ہم ہر لمحہ ہر طرح کی آوازیں سنتے ہیں، مگر مختلف ٹی وی چینلز پراینکرز کی آوازیں کانوں کے پردے پھاڑتے ہوئے دلوں میں گھپ رہی تھیں۔رونگھٹے کھڑی کر دینے والی خبر سناتے ہوئے ان کی زبانیں بھی لڑکھڑارہی تھیں۔ اس رات زمیں اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے قابل بھی نہیں تھی اور شاید اس روز ایک پل کے لئے ستاروں نے اپنی گردش روک کررب سے کہا ہوگا، یا اللہ ! زمیں کی بے بس بچیوں کی آنکھیں فریاد کر رہی ہیں، اے ستاروں سے بھرے آسمان ہمیں تھوڑی سی روشنی عطا کر دو۔
وہ رات بہت بھیانک تھی، اتنی بھیانک کہ جب ڈھلی توصبح کاذب کی ہوائوں میں بھی درد تھا۔ اُس دن چینل دیکھنے والی روتی آنکھوں نے آنسوؤں سے ناشتہ کیا ہوگا۔ رات سے صبح تک ایک ہی چیختی دھاڑتی خبر کے سوا سننے کے لیے کچھ نہ تھا، خبر تھی کہ بم دھماکہ، کراچی کےعلاقے قیوم آباد میں18 ماہ کی بچی ’’ایزل‘‘ کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، بعد ازاں وہ مرگئی۔
اٹھارہ ماہ کی دنیا کتنی چھوٹی ہوتی ہے۔ ماں کی گود، باپ کی انگلی، دودھ کی بوتل، چند کھلونے، گھر کے دروازے پر آتے جاتے چہرے، کسی آواز پر مسکرا دینا، کسی اجنبی کو دیکھ کر گھبرا کر ماں سے لپٹ جانا۔ اتنی سی زندگی۔ نہ اسے دنیا کے فریب کا علم، نہ رشتوں کی پیچیدگی کا شعور، نہ اچھے برے انسان کی پہچان، نہ اپنے دفاع کا ہنر۔وہ تو ابھی بولنا سیکھ رہی تھی، مگر کُھل کر بولنے سے پہلے اُس کے لب ’’سی‘‘ دئیے، چلنے سے پہلے پیر کاٹ دئے، کھانے سے پہلے نوالہ چھین لیا۔
اُف ننھی ایزل ہمیں معاف کر دینا۔ تم جنت میں گھوم پھر رہی ہوگی، ہم دوزخ میں تڑپ رہے ہیں۔ ابھی تو تمہارے پیاروں نے تمہیں اپنی گود میں ہمکتے، پالنے میں لیٹے، جگنوؤں کو پکڑتے، گلیوں میں بھاگتے، باغوں میں کھیلتے، درختوں پر چڑھتے، سوتے میں ڈرتے، ماں سے روٹھتے، باپ سے ضد کرتے، گڈے گڑیوں کابیاہ رچاتے، اسکول سے بھاگتے دیکھنا تھا، ایک درندے نے تمہیں پھول بننے سے پہلے مسل دیا، چلو اچھا ہوا جو ہم سب سے روٹھ کردور دیس چلی گئی۔
ایزل کی موت سےایک خاندان اُجڑ گیا۔لیکن معاشرہ اپنے مردہ ضمیر کے سامنے بے حس، بُت بنا کھڑا رہا۔ ایک ننھی جان کی آخری پکارکوئی نہ سُن سکا،آخری سانس لینے سے پہلےجب ٹی وی اسکرین پر اُسے دکھایا گیا تو وہ کانپ رہی تھی۔ ننھی پری، جو بتا بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ اس کے پاس کوئی تحریر تھی نہ کوئی بیان، کوئی شکایت تھی نہ میڈیا، اس کے پاس صرف ایک معصوم زندگی تھی، جو اُس سے چھین لی گئی۔
اب اس کی طرف سے کون بولتا،ماں باپ میں تو بولنے کی سکت نہیں تھی، پھر کس کی ذمہ داری تھی، یقینناً ہماری آپ کی ،لیکن کوئی بولا نہ کوئی احتجاج ہوا، شور ہوا نہ کسی نے اُس درندے کے خلاف آواز اُٹھائی، جب ہی تو اس واقعے کے چند دن بعد معصوم آیت نور کی دل دہلا دینے والی موت کی خبرٹی وی اسکرین پر شور مچاتے بے ضمیر معاشرے ہی کو نہیں ہرسننے، دیکھنے والے کو جھنجھوڑ گئی۔
آیت صرف پانچ سال کی تھی۔ اس عمر میں بچوں کے خواب بہت چھوٹے ہوتے ہیں، کبھی کوئی کھلونا، کبھی چاکلیٹ، کبھی ماں کی گود اور کبھی باپ کے گھر آنے کاانتظار۔وہ10اگست کو گھر سے باہر کھیلنے نکلی تھی، اسے کیا معلوم تھا کہ گھر کی دہلیز سے باہر ایک ایسی دنیا بھی ہے جہاں انسان کا روپ دھارے درندے گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ وہ واپس نہ آئی۔
ایک باپ اپنی اکلوتی بیٹی کو تلاش کرتا رہا، گھر والے اُمید اور خوف کے درمیان جھولتے رہے اور پورا علاقہ اس معصوم بچی کی تلاش میں پریشان رہا، آخر پندرہ دن بعد وہ ملی بھی تو ایسی حالت میں کہ ایک باپ کے لیے اپنی بیٹی کو پہچاننا بھی قیامت سے کم نہ تھا۔
اس کی لاش ہری پور میں یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک خشک کنویں سے برآمد ہوئی۔ لیکن اس المناک داستان کا لرزہ خیز باب اس وقت سامنے آیا جب پوسٹ مارٹم رپورٹ نے بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کی۔ آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق آیت نور شدید خون بہنے اور صدمے کے باعث جان سے گئی۔ اس کے والد نے میڈیا کو بتایا کہ آیت میری اکلوتی اولاد تھی۔
میں کام سے گھر واپس آتا تودوڑ کر دروازے پر آتی اور پوچھتی ’’با بامیرے لیے کیا لائے ہیں۔ وہ یہ کہہ کر گھر سے گئی تھی ، کھیلنے جا رہی ہوں، وہ روز جاتی تھی، گلی کے بچوں کے ساتھ کھیلتی تھی، اُس دن کئی گھنٹے گزر گئے، گھر نہیں آئی تو میری گھر والی نے گلی میں دیکھا، محلے والوں سے پوچھا، کسی کو کچھ علم نہیں تھا۔
جب مجھے پتا چلا تو میں دیوانہ وار بچی کو آوازیں دیتا، ادھر اُدھر نظریں دوڑاتا، راہ گیروں سے پوچھتا، خاموشی سے روتاشام سے رات تک لاڈلی کو ڈھونڈتا رہا، اور پھرکئی دن، کئی راتیں اُسے تلاش کرتا خالی ہاتھ گھر لوٹ آتا۔ پندرہ دن بعد ملی بھی توبے جان، اپنے ماما بابا سے ناراض، جو اُس کاخیال نہ رکھ سکے۔
وہ گھر جہاں آیت کے قہقہے گونجتے تھے ،اب وہاں سسکیاں سُنائی دیتی ہیں۔سوچیں، ایک باپ کی اکلوتی بیٹی چلی گئی، مگر اس کے ساتھ وہ خواب اور مستقبل کی تمام تصویریں بھی دفن ہوگئیں جو ماں باپ نے اپنی بچی کےلئے دیکھی تھیں۔ ایزل اور آیت کے مسکراتے چہرے نظروں سے اوجھل نہیں ہوئے تھے کہ، سرگودھا کی سات سالہ منتہا، جو گھر سے قریب دکان سےکچھ لینے گئی تھی، مگر درندوں کے ہتھے چڑھ گئی، زندہ وہ بھی نہیں آئی۔
کہتے ہیں دنیا میں آج تک کوئی بدصورت بچہ پیدا نہیں ہوا، یہ بھی کہا جاتا ہے، دنیا کی خوب صورتی کو دیکھنا ہو تو بچوں کو آئس کریم کھاتا دیکھ لو، پھر ان کا حُسن کیسے ماند پڑ گیا، ابھی انہیں دنیا میں آئے دن ہی کتنے ہوئے تھےکہ دنیا والوں کی بے حسی کا نشانہ بن گئیں۔
زندگی کے سارے رنگ ان ہی کے دم سے ہیں، تتلیوں کی طرح رنگین اور حسین معصوم فرشتے نہ ہوں تو ہم شاید زندگی کے جھمیلوں سے اُکتا کر ہنسنا، مسکرانا تک بھول جائیں۔ لیکن مکروہ، خبیث چہروں کے بیچ خوب صورتی کیسے برقرار رہ سکتی ہے۔
ہنسنے کو کیسے جی چاہاسکتا ہے، مگر ننھی ’’ایزل‘‘کفن میں بھی مسکرا رہی تھی۔ آیت اور منتہا کی ہنستی، مسکراتی تصویروں میں کتنے معنی پنہاں تھے، انہیں دیکھ کر نگاہیں ہٹانے کوجی نہیں چاہ رہا تھا۔ ان معصوموں کو دنیا کی درندگی کا علم تھا، نہ یہ معلوم تھا کہ ہر مسکراتا چہرہ قابلِ اعتبار نہیں ہوتا۔
ان کی دنیا تو چند کھلونوں، ماں باپ کی محبت اور گھر کی چہار دیواری تک محدود تھی۔کوئی کھیلنے کے لیے گھر سے نکلی،کوئی اپنی من پسند چیز خریدنے، مگرزندہ سلامت کوئی گھر نہ آئیں۔ ان کے کھلونے بکھرے پڑے ہوں گے، مگر انہیں اٹھا کر کھیلنے والی بچیاں کبھی نہیں آئیں گی۔
ہاں، ان کی قبریں ہم سے سوال کرتی رہیں گی۔ ہمارا کیا قصور تھا، جو ہمیں جینے نہ دیا۔ جاپان کے ایک شاعر نے نثری نظم میں کہا تھا۔
مجھے جینے کی تعلیم مت دو
جیتے تو جانور بھی ہیں
مجھے مرنے کا ہنر سکھائو
لیکن ہم تو جیتے جی مررہے ہیں،جب ہی تو ماتمی گیت،شب کے پرندوں کی طرح نمکین ہوائوں میں اُڑاتے ہیں، ہمیں تو تتلیوں کی طرح رنگین اور حسین بچوں کی بے بسی کی موت بھی تڑپاتی نہیں۔ ہم جب ایزل، آیت، منتہا کا نام لیتے ہیں تو صرف ان ہی کے ہنستے مسکراتے چہرے نظروں کےسامنے نہیں آتے، وہ ہزاروں بچے بھی آتے ہیں، جن کے نام ہم نہیں جانتےلیکن اُن کے بارے میں اخبارات ،ٹی وی چینلوں کے ذریعے جانا کہ وہ بھی درندوں کی روٹی کا لقمہ بنے۔
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ،صرف مجرم نہیں، نظام بھی کٹہرے میں ہے۔ گر چہ پولیس نے یکے بعد دیگرے بچیوں کے ساتھ زیادتی، قتل کےکیس منظر عام پر آنے کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ذرائع سے تحقیقات آگے بڑھائی ہیں، متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار اور فرانزک شواہد بھی حاصل کیے۔ یہ اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر سوال صرف یہ نہیں کہ قاتل کون ہے، سوال یہ بھی ہے کہ ایسے جرائم بار بار کیوں ہوتے ہیں؟
ہم ہر سانحے کے بعد چند دن روتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، سخت سزا کا مطالبہ کرتے ہیں، حکام نوٹس لیتے ہیں، کمیٹیاں بنتی ہیں اور پھر زندگی معمول پر آجاتی ہے، مگر پھر اگلی بچی اغوا ہو جاتی ہے، درندوں کے قبضے میں چلی جاتی ہے،قتل کر دی جاتی ہے۔
اس جرم کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بچے کے پاس مزاحمت کی وہ صلاحیت بھی نہیں ہوتی جو ایک بالغ انسان کے پاس ہوتی ہے۔وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اسے کسی کو کیسے بتایا جائے۔ اور یہی مجرم کے لیے سہولت بن جاتی ہے۔ بچے کی خاموشی کو مجرم اپنی حفاظت سمجھ لیتا ہے۔ یاد رکھیں، یہ صرف جرم نہیں، انسانیت کی شکست بھی ہے اور معاشرے کے ضمیر کا امتحان بھی۔
غور طلب بات یہ ہے کہ، ہم کب کسی معصوم جان کی ناگہانی موت کے بعد جاگیں گے؟ کب تک ایک بچی کی لاش ہمارے ضمیر کو چند دن جھنجھوڑے گی اور پھر ہم معمول کی زندگی میں لوٹ جائیں گے؟ کب تک اغوا، زیادتی اور قتل کی خبریں اخبار کے صفحات بھر تی رہیں گی؟کب تک بچوں کو یہ سمجھاتے رہیں گے کہ ’’اجنبی سے بچنا‘‘،کب تک قانون کی کتابیں بچوں کے حقوق لکھتی رہیں گی اور زمین پر ان کے حقوق پامال ہوتے رہیں گے۔
اب صرف مجرم کو سزا دینے کا نہیں، پورے حفاظتی نظام کو مضبوط کرنے کا وقت ہے۔ ہر گھر، ہر اسکول کو محفوظ جگہ بنانا،ہر محلے کو ذمہ دار بنانا ،ہر پولیس اسٹیشن کو جواب دہ، ہر تفتیش کو شفاف بنانا، ہر عدالت میں مقدمے کو انجام تک پہنچانا اور ہر بچے کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ، تمہیں کوئی کچھ کہےتو ہمیں بتانا، ہم سے کوئی بات نہ چھپانا، ہم تمہاری بات سنیں گے، اُس پر یقین بھی کریں گے، تمہیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے‘‘۔
بچوں کو نصیحتیں تو سب کرتے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں سوچتا کہ انہیں نصحیتوں سے زیادہ تحفظ چاہیے۔
بچوں کو خطرے سے بچانے کی اصل ذمہ داری بڑوں، معاشرے اور ریاست کی ہے۔اُنہیں محفوظ اور غیر محفوظ کا شعور دینا اُن کا فرض ہے۔ اور سب سے بڑھ کر قانون اتنا موثر ہوکہ مجرم کے ذہن میں سزا کا خوف پیدا ہو، ایسا خوف جو جرم سے پہلے اسے روک دے، نہ کہ جرم کے بعد صرف ایک خبر بن کر رہ جائے۔
سوچنا یہ ہےکہ،بچہ کس سے مدد مانگے گا؟اس کی بات کون سنے گا؟ اس کی حفاظت کون کرے گا؟ اور اگر جرم ہوجائے تو اسے انصاف کون دلائے گا؟ اب تو انہیں اغوا، ذہنی استحصال اور برین واشنگ کے ذریعے دہشت گردی کا ایندھن بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جو ہاتھ کسی بچی کو گڑیا تھمانے کے بجائے بارود تھما دیں، وہ صرف ایک زندگی نہیں چھینتے، انسانیت کے مستقبل پر حملہ کرتے ہیں۔
جیسے گزشتہ ہفتے بلوچستان میں دو کم سن لڑکیوں کو مبینہ طور پر دہشت گردی کے مقصد کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔ وہ تو خوش قسمت تھیں کہ،حکام کو بروقت پتا چل گیا اور منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ یہ معاشرے کے لیے ایک اور خطرے کی گھنٹی ہے۔ ایک طرف کم سن بچیاں زیادتی کا نشانہ بن کر اپنی جان سے ہاتھ دھو رہی ہیں، دوسری طرف ان معصوموں کے سروں پر دہشت گردوں کے مذموم مقاصد کے لیے استعمال ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
ہمیں یہ نہیں معلوم کرنا کہ بلوچستان منصوبہ کیسے ناکام ہوا، یہ پوچھنا ہےکہ منصوبہ بنانے والوں کو بچیوں تک رسائی کیسے ملی، انہیں ذہنی طور پر کیسے ورغلایا گیا، اور ہمارے معاشرے میں وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے دہشت گرد فائدہ اٹھا رہے ہیں؟
بچی کسی تنظیم کا ہتھیار نہیں، کسی جنگ کا ایندھن نہیں۔وہ ایک زندگی ہے، ایک خواب ہے، ایک گھر کی اُمید ہے۔ اگر ہم نے آج اس اُمید کی حفاظت نہ کی تو کل ہمارے پاس صرف یہ سوال رہ جائے گا کہ،ہم نے اپنی بچیوں کی حفاظت کے لئے کیا کیا۔؟
بچیوں کو بارود نہیں، کتاب چاہیےجس عمر میں ہاتھ میں قلم، کتاب یا گڑیا ہونی چاہیے، اس عمر میں کسی بچی کے ذہن میں نفرت بھر کر اسے موت کا ہتھیار بنانے کی کوشش صرف دہشت گردی نہیں، معصومیت کا قتل ہے۔ دہشت گردوں کو بچیوں میں خودکش بمبار نظر آتے ہیں، ہمیں ان میں پاکستان کا مستقبل نظر آنا چاہیے۔ جس معاشرے میں ایک بچی اپنے گھر، گلی، اسکول اور راستے میں محفوظ نہ ہو، وہاں ترقی کے بڑے بڑے دعوے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ بچیوں کو بارود نہیں، محفوظ بچپن چاہیے، خوف نہیں، خواب چاہیے۔
ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ، بچہ معاشرے کا سب سے کمزور شہری ہےوہ ووٹ نہیں دے سکتا۔ اپنے حقوق کے لیے عدالت نہیں جاسکتا۔ پولیس اسٹیشن میں خود جا کرشکایت نہیں کرسکتا۔ میڈیا سے بات نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے ریاست کو اس کی آواز بننا چاہیے۔
ان کے تحفظ کے لیے پولیس میں خصوصی تربیت، جدید فرانزک سہولتیں، تیز رفتار عدالتی نظام، نفسیاتی مدد اور گواہوں کے تحفظ کا مؤثر نظام وقت کا تقاضہ ہے، سب سے بڑھ کر اداروں میں چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہیے، کیونکہ جہاں نگرانی کمزور ہوتی ہے، وہاں طاقتور یا بے خوف مجرم مضبوط ہوجاتے ہیں۔
2025کی ایک رپورٹ میں درج اعدادوشمار کے مطابق ملک میں بچوں سے متعلق 3,630 رپورٹ شدہ واقعات سامنے آئے، جن میں جنسی زیادتی، اغوا، گمشدگی اور دیگر جرائم شامل تھے، بہ ظاہر مجرم گرفتار ہوئے لیکن سزا کسی کو نہ ملی۔
بچوں کی فلاح و بہبود کے ادارے’’سیو دی چلڈرن‘‘ کی ایک رپورٹ 2025کے مطابق، دنیا بھر میں دس لاکھ سے زائد بچے جیلوں اور حراستی مراکز میں قید ہیں،جہاں انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچوں کے خلاف جسمانی اور جنسی تشدد کے واقعات عام ہیں۔ مستقبل اگر ان ہی بچوں کا ہے تو یہ آنے والے وقت کے لئے کوئی نیک فال نہیں ہے۔
سوال یہ ہے، آخر ہمارے بچے محفوظ کہاں ہیں؟ کون دے گا ، اس کا جواب ،ہے کسی کے پاس۔ بچوں کے خلاف جرائم میں صرف سخت سزا ہی نہیں بلکہ تیز، شفاف اور مؤثر تفتیش اور بروقت عدالتی فیصلہ بھی ضروری ہے، تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور مجرموں کے لیے قانون کا خوف قائم ہو۔
گلنار آفرین
میں گم شدہ ہوں
میں گم شدہ ہوں
میں کل کہاں تھی
میں اب کہاں ہوں
میں زندہ ہوں بھی…
کہ مرگئی ہوں
اذیتوں میں گھری ہوئی ہوں
سوال بن کرالجھ گئی ہوں
میرا چہرہ، سوال چہرہ
یہ میری آنکھیں، سوال آنکھیں
یہ میرے آنسو، سوال آنسو
یہ میری سانسیں، عذاب سانسیں
حقارتوں کے، عداوتوں کے اٹھاکےخنجر
ہدف بنایا میرا نحیف و نزار پیکر
دکھائے اپنی بہادری کے
انہوں نے جوہر
مذاق روشن روایتوں کا
عقیدتوں کا، محبتوں کا
اڑانے والے
سروں کےمقتل سجانے والے
انہی کی قیدی بنی ہوئی ہوں
سوال بن کر الجھ گئی ہوں
سوال کرتی ہوں میں وطن سے
شناخت میری بھی کوئی ہوگی
میں کس قبیلے کی ہوں مسافر
بچھڑ کے کیسے یہاں پہ آئی
کوئی تو میرا بھی نام ہوگا
کہیں تو میرا قیام ہوگا
کسی نے بیٹی، بہن بھی کہہ کر
گلے سے مجھ کو لگایا ہوگا
کوئی تو میرا بھی اپنا ہوگا
تمام رشتوں کو کھوچکی ہوں
شمار زخموں کا کررہی ہوں
سوال بن کر الجھ گئی ہوں
میں کس سے پوچھوں
میں کیسے جانوں
وہ راستے جو کہ کھوگئے ہیں
وہ منزلیں جو دھواں دھواں ہیں
وہ کون ہیں، کہاں سے آئے
وجود میرا مٹانا چاہا
شناخت میری مٹانی چاہی
سنو، میں اعلان کررہی ہوں
میں گم شدہ تو کبھی نہیں تھی
ضمیر انسانیت کی قیدی بنی ہوئی ہوں
عداوتوں میں گھری ہوئی ہوں
سوال بن کرالجھ گئی ہوں
بنگلہ دیش میں میمن سنگھ کے علاقے دھوباؤرا میں 5 سالہ کمسن بچی کے ریپ اور قتل کے مقدمے میں عدالت نے انتہائی تیزی سے مقدمے کی تفتیش اور عدالتی کارروائی آگے بڑھائی اور واقعے کے صرف 25 دن بعد میمن سنگھ کے ویمن اینڈ چلڈرن ریپریشن پریوینشن ٹریبونل نے تین ملزمان کو ریپ اور قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی۔
عدالت نے تینوں مجرموں پر جرمانہ بھی عائد کیا، جبکہ مقدمے میں شامل ایک نابالغ ملزم کو جووینائل کورٹ نے 12 سال 6 ماہ قید کی سزا سنائی۔
اس کیس میں تیز رفتار عدالتی کارروائی نےیہ ثابت کر دیا ہے کہ سنگین جرائم، خصوصاً بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے مقدمات میں فوری اور مؤثر انصاف کتنا ضروری ہے۔
پاکستان میں بھی بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے متعدد واقعات سامنے آتے رہتے ہیں، تاہم مقدمات میں متاثرہ خاندانوں کو طویل قانونی کارروائی، بار بار پیشیوں اور انصاف کے انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ایک ملک میں ایسے سنگین کیس کا فیصلہ 25 دن میں ہوسکتا ہے تو ہمارے ہاں ایسے مقدمات کو برسوں تک کیوں لٹکنا پڑتا ہے؟
اقوام متحدہ کی طرف سے تشکیل دی جا نے والی انسانی حقوق کی بنیادی دستاویزات میں یہ سماجی حقیقت تسلیم کی گئی ہے کہ،خاندان جہاں تحفظ فراہم کر سکتا ہے،وہاں بدسلوکی اور استحصالی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
ان دستاویزات میں سی آرسی، شق نمبر35؛میں درج ہے، حکومت کا فرض ہوگا کہ، وہ اپنے ملک کے علاوہ دنیا بھر میں دوسروں سے مل کر ایسا انتظام کرے کہ، بچوں کو زبردستی اغوا کرنے،انہیں دوسرے ملکوں میں پہنچا دینے اور ان کی خرید وفروخت جیسے مکروہ کاروبار کو ختم کیا جا سکے اور آئندہ بچوں کے اغوا کو روکا جا سکے۔ کیا اس پر عملدرآمد ہوتا ہے؟
یہ انتہائی خطرناک سوچ ہےکہ ،بعض اوقات بچوں کی شکایت کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ وہ ماں سے کچھ کہتا ہے، تو ماں جواب دیتی ہے’’ ارے بیٹا تم نے غلط سمجھا ہوگا۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔
وہ تو اپنا ہے۔ وہ تمہیں پیار کررہا ہوگا۔ اب کسی سے کچھ کہنا نہیں، گھر کی عزت کا مسئلہ ہے‘‘۔ یہ جملے بظاہرعام ہیں، مگر کسی بچے کے لیے انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں۔
اگر بچہ کسی، دھمکی یا خوف کے بارے میں بتائے تو سب سے پہلے اس کی بات سننی چاہیے، اسے ڈانٹنے کے بجائے یقین دلانا چاہیے کہ تمہاری غلطی نہیں تھی، کیونکہ جنسی استحصال کا شکار بچے اکثر خود کو ہی قصوروار سمجھنے لگتے ہیں۔
بعض بچے اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کو الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے، خصوصاً بہت کم عمر بچے۔ لیکن ان کے رویے میں تبدیلی آجاتی ہے۔ وہ اچانک کسی شخص سے خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔
ماں سے جدا ہونے سے گھبراتے ہیں، نیندکم، کھانا کم یا زیادہ،خاموش بیٹھے رہنا، بغیر وجہ رونے لگنا یا کسی خاص جگہ جانے سے انکار کر دینا، گرچہ یہ علامات لازماً جنسی زیادتی کا ثبوت نہیں ،مگر انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
یہ بھی غور طلب بات ہے کہ، وہ بچہ جسے کسی نے اغوا کیا۔وہ بچی جس نے کسی سے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر اسے خاموش کرا دیا گیا۔ وہ بچہ جسے ڈرا کر اپنے ہی گھر میں خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا۔ اُس کا رویہ بھی بدل سکتا ہے۔
جب بچہ لاپتا ہو تویہ سوچنا ’’شاید کسی رشتہ دار کے گھر گیا ہوگا،تھوڑی دیر میں واپس آجائے گایاپہلے خود تلاش کرتے ہیں‘‘ کہہ کر وقت ضائع کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ والدین فوری پولیس اسٹیشن جا کر رپورٹ درج کرائیں۔پولیس، خاندان اور متعلقہ ادارے فوری طور پر متحرک ہوں۔
بچے کی تصویر، شناخت، لباس، آخری مقام، ممکنہ راستے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دستیاب ڈیجیٹل شواہد کو فوری طور پر محفوظ کیا جائے۔ یاد رکھیں ،اغوا کے بعد ہر گزرتا لمحہ اہم ہوتا ہے۔
مجرم ہمیشہ اجنبی نہیں ہوتے
والدین بچوں کو اجنبیوں سے بھی بچائیں۔ گرچہ یہ احتیاط ضروری ہے، مگر کافی نہیں، کیونکہ بچے کے لیے خطرہ ہمیشہ اجنبی چہرہ نہیں ہوتا، کبھی وہ پڑوسی ہوسکتا ہے، کبھی جاننے والا، کبھی دوست، کبھی گھریلو ملازم، کبھی کوئی رشتہ داراور کبھی ایسا شخص جس پر خاندان مکمل بھروسہ کرتے ہیں، مگر وہ آنکھوں میں دھول جھونک کر اسی گھر کی بچی کو ہوس کا نشانہ بنا لیتا ہے۔
یہ حقیقت والدین کے لیے خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ حفاظتی شعور پیدا کرنے کے لیے سمجھنا ضروری ہے کہ ہمارے بچے گھروں، گلیوں اور جان پہچان کے لوگوں کے درمیان بھی محفوظ کیوں نہیں۔
عدالت تک پہنچنے والا بچہ دوبارہ نہ ٹوٹے
جنسی زیادتی کا شکار بچے کو پولیس، اسپتال اور تفتیش کے دوران بار بار اپنا تجربہ دہرانا پڑتا ہے۔
یہ عمل خود ایک دوسری اذیت بن سکتا ہے۔ ضرورت ہے کہ بچوں کے لیے ایسا نظام ہو جہاں:
٭تربیت یافتہ تفتیشی افسر موجود ہوں٭ بچے سے عمر کے مطابق محتاط انداز میں بات کی جائے٭ غیرضروری بار بار بیان نہ لیا جائے٭ فرانزک شواہد محفوظ کئے جائیں ٭بچے اور خاندان کو نفسیاتی مدد فراہم کی جائے ٭گواہوں اور متاثرہ خاندان کو تحفظ ملے٭ مقدمات غیرضروری تاخیر کا شکار نہ ہوں٭ بچے کو انصاف دیتے ہوئے اسے دوبارہ صدمے سے گزارنا انصاف نہیں۔