پاکستان میں طرزِ حکم رانی میں بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے، بیش ترماہرینِ سیاسیات، سماجیات، عمرانیات و اقتصادیات اس نکتے پر متفق نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ تبدیلیاں کیسے اور کب ہونی چاہییں؟اس بارے میں مختلف شعبوں کے ماہرین کی مختلف آراء سامنے آتی ہیں۔ اِن دنوں ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل کے بارے میں جاری بحث دراصل طویل عرصے محسوس کی جانے والی طرزِ حکم رانی میں تبدیلیوں کی ضرورت کا تسلسل ہے۔
دیوار پر لکھی حقیقت
کوئی مانے یا نہ مانے،ابھی مانے یا بعد میں،لیکن یہ دیوار پر لکھی ہوئی حقیقت ہے کہ دنیا جس تیزی سے بدل رہی ہے،ہمیں اس رفتار کا ساتھ دینا ہوگا ،ورنہ کل شاید کوئی ملک یا ادارہ ہمیں قرض بھی دینے کے قابل نہیں سمجھے گا۔ ہمیں یہ بات اچھی طر ح ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ آج کے دور میں قرضوں پر چلنے والے ملک کی دنیا میں کوئی حقیقی حیثیت نہیں ہوتی۔
یہ علیحدہ بات ہے کہ بعض اوقات پاکستان جیسے ممالک بھی کسی خاص صورت حال کی وجہ سے بعض ممالک کی آنکھ کا تارا بن جاتے ہیں، لیکن وہ صورت حال جوں ہی ختم ہوتی ہے، دنیا آنکھیں پھیرنے میں وقت نہیں لگاتی۔ہم ماضی میں ایسے بعض تجربات سے گزرچکے ہیں۔
چناں چہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایسی کسی صورت حال کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طورپر اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کریں۔ اس کوشش کے آغاز کا پہلا قدم خود کو بدلنے کا ہے۔اور خود کو بدلنے کی کوشش کا پہلا قدم اپنی خامیاں تلاش کرنے اور انہیں دُور کرنے کا ہوتا ہے۔
ہمیں اپنے ملک کے حالات بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلے اپنا نظام بہتر بنانا ہوگا، طرزِ حکم رانی میں واضح اور بڑی تبدیلیاں لانا ہوں گی اورہر سطح پر معیار، قابلیت، عدل و انصاف اور مساوات کو یقینی بناناہوگا ۔
پُرانا، مگر بنیادی سوال
صوبوں کی مزاحمت، سیاسی جماعتوں کے مفادات، قوم پرست حلقوں کی حسّاسیت، مقتدرہ کی فکر اور عوامی ضرورت کے درمیان پاکستان ایک بار پھر ایک پُرانے، مگر بنیادی سوال کے سامنے کھڑا ہے۔ پاکستان میں نئے صوبوں کا سوال کوئی نیا سیاسی نعرہ نہیں۔ جنوبی پنجاب، بہاول پور، ہزارہ اور کراچی سمیت مختلف علاقوں میں انتظامی یا سیاسی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کئی برس سے موجود ہے۔ مگر 2026ء میں یہ بحث نئے مرحلے میں داخل ہوئی ہے۔
وفاقی سطح پر حکم راں اتحاد کے بعض اہم راہ نماؤں کی جانب سے چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے کی حمایت، ایم کیو ایم پاکستان کی ملک گیر مہم، جنوبی پنجاب اور ہزارہ کے مطالبات اور سندھ اسمبلی میں نئی صوبائی تقسیم کے خلاف مسلسل مزاحمت نے اس سوال کو دوبارہ قومی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ اگست 2026ء میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی انتظامی اصلاحات اور نئی اکائیوں کی ضرورت پر بات کی۔ وفاقی وزیر، عبدالعلیم خان پہلے ہی چاروں صوبوں کو چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی تجاویز دے چکے ہیں۔
لیکن اصل سوال یہ نہیں ہےکہ پاکستان میں چار صوبے بہت بڑے ہیں یا نہیں۔اصل سوال یہ ہےکہ کیا پاکستان کے مسائل نئے صوبوں سے حل ہوجائیں گے یا نئے صوبوں کے ساتھ اقتدار کو بھی نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوگا؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبوں کی بحث واقعی عوامی ضرورت سے پیدا ہو رہی ہے، یا یہ ایک بار پھر طاقت، وسائل اور سیاسی اثر و رسوخ کی نئی تقسیم کا منصوبہ بن رہی ہے؟
بعض حلقے سوال کررہے ہیں کہ چار صوبے، 24 کروڑ سے زیادہ آبادی اور بڑھتے ہوئے مسائل کا حقیقی حل کیا ہے؟ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 73 لاکھ، سندھ کی 5 کروڑ 56 لاکھ، خیبر پختون خوا کی4کروڑ 6 لاکھ اور بلوچستان کی تقریباً ایک کروڑ46لاکھ ہے۔ پنجاب اکیلا ملکی آبادی کا تقریباً 53فی صد ہے۔ یہ اعداد وشمار ایک بنیادی انتظامی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ایک طرف پنجاب جیسا صوبہ ہے جس کی آبادی کئی ملکوں سے زیادہ ہے اور دوسری طرف بلوچستان ہے جو رقبے کے لحاظ سے بہت وسیع، مگر آبادی کےلحاظ سے نسبتاً چھوٹا ہے۔ سندھ میں کراچی جیسا میگا سٹی ہے جو ایک ہی وقت میں عالمی بندرگاہ، صنعتی مرکز، مالیاتی مرکزاور کروڑوں لوگوں کا مسکن ہے۔ چناں چہ چار صوبوں کے لیے ایک ہی انتظامی نسخہ شاید اب کافی نہیں رہا۔ لیکن اس کا مطلب لازماً یہ بھی نہیں ہےکہ ہر مسئلے کا حل ایک نیا صوبہ ہے۔
نمایاں نکتہ
نئے صوبوں کے قیام کے ضمن میں جاری بحث کے دوران یہ نکتہ نمایاں محسوس ہوتا ہے کہ اگرچہ طرزِ حکم رانی بہتر بنانے کے لیے یہ قدم اٹھانا کوئی بُری بات نہیں، لیکن اس ضمن میں جلد بازی میں میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے انتظامی ضرورت، عوامی خواہشات، قومی یک جہتی ،وقت کے تقاضوں اور زمینی حقائق کو ضرور مدِّنظر رکھنا ہوگا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ملک کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی صورت حال ایسی ہے کہ ہمیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے ضرورت ہے۔ ایسے میں ملک کسی نئی سیاسی محاذ آرائی کا متحمّل نہیں ہوسکتا۔
اختلاف اور اتفاق کرنے والوں کا موقف
نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی تشکیل کی تجویز پر بحث کے دوران طرح طرح کے سیاسی بیانات اور نقشے سامنے آئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے سیاسی بیانات کے بعد یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ کیا موجودہ یا صرف بڑے صوبوں کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے سے طرزِ حکم رانی، وسائل کی تقسیم اور عوامی مسائل کے حل میں بہتری آئے گی یا اصل ضرورت مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کی ہے۔
جو حلقے نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی تشکیل کی تجویزکے حق میں ہیں ،اُن کا مؤقف ہے کہ ایسا کرنے سے انتظامیہ عوام کے قریب آسکتی ہے، وسائل کی تقسیم بہتر ہو سکتی ہے اورپس ماندہ علاقوں کو زیادہ سیاسی نمائندگی مل سکتی ہے۔ اس کی مخالفت کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانے سے خودبہ خودطرزِ حکم رانی میں بہتری نہیں آتی ۔اصل مسئلہ شفافیت، انتظامی صلاحیت اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا ہے۔
آئینی ضرورت
اس ضمن میں ملک کے آئین کی طرف دیکھنے والے حلقے کہتے ہیں کہ نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی تشکیل کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور پارلیمان میں آئینی طور پر درکار دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق آرٹیکل 1، 51، 59، 106اور 239 میں ترامیم درکار ہوں گی۔ سیاسی اتفاقِ رائےکی اہمیت پر زور دینے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ پارلیمانی صورت حال میں وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیرنئے صوبوں کا قیام مشکل دکھائی دیتاہے۔
ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر کیا کِیا جائے ؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے کوشاں حلقے بعض ماہرین کا یہ مؤقف پیش کرتے ہیں کہ نئے صوبوں کے بجائے آئین کے آرٹیکل 140-Aکے تحت مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام زیادہ فوری حل ہوسکتا ہے۔
سوالات
اس بحث کے دوران عوام کی اکثریت کا یہ موقف نمایاں محسوس ہوتا ہے کہ انہیں ایسا نظام چاہیے جو ان کی زندگی آسان بنادے، اس کے لیے خواہ کوئی بھی راستہ چُنا جائے۔ انہیں مسائل کا حل چاہیے، ناکہ مسئلے کو اُلجھانے والی بحث۔وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا پاکستان کے مسائل کا حل صرف نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی تشکیل میں پنہاں ہے یا موجودہ صوبوں کی حدود میں رہتے ہوئے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے بھی یہ مقصد فوری طورپر حاصل کیا جاسکتا ہے؟
موجودہ قومی بحث کے دوران یہ نکتہ نمایاں محسوس ہوتا ہے کہ فی الوقت پاکستان کے عوام اختیارات کا عدم ارتکاز چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ فیصلہ سازی، وسائل اور انتظامی اختیار اسلام آباد یا صوبائی دارالحکومتوں تک محدود نہ رہیں بلکہ اضلاع، شہروں اور مقامی حکومتوں تک منتقل ہوں۔
حالیہ بحث میں بھی یہ نکتہ نمایاں ہے کہ مسئلہ صرف نئے صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہے۔ کئی سیاست دانوں نے نئے انتظامی یونٹس کا مقصد اختیارات اور وسائل کو عوام کے قریب لانا قرار دیا ہے۔ حالیہ مباحثوں میں مضبوط بلدیاتی نظام کو بنیادی حل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
فوری اور موثر حل پر توجّہ دینے کی ضروت
یہ موقف درست ہے کہ دنیا بھر میں انتظامی اکائیوں یا صوبوں کو چھوٹا رکھنا بہتر سمجھا جاتا ہےاور نئے صوبے یا انتظامی اکائیاں تشکیل دینے سے فاصلے کم ہوں گے، بڑے صوبوں کا بوجھ تقسیم ہوجائے گا اور بعض علاقوں کی نمائندگی بہتر ہو سکتی ہے، لیکن اس کے لیے آئینی، سیاسی اور مالی سطح پر بڑی تبدیلیاں درکار ہوں گی۔
دوسری جانب اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سےمقامی حکومتوں کو بااختیار بنا کر تعلیم، صحت، صفائی، پانی، ٹریفک اور دیگر روزمرہ مسائل کے فیصلے عوام کے قریب کیے جا سکتے ہیں۔ ایسے میں زیادہ مؤثر راستہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ اگر مسئلہ بنیادی طور پر انتظامی اور عوامی خدمات کا ہے تو پہلے مؤثر، بااختیار اور مالی طور پرخودمختار مقامی حکومتیں قائم کی جائیں۔یہ مسئلے کا آسان اور فوری حل ہو سکتا ہے۔
نئے صوبوں کی ضرورت کا فیصلہ اس کے بعد انتظامی کارکردگی اور عوامی مطالبے کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔ چناں چہ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک کو محض نئی حد بندیاں چاہییں یا طرزِ حکم رانی میں موثر تبدیلیاں ؟
سیاسی جماعتوں کا کردار
پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی تشکیل کے ضمن میں ان کا موقف ہمیشہ مستقل اور یک ساں نہیں رہا۔پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب صوبےکی حامی ہے، مگر سندھ کی تقسیم کی سخت مخالف ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان، نئے صوبوں کی سب سے توانا حامی آوازوں میں شامل ہے، بالخصوص شہری سندھ میں، لیکن وہ اب اپنے مطالبے کو صرف کراچی تک محدود رکھنے کے بجائے ملک گیر انتظامی اصلاحات کے تصور کے ساتھ پیش کررہی ہے۔
مسلم لیگ ن کے اندر مختلف اوقات میں نئے صوبوں کے حامی بیانات سامنے آئے، مگر مرکزی قیادت کی سطح پر یہ معاملہ ابھی تک واضح ترجیح نہیں بنا۔ ستمبر 2026ء میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی اس بحث کو قبل از وقت قرار دیا۔
تحریک انصاف کے مختلف راہ نما انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور نئے صوبوں کے تصور کی حمایت کرچکے ہیں، لیکن موجودہ سیاسی کش مکش میں یہ معاملہ اس کی مرکزی سیاسی حکمت عملی کا محور نہیں ہے۔ یوں پاکستان میں نئے صوبوں کا سوال ابھی تک قومی اتفاقِ رائے کا منصوبہ نہیں بلکہ مختلف جماعتوں کے مختلف سیاسی مفادات کا مجموعہ دکھائی دیتا ہے۔
بعض حلقوں کے نزدیک یہ سوال بھی ناگزیر ہے کہ اچانک نئے صوبوں کا معاملہ اتنی شدت سے کیوں ابھر رہا ہے؟ کیا یہ محض سیاسی جماعتوں کی اپنی تحریک ہے؟ یا ریاست کے طاقت ور حلقے بھی انتظامی نقشے کو تبدیل کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟ یہاں احتیاط ضروری ہے۔ اب تک کسی واضح، باقاعدہ اور عوامی طور پر جاری کردہ سرکاری دستاویز سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مقتدرہ نے پاکستان کو نئے صوبوں میں تقسیم کرنے کا کوئی حتمی منصوبہ بنا لیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے حکم رانی کے موجودہ نظام کو ناکافی یا ناکام قرار دے کر انتظامی اصلاحات اور نئے یونٹس کی ضرورت کی بات، وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کی جانب سے پہلے تین اور بعد میں چار انتظامی یونٹس فی صوبہ بنانے کی تجاویز، اور ایم کیو ایم کی مہم کو سیاسی خلا میں الگ الگ واقعات کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
لیکن ان واقعات کو ملا کر کوئی باقاعدہ منصوبہ قرار دینا فی الحال شواہد سے زیادہ قیاس آرائی محسوس ہوتی ہے۔ البتہ ایک بات واضح محسوس ہوتی ہے کہ ریاستی سطح پر حکم رانی، انتظامی کارکردگی اور اختیارات کی تنظیمِ نو کا سوال اب سنجیدہ بحث کا حصہ بن چکاہے۔یہ فرق بہت اہم ہے۔
کیا صرف حد بندیوں کی تبدیلی مسئلے کا حل ہے؟
ماہرین سوال کرتے ہیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟ صوبے کے بڑاہونے کا ہےیا اقتدار بہت اوپر ہونے ہے؟یہاں آکر نئے صوبوں کی بحث ایک بنیادی سوال سے جڑ جاتی ہے۔ ماہرین کے بہ قول دراصل پاکستان کا مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ صوبے بڑے ہیں۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ صوبائی حکومتیں خود کتنا اختیارنیچے منتقل کرتی ہیں؟
آئین کا آرٹیکل 140-A ہر صوبے کو مقامی حکومت کا نظام قائم کرنے اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمّے داریاں منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کرنے کا پابند کرتا ہے۔لیکن عملی طور پر پاکستان کی مقامی حکومتیں اکثر صوبائی حکومتوں کی سیاسی اور مالی طور پر محتاج رہی ہیں۔
یہاں ایک دل چسپ تضاد پیدا ہوتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ لاہور بہت دور ہے، پھر نیا صوبہ بنا کر کہتے ہیں کہ نئے صوبے کا دارالحکومت بھی شہری سے کئی سو کلومیٹر دور ہے۔ پھر وہاں سے اختیارات اضلاع کو نہیں ملتے۔ نتیجہ وہی رہتا ہے۔ صرف نقشہ بدل جاتا ہے۔ اسی لیے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے ساتھ مضبوط مقامی حکومتیں ناگزیر ہیں۔
حالیہ تجزیوں میں بھی یہ نکتہ سامنے آیا ہے کہ مضبوط مقامی ادارے بہت سے ایسے مسائل حل کرسکتے ہیں جن کے لیے لازماً نیا صوبہ بنانے کی ضرورت نہیں۔عوام کو نئے صوبے چاہییں یا اختیار؟ یہ شاید پوری بحث کا سب سے اہم سوال ہے۔ ایک عام شہری کو اس بات سے زیادہ غرض نہیں کہ اس کے صوبے کا اور حدود کیا ہیں۔
اس کی ضرورت یہ ہے کہ پولیس اس کی دسترس میں ہو، سرکاری اسپتال اس کے گھر کےقریب ہو، اسکول میں استاد موجود ہو، پینے کا پانی دست یاب ہو،سڑک بنے، بلدیاتی ادارے کام کریں، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور سرکاری دفاتر میں کام کے لیے انہیں بار بار صوبائی دارالحکومت نہ جانا پڑے۔جنوبی پنجاب کا شہری اگر لاہور نہیں جانا چاہتا تو صرف ملتان کو صوبائی دارالحکومت بنا دینا کافی نہیں۔
کراچی کا شہری اگر سندھ سیکریٹریٹ تک رسائی نہیں رکھتا تو کراچی کے لیے نیا صوبہ بنانا بھی مکمل حل نہیں ہے۔ جب تک کراچی کے ٹاؤنز،میونسپل اداروں اور مقامی حکومت کو حقیقی اختیار نہ ملے۔ اسی طرح ہزارہ کا مسئلہ بھی صرف ایبٹ آباد کو صوبائی دارالحکومت بنانے سے حل نہیں ہوگا، جب تک اضلاع اور مقامی حکومتوں کو اختیار نہ ملے۔
آگے کی سوچ
بعض حلقوں کا موقف ہے کہ چھوٹے صوبے انتظامیہ کو عوام کے قریب لائیں گے۔یہ تصوّر بہ ظاہر انتظامی منطق رکھتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ سوالات کی ایک طویل فہرست بھی ہے۔ مثلا، نئے گورنر کون ہوں گے؟ نئی اسمبلیاں کہاں بنیں گی؟نئے سیکریٹریٹ کتنے ہوں گے؟ نئی ہائی کورٹس کیسے قائم ہوں گی؟
پولیس، بیوروکریسی،جامعات اور محکمے کیسے تقسیم ہوں گے؟ قومی مالیاتی کمیشن میں حصہ کیسےطے ہوگا؟ قدرتی وسائل کی تقسیم کیسے ہوگی؟قرض اور اثاثے کس فارمولے کے تحت تقسیم ہوں گے؟ اور سب سے بڑھ کرکیا پاکستان کے موجودہ مالی وسائل نئی صوبائی حکومتوں کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں؟
اسی طرح کے دیگر سوالات بھی اٹھے ہیں۔ مثلا، نئے صوبے بنے تو طاقت کس کے پاس جائے گی؟ نئے صوبوں کے حامی عام طور پر کہتے ہیں کہ اس سے اختیارات عوام کے قریب آئیں گے۔ لیکن یہ خود بہ خود نہیں ہوگا۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اقتدار اکثر مرکز سے صوبوں اور صوبوں سے اضلاع تک جاتے ہوئے دوبارہ اوپر ہی مرتکز ہوجاتا ہے۔
اس لیے نئے صوبوں کے ساتھ ایک لازمی ڈیوو لوشن پیکیج ہونا چاہیے۔ مثلاً، صوبہ، → ڈویژن، → ضلع ، تحصیل، → مقامی حکومت، ہر سطح پر واضح آئینی، قانونی اور مالی اختیار۔ اگر نیا صوبہ صرف ایک نئے وزیراعلیٰ، نئی کابینہ، نئی اسمبلی، نئے گورنر اور نئے سیکریٹریٹ پیدا کرے گاتو عوام کو اس کا فائدہ محدود حد تک ہی ہوگا ۔ اگر نیا صوبہ اختیارات کو واقعی نیچے تک منتقل کرے گاتو اس کا مطلب حقیقی انتظامی انقلاب ہوسکتا ہے۔
ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ نئے صوبوں کے مخالفین کا مقدمہ بھی کم زور نہیں ہے۔ لہذا ہمیں اس بحث میں یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ نئے صوبوں کے مخالفین صرف ’’اسٹیٹس کو‘‘ کے محافظ ہیں۔ ان کے بھی سنجیدہ دلائل ہیں۔ بعض قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ صوبوں کی تقسیم سے تاریخی شناخت کم زور ہوگی۔بعض حلقے سمجھتے ہیں کہ نئی صوبائی تقسیم لسانی سیاست کو مزید فروغ دے سکتی ہے۔
کچھ کے نزدیک نئے صوبے وفاقی اور صوبائی وسائل کی نئی کش مکش پیدا کریں گے۔ اور یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ نئے صوبے بنانے کے بعد ہر نیا انتظامی خِطّہ اپنی الگ شناخت اور وسائل کے لیے مزید مطالبات کرے گا۔ یعنی چار صوبوں کی جگہ آٹھ یا سولہ صوبے بننے سے ضروری نہیں کہ سیاسی تنازعات ختم ہوجائیں۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے تنازعات کی تعداد بڑھ جائے۔