پروفیسر خالداقبال جیلانی
یہ تاریخ اسلام کی ایک روشن حقیقت ہے کہ محبوب سبحانی سیدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ جس دور میں اصلاحِ معاشرہ اوردعوتِ دین کا فریضہ لے کر اٹھے، وہ مسلمانوں کے لیے سخت آزمائش اور اسلام کے لیے بڑی ابتلاء کا زمانہ تھا۔ ایسے پُر فتن، معاشرتی بگاڑ، اخلاقی زوال اور دینی انحطاط کے دور میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے مسلمانوں کی معاشرتی و اخلاقی اصلاح اور احیائے دین کا عظیم فریضہ انجام دیا۔ اس فکر سے اسلامی معاشرے کا ہر فرد متاثر ہو رہا تھا۔ ملتِ اسلامیہ کا سیاسی و فکری وانحطاط اپنے عروج کو پہنچ چکا تھا۔
خلقِ قرآن، اعتزال، فلسفۂ الحاد اور باطنیت کے فتنوں نے مسلمانوں کے اہلِ علم طبقہ میں تشکیک و الحاد اور عام لوگوں میں عملی بے راہ روی کے بیج بو دئیے تھے۔ ان حالات میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے محسوس کیا کہ حکمرانوں کی عدم توجہی اور لاپرواہی کے باعث ملتِ اسلامیہ زوال کی زدپر ہے جس سے بچاؤ کے لئے کوئی دوسری قوت عالمِ اسلام میں سرگرم عمل نہیں، آپ کا یہ احساس اس جذبے میں تبدیل ہو جاتا ہے کہ عالمِ اسلام کے مرکز بغداد میں کھڑے ہو کر کم از کم ایک صدائے درد تو بلند کی جائے۔
چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور احیائے دین کے لئے اپنے مواعظ حسنہ کا آغاز کرتے ہوئے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :’’رسول اللہ ﷺکے دین کی دیواریں پے درپے گررہی ہیں اور اس کی بنیادیں بکھری جاتی ہیں۔ اے باشندگانِ زمین آؤ اور جو گر گیا ہے، اسے مضبوط کردیں اور جو ڈھے گیا ہے، اسے درست کردیں ،یہ چیز ایک فردسے پوری نہیں ہوتی ، سب ہی کو مل کر کام کرنا چاہیے، اے سورج ، اے چاند اور اے دن تم سب آؤ"۔ (فتح ربانی)
حکام اور امراء کے لئے بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سلسلے میں شیخ کے ہاں کسی رورعایت کی گنجائش نہیں تھی۔ آپ نے پانچ عباسی خلفاء کا دور دیکھا اور ان کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا اوراُن کی غیر اسلامی روشِ حکمرانی اور اندازِ زندگی پر انہیں کھلے عام اور برسرِ منبر للکارتے ہوئے ایک مؤثر حزب اختلاف اور زبردست قوت ِ احتساب کا کردار ادا کیا، خلفاء وامراء سے سرزد ہونے والی لغزشوں پر اُن کی بیبا کانہ گرفت اور اصول دین سے انحراف کے رجحان پر سزا کے خوف سے بے نیاز ہو کر عنان گیری کی۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒکو اللہ نے دین و فقر کی دولت کے ساتھ مال و دولت ِ دنیا سے بھی خوب نوازا تھا، مگر دنیا اور اس کے مال ودولت کی حیثیت آپ کے نزدیک رائی برابر بھی نہیں تھی۔ آپ نے ارشاد فرمایا، "دنیا کی حقیقت میری ہتھیلی پر رائی کے دانے کی طرح ہے"۔ آپ کے اس ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ اگر دنیا کی تمام دولت و ثروت، زر و جواہر، جاہ و حشم کو لپیٹ کر میری ہتھیلی پر رکھ دیا جائے اگر یہ میری ہتھیلی پر سے گر جائے گا تو عبدالقادر ؒ اسے اٹھانے کے لئے جھکے گا نہیں، جس طرح کسی شخص کی ہتھیلی پر سے رائی کا دانہ گر جائے تو وہ اسے اٹھانے کے لئے جھکتا نہیں، کوئی پاگل بھی یہ حرکت نہیں کرتا۔آپ کے سلسلۂ امر بالعروف و نہی عن المنکر اور وعظ کی مجالس کے اثرات عظیم تحریکوں سے بڑھ کر ثابت ہوئے ہر مجلس میں مشرف بہ اسلام ہونے والوں اور بے عملی سے تائب ہوجانے والوں کا تانتا بدھ جاتا۔
شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے وعظ و نصیحت کے ساتھ ساتھ قلم کے ذریعہ بھی احیائے اسلام اور اصلاح معاشرہ کا فریضہ انجام دیا اور اس سلسلے میں کئی کتابیں تحریر فرمائیں۔ آپ کی سب سے معروف کتاب غنیۃ الطالبین ہے۔ یہ آپ کے افکار پر مبنی مرکزی تصنیف ہے۔ جس میں آپ نے ارکانِ شریعت، آدابِ مجلس، امربالمعروف ، بدعت و ضلالت، نفس و روح و قلب کی تشریح جیسے موضوعات پر گفتگو کی ہے۔ اس کتاب میں شریعت و طریقت کا اصل لب لباب بیان کرتے ہوئے مسلمانوں میں ایمان و عمل کے احیاء کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔
طریقت و تصوف کے ضمن میں شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے فنی اور اصطلاحی پیچیدگیوں سے ہٹ کر تصوف کو واضح اور سادہ اسلوب دیا ،ان کی تالیفات اس اعتبار سے صوفیانہ ادب میں بڑا اہم مقام رکھتی ہیں۔ آپ نے تصوف کی زبان کو بھی عام فہم بنایا اور تصوف کے ساتھ وابستگی کے دروازے عام آدمی کے لئے کھول دیئے۔
بحیثیت صوفی و مبلّغ آپ نے چالیس سال تک وعظ و نصیحت کا کام کر کے عملاً ثابت کر دیا کہ تصوف و طریقت پر صرف اہلِ خلوت کی اجارہ داری نہیں۔ آپ طریقت کو شریعت کے ساتھ ہم آہنگ اور کھلی شاہراہ کی طرح کشادہ دیکھنا چاہتے تھے۔
آپ نے بیعت اور خانقاہی تربیت کے طریقوں کو بھی مرکز توجہ بنایا اور مروجہ طریقہ خانقاہی کو وسعت اور تازگی بھی دی اور نظم و ضبط بھی بخشا ۔ آپ کا جاری کردہ سلسلۂ قادریہ لاکھوں انسانوں کے مُردہ دلوں کو حیاتِ جاوداں عطا کرنے اور احیائے اسلام و اصلاح معاشرہ کی ایک عظیم تحریک کی شکل اختیار کر گیا، جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے اور لاکھوں نفوس اس سے براہِ راست مستفید و مستفیض ہو رہے ہیں۔