پیش کرچکے تھے۔ گھڑی کی سوئیاں چار بج کر چھپن منٹ پر تھیں،ٟ جناب عبد الحفیظ پیرزادہ سے اسپیکر نے کہا کہ وہ بل پر تقریر کریں۔ پیرزادہ اٹھے اور گویا ہوئے کہ وہ اس پر ایک لفظ کا بھی اضافہ نہیں کریں گے۔

کیوں کہ یہ بل پوری اسمبلی پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا متفق علیہ ہے اور اس ضمن میں انہوں نے چند فقرے کہے، جناب پیرزادہ بیٹھے ہی تھے کہ مفتی محمودؒاٹھے، انہوں نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے آئین میں زیر بحث ترمیم کی مکمل تائید کا اعلان کیا اور اس اقدام پر وزیر اعظم اور ارکان حزب اقتدار کو خراج تحسین پیش کیا۔ پانچ بجکر پانچ منٹ پرا سپیکر قومی اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی نے قائد ایوان جناب ذو الفقار علی بھٹو کو اظہار خیال کی دعوت دی۔ بھٹو صاحب کی تقریر چھبیس منٹ تک جاری رہی۔

وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو کی تقریر کے بعد بل کا تیسرا مرحلہ (خواندگی) شروع ہوا اور وزیر قانون عبد الحفیظ پیرزادہ نے بل منظوری کے لیے ایوان کے سامنے پیش کیا۔ جب صاحبزادہ فاروق علی خان اسپیکر قومی اسمبلی نے ڈیسک بجانے کی فلک شگاف گونج میں اعلان کیا کہ ’’مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والی ترمیم کے حق میں ایک سو تیس ووٹ آئے ہیں، جب کہ مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہیں ڈالا گیا ‘‘، اس وقت پانچ بج کر باون منٹ ہوئے تھے۔ قومی اسمبلی کے معزز ارکان نے اس فتنے کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سدّ باب کردیا جو پون صدی سے ملّت اسلامیہ کے لیے دردِ سر بنا ہوا تھا۔

سینٹ میں بل کی منظوری:

۷؍ ستمبر کے دن ہی شام ساڑھے سات بجے سینٹ کا اجلاس طلب کیا گیا ۔ سینٹ کی کارروائی کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ، اس کے لیے موقع کے اعتبار سے مناسب آیات کا چناؤ کیا گیا تھا۔ تلاوت اور ترجمہ کے بعد سات بج کر ۴۵؍منٹ پر کارروائی کا آغاز ہوا۔ جناب عبد الحفیظ پیرزادہ نے جو مرکزی وزیر ہونے کے ناطے سینٹ میں بیٹھ سکتے تھے، نے قومی اسمبلی کا منظور شدہ بل ’’سینٹ‘‘ میں پیش کیا۔

ترمیمی بل پر منظوری کے لیے دستوری ضروریات سے گزرتے ہوئے دوبارہ ایوان کے اندر رائے شماری ہوئی، سات ستمبر شب آٹھ بجے سینٹ کے چیئرمین جناب حبیب اللہ خان نے آئین میں ترمیم کا اعلان کرکے بہ اتفاق رائے مرزائیوں کے غیر مسلم اقلیت ہونے کا دستوری عمل مکمل کردیا۔ قومی اسمبلی کی طرح سینٹ میں بھی کوئی ووٹ قرار داد کے خلاف نہیں آیا۔

قرار داد کی منظوری پر مسلمانوں کا اظہار مسرت:

۷؍ ستمبر کو رات ۸ بجے جب ریڈیو پاکستان سے قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کی خوش کن خبر نشر ہوئی تو لوگ بے اختیار سڑکوں پر نکل آئے، بعض جذباتی لوگ تو اس خوش خبری سے بچوں کی طرح رقص کرنے لگے، مبارک ، سلامت کا قصہ شروع ہوا۔

مٹھائیاں تقسیم ہونا شروع ہوئیں، مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے ۱۳؍ ستمبر جمعہ کو بطور یوم تشکر منانے کی اپیل کی۔ ملک بھر میں ۷؍ ستمبر سے ۱۷؍ ستمبر تک یوم تشکر، یوم مسرت اور یوم فتح منایا گیا۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید