• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سلطانِ طریقت، قطبِ ربانی، محبوب سُبحانی شیخ عبد القادر جیلانیؒ

ڈاکٹر اقبال احمد اخترالقادری

سیّدی و سندی‘ مرشدی سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی نوراللہ مرقدہ جنہیں سارا عالم ’’ غوثِ اعظم ‘‘ اور ’’پیرانِ پیر دستگیر‘‘ کے نام سے یاد کرتا ہے ‘ یکم رمضان المبارک470ھ/1075ء میں طبر ستان کے علا قہ ’’ گیل ‘‘میں پیدا ہوئے۔ ’’گیل ‘‘ جسے بعد میں ’’ گیلان ‘‘ کہا جانے لگا اور اہل عرب جسے ’’ جیلان ‘‘ کہتے ہیں‘ یہ عجمی علاقے میں واقع ہے۔

اسی علاقہ کی نسبت سے آپ کے نام کے ساتھ عجمی ’’گیلانی ‘‘ اور اہل عرب ’’جیلانی ‘‘ لکھتے ہیں۔ آپ نے11 ؍ربیع الثانی 561ھ کو بغداد شریف (عراق) میں وصال فرمایا‘جہاں آپ کا مزار پُرانوار آج بھی عالم اسلام کے مسلمانوں کا مرجع ہے۔

آپ کے بیان و کلام میں ایک پُر اثر برقی تیزی تھی جو سامعین کے قلوب میں خوف کے ساتھ ساتھ لذت بھی پیدا کردیتی تھی۔ آپ نے521ھ میں وعظ فرمانا شروع کیا۔ جب آپ خطاب فرماتے تو دوران وعظ پورا مجمع ہمہ تن گوش ہوکر کلام سنتا۔

آپ کی آوازِ حق‘ اللہ اکبر! دور و نزدیک سب سامعین کو برابر پہنچتی تھی، لاکھوں کے مجمع میں ہر شخص آپ کی آواز کو ایسے سنتا کہ گویا آپ اسی سے مخاطب ہیں۔ دورانِ وعظ‘ احادیث مبارکہ کے معانی ومطالب بیان کرتے اور ایسے ایسے اسرار و معارف حاضرین کے سامنے واکرتے کہ سننے والے ششدر رہ جاتے۔

شیخ عبد الحق محدّث دہلوی ؒ آپ کے کلام اور اس کی اثر آفرینی کے حوالے سے لکھتے ہیں : ’’آپ کے کلا م معجز بیان میں اس قدر تاثیر تھی کہ جب آیاتِ وعید کے معانی ومطالب کو بیان فرماتے تو سامعین پر لرزہ طاری ہوجاتا‘ ان کے چہروں کی رنگت فق ہوجاتی، پر وردگار عالم کے خوف سے رونے والوں کی یہ حالت ہوجاتی کہ ان پر بے ہوشی طاری ہوجاتی، اور جب اللہ کی رحمت اور فضل وکرم کا ذکر فرماتے تو لوگوں کے دل باغ باغ ہو جاتے۔ ‘‘

آپ کی مجلس و عظ میں علم و حکمت کے بے شمار دریا رواں رہتے جنہیں محفوظ کرنے کے لیے علماء و اولیاء قلم دوات لیے بیٹھتے ‘ جو کچھ سنتے، لکھ لیتے اور بعد میں اس کی نقول تیار کر کے دوسروں کو پہنچائی جاتیں۔ آپ کے وعظ و کلام کا عالم‘ اللہ اکبر! جو غیر مسلم سن لیتا ، اُسے اسلام قبول کیے بنا چارہ نہ ہوتا۔ آپ کے دست حق پرست پر ہزاروں نہیں، لاکھوں یہود ونصاریٰ نے اسلا م قبول کیا اور بے شمار فاسق وفاجر لوگ آپ کے ہاتھ پر توبہ کر کے راہِ راست پر آگئے۔

مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندیؒ نے آپ کا مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے مکتوبات شریف میں لکھا ہے:’’ اس راستے میں تمام اقطاب اور نجبا ء کو فیوض وبرکات کا پہنچنا حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؒ کے ذریعے سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ مر کز سوائے آپ کے کسی کو میسر نہ ہوا۔ اسی واسطے حضرت شیخ ؒ نے فرمایا’’ غروب ہوا آفتاب پچھلو ں کا اور چمکا آفتا ب میرا ‘‘۔

یہاں شمس سے مراد فیض ہدایت ہے اور غروب سے مراد ہے کہ وہ منصب اب میرے سپر د ہے جو پہلے والوں کے سپر د تھا یعنی رشدو ہدایت پہنچنے کا ذریعہ‘ اب آپ کی ذات مبارک ہے اور جہاں تک فیضان کے وسیلے کا معاملہ برپا ہے وہ حضرت شیخ عبد القادر جیلا نی ؒ کے وسیلے اور تو سل ہی سے پہنچے گا۔

اسی واسطے جو حضرت نے فرمایا کہ غروب ہوا آفتا ب پچھلوں کا وہ درست ہے اور اس الف ثانی میں جو فیض‘ مجدد الف سے پہنچے گا وہ بطور نیابت حضرت شیخ عبد القا در جیلانی ؒ سے پہنچے گا جیسے کہ چاند کی روشنی سورج کی روشنی سے قائم ہے‘‘ ۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒ نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی کرامات کے حوالے سے لکھا ہے:” آپ کی کرامتیں حد تو اتر تک پہنچ گئی ہیں اور بالا تفاق سب کو اس کا علم ہے ۔ دنیا کے کسی بزرگ میں ایسی کرامتیں نہیں پائی گئیں‘‘ ۔پاکستان کے ممتاز ماہر تعلیم، محقق و مؤرخ پر وفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمدؒ نے آپ کے فرمودات کے اسرار و رموز کے حوالے سے لکھا ہے :’’حضرت غو ث اعظم ؒ کے ایک مر ید باصفانے ’’ جلا ء الخواطر ‘‘ کے نام سے آپ کے خاص ملفوظات جمع کیے ہیں… یہ ملفوظات 856؍بر س پہلے9؍رجب المرجب546ہجر ی اور 14؍رمضان المبا رک546ہجر ی کے درمیان منعقد ہونے والی وعظ ونصیحت کی مجلسوں میں لفظاً لفظاً قلم بند کیے گئے۔

اس کے عربی متن کے قلمی نسخے کا عکس مکتبہ نبو یہ ،لا ہو رنے شائع کیا ہے جو قابل مطا لعہ ہے ) حضرت غو ث اعظم ؒ نے ان ملفوظات میں اللہ کے محبوبوں کے فضائل وخصائل کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک ایک بول دل پر اثر کرنے والا ، ایک ایک بات من میں گھر کرنے والی۔ چند ملفوظات پیش ہیں…یہ باتیں ایسی ہیں جو سنا نی چاہییں اور سننی چاہییں، ان باتوں سے انسان بنتے اور سنورتے ہیں…حضرت غوث اعظم ؒ فرماتے ہیں :

1…مومن کے لیے ایک مخصوص نورہے جس سے وہ دیکھتا ہے ۔(جلا ء ا لخو اطر ، ص :11)

2… سرکی آنکھ دنیا میں مست رہتی ہے، دل کی آنکھ آخر ت میں مست رہتی ہے، سِرّاور روح کی آنکھ اللہ تعالیٰ کی معیت میں مست رہتی ہے ۔(ایضاً ، ص :94)

3… اپنے نفس کی آنکھ کھول اور اس سے کہہ کہ اپنے عز ت وجلا ل والے پر ور دگا ر کو تو دیکھ‘ تجھے کیسے دیکھ رہا ہے ۔(ایضاً ،ص :74)

4…شر م کی حقیقت یہ ہے کہ اپنی خلو توں اور جلو توں میں اپنے عزت وجلال والے پروردگار سے شرم کر و‘تا کہ خالق سے حیاء مخلوق کی حیاء کے تا بع ہوجائے۔

5… ہرمر ض کی دواتوجہ الیٰ اللہ اور دنیا کی محبت سے پیٹھ پھیر نے میں ہے۔(ایضاً ۔،ص :72)

6… زُہد اور دنیا سے بے رغبتی زاہد وں اورفر مانبر دار بندوں کے دل کا چین ہے۔(ایضاً ،ص:22)

7… اے اللہ کے بندو !اپنی عا دت وخصلت کے خانوں سے نکلو ۔(ایضاً ، ص :27)

8… مر ید توبہ کے سایہ میں قائم ر ہتا ہے مگر مر اد اللہ کی عنا یت کے سایہ میں قایم ہوتا ہے (ایضاً ، ص:30)‘‘۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ آفتابِ شریعت،ماہتاب طریقت اور شہ سوار اقلیم معر فت و حقیقت ہونے کے ساتھ ساتھ شعر وسخن کا بھی اعلیٰ ذوق رکھتے تھے… آپ کے عربی قصیدہ ’’ قصید ۂ لا میہ ‘‘ کو ’’قصیدۂ غوثیہ ‘‘ کے نام سے دنیائے اسلام میں بڑی شہرت اور مقبو لیت عام حاصل ہے۔طریقت ومعر فت کی کتابوں میں ’’ قصیدۂ غوثیہ ‘‘ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔

مولانا عبد البا قی فرنگی محلی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں :’’قصیدۂ غوثیہ عالم کیف ووجد وسر ور کی ایک آواز ہے جس سے قلوب راحت محسوس کرتے ہیں‘‘ ۔اس قصیدۂ مبارک میں آپ نے اپنے اعلیٰ وارفع مقامات ِروحانی کا تذکرہ کیا ہے اور یہ ذکر تحدیث ِنعمت کے طورپرکیاہے کیونکہ ’’فتوح الغیب‘‘ کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ حضرت غوث اعظم ؒ جب بھی ’’قصیدۂ غوثیہ‘‘ کے بعض اشعار پڑھتے تو آخر میں فرماتے تھے کہ :’’ وَ لَا فَخَرْوَ ھٰذَا مِنْ فَضْلِ رَ بِّیْ‘‘۔

مولانا سید بہاء الدین جیلانی ثم المدنی‘ جنہوں نے حضرت غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی ؒ کی شہرہ آفاق کتاب ’’غنیۃ الطالبین الیٰ طریق الحق‘‘ پر جامع حاشیہ لکھا ہے‘ لکھتے ہیں کہ:’’ جو سا لکا نِ طریقت معمولاً اس قصید ہ(قصیدۂ غوثیہ) کو سوچ سمجھ کر پڑھتے ہیں اُن کے روحانی مراتب میں حیرت انگیز ترقی ہوتی ہے ، خوف وہر اس کے مواقع پر یہ قصیدہ پڑھا جائے تو سکو نِ دل کی نعمت حاصل ہوتی ہے اور خوف وہراس کے بادل بہت جلد دور ہو جاتے ہیں ‘‘۔

امام یافعی ؒ نے اس کے علاوہ آپ کا ایک اور عربی قصید ہ ’’ قصیدۂ بائیہ ‘‘کے نام سے نقل کیا ہے۔ اگرچہ یہ’’قصیدہ ٔلا میہ ‘‘کی طرح زباں زدِعام اور مشہور تو نہیں لیکن اس کی فصاحت و بلاغت بتاتی ہے کہ بلا شبہ یہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؒ ہی کا کلا م بلا غت ہے کیونکہ اس میں بھی وہی امتیاز ی بلاغت پائی جاتی ہے جو ’’ قصیدہ ٔلامیہ ‘‘ کی شان و جان ہے …کتب ِسوانح میں فارسی کا بھی ایک دیوان آپ سے منسوب کیا جاتاہے …چنانچہ علامہ عبد الرحیم خان قادری اتر ولوی نے اپنی تصنیف ’’سیرت غوث اعظم ‘‘ میں آپ کے فارسی دیوان کا ذکر کیا ہے۔

حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی ادبی شاعری کی شان لطافت اور آپ کے پر مغز کلا م کی فصاحت اور اس کے عرفان کا کیا کہنا، اس سے آپ کے اعلیٰ ذوق سخن کا پتا چلتا ہے۔ آپ نے اپنے تلامذہ و ارادت مندوں کی اصلاح احوال اور باطنی تربیت کے لیے سلسلہ عالیہ قادریہ بھی جاری فرمایا، جس سے ماضی و حال کے اکابر علماء و مشایخ وابستہ ہوئے، آج عالم اسلام کے سلاسل طریقت میں یہ سب سے بڑا سلسلہ شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ تمام سلاسل کے مشایخ کسی نہ کسی واسطے سے بالآخر اس سلسلے سے فیض پاتے نظر آتے ہیں۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید