پہلا کیس
مقام: ڈیفنس، فیز نمبر 6(اتحاد کمرشل)، کراچی۔
ماہ و سال: جولائی 2025
جائے وقوعہ: ایک فلیٹ۔
ابتدائی منظر: یہ فلیٹ عدالتی حکم پر خالی کروایا جا رہا تھا۔ جب بیلف اور پولیس اندر داخل ہوئی تو اسے بہت ناگوار بُو محسوس ہوئی۔ فلیٹ میں اندھیرا تھا۔ پولیس کے اہل کاروں نے روشنی کا انتظام کرکے فلیٹ کا جائزہ لینا شروع کیا تو انہیں ایک انسان کی لاش بہت خستہ حالت میں نظر آئی۔
لاش کی حالت: پولیس اور ڈاکٹروں کے مطابق لاش تقریباً دو سے چار ہفتے پرانی اور گلی سڑی حالت میں تھی۔
شناخت: متوفیہ کی شناخت ماڈل اور اداکارہ حمیرا اصغر علی کے طور پر ہوئی جن کا تعلق لاہور سے تھا اور وہ کراچی میں اکیلی رہ رہی تھیں۔
پولیس کی تحقیقات اور موت کی وجوہات: فلیٹ کا دروازہ اندر سے بند تھا اور زبردستی کسی کے داخل ہونے یا توڑ پھوڑ کے کوئی آثار نہیں ملے۔ ابتدائی طور پر پولیس نے خودکشی، طویل علالت یا ذہنی تناؤ کا شبہ ظاہر کیا۔
بعد میں تفتیش کے دوران بینک اکاؤنٹ اور دیگر پہلوؤں سے بھی تحقیقات کی گئیں۔ لاش کی حالت خراب ہونے کے باعث ابتدائی طور پر موت کی وجہ کا تعین نہ ہو سکا۔ تاہم بعد میں عدالت نے پولیس کو خون کے نمونوں اور شواہد کی بنیاد پر قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔
پوسٹ مارٹم اور نمونے: لاش کی حالت انتہائی خستہ ہونے کی وجہ سے موت کی اصل وجہ اور وقت کا تعین کرنے کے لیے پولیس سرجن اور ماہرین نے واش روم اور کمرے سے خون اور دیگر نمونے حاصل کیے۔
عدالتی حکم: کیس کی تحقیقات اور شواہد کی روشنی میں اگست 2025ء میں عدالت نے پولیس کو اس پراسرار موت کو قتل قرار دیتے ہوئے باضابطہ طور پر قتل کا مقدمہ (ایف آئی آر) درج کرنے کا حکم جاری کیا۔
قانونی کارروائی اور ضابطے پورے کرنے کے بعد حمیرا اصغر کی میت کو سرد خانے سے ان کے ورثاء کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
موت کی وجہ: موت کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔
دوسرا کیس
مقام: گلستانِ جوہر، کراچی۔
ماہ و سال: اگست 2025
جائے وقوعہ: گلستانِ جوہر، کراچی میں شاہی قلعہ کے قریب موجودجھاڑیاں۔
ابتدائی منظر:جائے وقوعہ کے قریب واقع پودوں کی نرسری میں موجود ایک شخص کی اطلاع پر پولیس پہنچی تو اسے جھاڑیوں میں ایک خستہ حال لاش نظر آئی۔
لاش کی حالت: شناخت کرنا ممکن نہیں تھاکیوں کہ وہ گلنے سڑنے کی حالت میں تھی۔
شناخت: پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں پتا چلا کہ وہ لاش کراچی کے پچیس سالہ نوجوان تاجر میر علی رضا کی ہے۔ وہ 28جولائی کو لاپتا ہوئے اور تقریباً دودن بعد، 30 جولائی کی صبح ان کی لاش برآمد ہوئی جسے پولیس نے جناح اسپتال منتقل کیا۔
پہلا پوسٹ مارٹم اور نمونے: ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سینے پر ایک گولی کا زخم موجود تھا، جو قریب سے چلائی گئی تھی۔ گولی ابتدائی طور پر 30بور اسلحے کی قرار دی گئی، تاہم ہاتھوں پر گن شاٹ ریزی ڈیو (GSR) واضح طور پر نہیں ملا۔
دوسرا پوسٹ مارٹم اور نمونے: پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ شدید اعتراضات سامنے آنے کے بعد مقتول کی قبر کھول کر دوسرا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور نمونے لیے گئے۔ قبر کشائی کے بعد سامنے آنے والی ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی اور جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق دائیں ران اور جبڑے پر فریکچر کے شواہد بھی ملے، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر خون کے دھبے بھی تھے۔ مزیدبرآں کیس کی تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا ہےکہ فورینسک لیب بھیجی گئی قمیص سے پتا چلاکہ مقتول کے ہاتھ اور چہرے پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔ تیزاب پھینکنے کا مقصد شناخت کو مٹانا تھا تاکہ کوئی اسے پہچان نہ سکے۔
پولیس کی تحقیقات اور موت کی وجوہات: یہ کیس پہلے روز سے ہی بہت متنازع رہا۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کو خود پولیس سرجن نے چیلنج کردیا تھا جس سے وجہ موت خودکشی لگتی تھی۔ لیکن بعد میں ہونے والے دوسرے پوسٹ مارٹم نے کیس کا رخ یک سر بدل دیا، جو قتل کی طرف تھا۔ پھر آئی جی سندھ ،جاوید عالم نے چھ اگست کو دعویٰ کیا کہ پولیس نے نوجوان تاجر میر رضا کی موت کا پورا کیس ٹریس کرلیا ہے۔
سٹی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بہت جلد پولیس پریس کانفرنس کرے گی اور کیس سے متعلق سب بتائے گی۔ جاوید عالم کا کہنا تھاکہ کیس پر بہت محنت کی ہے اور پولیس نے کوئی لاپرواہی نہیں کی۔ دوسری جانب مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کی موت کو خودکشی کا رنگ دیا جارہا ہے جو یک سر غلط ہے۔
میر علی رضا کی لاش ملنے کے بعد سے ہی سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر ان کی موت کے بارے میں کئی سازشی نظریات سامنے آنے لگے تھے اور یہ کیس بہت نمایاں ہوگیا تھا۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر پولیس سرجن کے اعتراضات نے کیس کو بالکل نئی جہت دے دی تھی۔
پھر وقتا فوقتا آنے والی خبروں نے اس کیس کی تفتیش کے ضمن میں پولیس کی کارکردگی پر بہت سے سنگین سولات اٹھائے تو سندھ کی حکومت نے اس کیس کی شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کردیا۔
پچّیس ستمبر کو عدالتی کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کا سماعت کے موقعے پر کہنا تھا کہ میر رضا کا لہو انصاف مانگ رہا ہے، پولیس نے ثبوت جلائے، بیوروکریسی نے بورڈ بدلا۔ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے سیکریٹری ہیلتھ اور ڈی جی ہیلتھ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر مداخلت کر کے میر رضا قتل کیس میں تشکیل دیااورمیڈیکل بورڈ میں تبدیلیاں کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے 6 دن میں کیس کا بیڑہ غرق کیا، 52کیمروں میں سے ایک فوٹیج لی، کرائم سین کی جھاڑیاں جلا دیں۔ ماں کی فریاد پر کان نہ دھرے، غریب کا بچہ ہوتا تو کیا کرتے؟ پہلی تفتیشی ٹیم نے شواہد ضایع کیے، ماتحتوں پر ملبہ ڈال دیا۔ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر اسامہ شیخ نہ صرف کمیشن کو متنازع بنا رہے ہیں بلکہ ان کے اقدامات محکمہ صحت کو بھی متنازع بنا رہے ہیں۔
تیسرا کیس
مقام: احسن آباد، کراچی
ماہ و سال: ستمبر 2026
جائے وقوعہ: ایک فلیٹ
ابتدائی منظر: فلیٹ کے اندر داخل ہونے والوں نے پانچ لاشیں دیکھیں۔ ایک مرد اور ایک عورت کی لاش ایک کمرے میں تھی اور تین بچیوں کی لاشیں دوسرے کمرے سے ملیں۔ اُن میں سے ایک بچی کی لاش بستر پر اور دو کی لاشیں گدّے پر پڑی تھیں۔
لاشوں کی حالت: پانچوں افراد کی لاشیں تین سے چار روز پرانی اور خراب حالت میں تھیں۔ ان سے اٹھنے والی بو نے ہی فلیٹس کے دیگر مکینوں کو پولیس کو مطلع کرنے پر مجبور کیا تھا۔
شناخت: ڈاکٹر عمر، اُن کی اہلیہ اور تین بچیاں۔
پوسٹ مارٹم اور نمونے پولیس کی تحقیقات اور موت کی وجوہات: پولیس کا کہنا تھاکہ پانچوں لاشوں کا پوسٹ مارٹم ہوچکا ہے، تاہم موت کی اصل وجہ کا تعین کیمیائی تجزیے کی رپورٹ آنے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے، جس میں تین سے چار روز لگیں گے۔
لاشیں ملنے کے دو روز بعد یہ خبر سامنے آئی کہ مذکورہ واقعے میں دو روز گزر جانے کے باوجود پوسٹ مارٹم کے دوران لیے گئے کیمیکل اور فورینسک نمونے جمع نہیں کرائے جا سکے تھے۔ پولیس کے حکام کا کہنا تھا کہ فورینسک نمونے ایم ایل (میڈیکو لیگل) رپورٹ موصول نہ ہونے کے باعث روک دیے گئے ہیں۔ اس صورت حال کی وجہ سے کیس کی تحقیقات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اندھے یا غیر حل شدہ مقدمات: تحفّظات اور سوالات
کراچی میں اِن دنوں بالخصوص اور پاکستان بھر میں بالعموم بعض ایسے کیسز کا بہت چرچا ہے جن میں اموات کی وجوہ اور مبیّنہ طورپر ان اموات کے پسِ پردہ ذمّے داران(اگر کوئی ہے تو) کا تاحال حتمی تعیّن نہیں ہوسکا ہے۔ پاکستان میں غیر حل شدہ یا اب تک مکمل طور پر حتمی نتیجے تک نہ پہنچنے والے کیسز مختلف نوعیت کے ہیں۔ تاہم یہاں یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ غیر حل شدہ، زیرِ تفتیش اور عدالتی طور پر زیرِ سماعت مقدمات ایک ہی معاملہ نہیں ہے۔
پھر ایک اور قسم بھی ہے جسے سرد خانے میں پڑا مقدمہ کہہ سکتے ہیں۔ جرمیات (Criminology) اور فوج داری تفتیش کی اصطلاح میں کولڈ کیس (Cold Case) ایسے فوج داری مقدمے کو کہتے ہیں جس میں جرم کی تفتیش کافی عرصے تک جاری رہنے کے باوجود ملزم کی شناخت، گرفتاری یا جرم کے شواہد کو حتمی طور پر ثابت کرنے میں کام یابی نہ ملی ہو اور مقدمہ عملی طور پر غیر فعال ہو جائے۔ تاہم اسے عموماً بند (Closed) کیس نہیں سمجھا جاتا اور نئے شواہد ملنے پر دوبارہ تفتیش کی جا سکتی ہے۔
اندھی وارداتیں دراصل ایسے جرائم نہیں جن میں کوئی سراغ نہیں ملتا، بلکہ اکثر مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ سراغ کو قابلِ اعتماد ثبوت میں تبدیل کرنے والا تفتیشی نظام کم زور، غیر مربوط یا جواب دہ نہیں ہوتا۔
یہ ہی وجہ ہے کہ خودنیکٹا National Counter Terrorism Authority نے کم زور تفتیش، جدید فورینسک آلات کے محدود استعمال، گواہوں کے تحفظ اور پولیس، پراسیکیوشن، عدالت اور فورینسک سے متعلق اداروں کے درمیان رابطے کو اصلاح طلب مسائل میں شمار کیا ہے۔
ایسے میں جہاں تفتیش کار بعض اوقات مجرم کی مہارت کو یہ کہہ کر داد دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اس نے کتنی مہارت سے واردات کی ہے وہیں یہ سوال بھی سر اٹھاتا ہے کہ ریاست نے جرم کے بعد دست یاب سراغ کے ساتھ کیا کیا؟
ہر جرم کا کوئی نہ کوئی سراغ ہوتا ہے
ماہرینِ جرمیات کے بہ قول ہر جرم مکمل طور پر بے سراغ نہیں ہوتا۔ جائے وقوعہ، ڈی این اے، فنگر پرنٹ، موبائل ڈیٹا، سی سی ٹی وی، مالی لین دین اور دیگر شواہد الگ الگ سراغ دے سکتے ہیں۔ تاہم سراغ اور ثبوت ایک چیز نہیں۔ سراغ کو محفوظ کرنا، اس کی اصل ثابت کرنا، فورینسک تجزیہ کرانا، دیگر شواہد سے ملانا اور عدالت میں قابلِ قبول بنانا تفتیشی نظام کا کام ہے۔
چناں چہ اصل کم زوری ایک ادارے کی نہیں، پوری زنجیر کی ہوسکتی ہے۔ پولیس نے شواہد درست طریقے سے جمع نہ کیے تو فورینسک لیب کچھ نہیں کرسکتی۔فورینسک رپورٹ تفتیش سے نہ جڑے تو اس کی افادیت کم ہوجاتی ہے۔ پراسیکیوشن ابتدائی مرحلے میں شامل نہ ہو تو عدالت میں مقدمہ کم زور ہوسکتا ہے۔ نیکٹانے بھی پولیس، فورینسک، پراسیکیوشن اور عدالتوں کو مربوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ملزم کی گرفتاری اصل کام یابی نہیں
پاکستان میں گرفتار ملزمان کو عدالتوں سے سزا ملنے کی شرح بہت کم ہے۔ اس تناظر میں ماہرینِ قوانین کا موقف ہے کہ تفتیش کی کام یابی صرف گرفتاری نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا تفتیش نے درست شخص تک پہنچنے کے لیے مجرمانہ اور بے گناہی دونوں امکانات کو جانچا؟ کیا شواہد محفوظ رہے؟ کیا متبادل مفروضے آزمائے گئے؟ کیا اخذ کیے گئے نتائج عدالت کے سامنے بھی قائم رہ سکتے ہیں؟
ماہرین کہتے ہیں کہ اسی لیے جواب دہی کا تصوّر پاکستان میں جرائم کی سرکوبی کے ضمن میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اگر کوئی اہم ثبوت ضایع ہوجائے، غلط شخص کو ملزم بنا دیا جائے یا ابتدائی مفروضے کی وجہ سے دیگر سمتوں میں تفتیش ہی نہ ہو تو سوال صرف یہ نہیں بنتا کہ مقدمہ کیوں حل نہ ہوا؟ بلکہ یہ بھی ہے کہ تفتیش کے کس مرحلے پر نظام ناکام ہوا اور اس ناکامی کا حساب کون دے گا؟
چناں چہ ماہرین کہتے ہیں کہ اندھی واردات دراصل وہ جرم نہیں جس میں کوئی سراغ موجود نہ ہو بلکہ یہ اکثر وہ جرم ہوتا ہے جس میں سراغ موجود تو ہوتے ہیں، مگر انہیں ایک مربوط، محفوظ اور قابلِ اعتماد تفتیش میں تبدیل نہیں کیا جا پاتا۔
وہ بتاتے ہیں کہ جائے وقوعہ پر پڑا ایک معمولی نشان، موبائل فون کی ایک کال، کیمرے میں ریکارڈڈ چند سیکنڈز کی حرکت، خون یاجِلد کا ایک حیاتیاتی نمونہ، کسی گاڑی کی آمدورفت کا ہلکا سا نشان یا مالی لین دین کا ایک غیر معمولی ریکارڈ، ان سب کو علیحدہ علیحدہ دیکھیں تو شاید محض ٹکڑے ہوں، مگر درست تفتیش میں یہی ٹکڑے ایک مکمل تصویر بنا سکتے ہیں۔
چناں چہ اس لیے پاکستان میں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پولیس مجرم تک پہنچی یا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ جرم کے بعد دست یاب شواہد کے ساتھ کیا سلوک ہوا، انہیں کس نے محفوظ کیا، فورینسک کی ٹیم نے انہیں کیسے پرکھا، تفتیش کاروں نے کن مفروضوں کو آزمایا، پراسیکیوشن نے مقدمے کو کس حد تک اور کیسے جانچا، اور اگر تفتیش غلط سمت میں گئی تو اس کی جواب دہی کہاں ہوئی؟ یہی وہ مقام ہے جہاں اندھی واردات کا تصور ایک نامعلوم مجرم کی کہانی سے نکل کر پورے تفتیشی نظام کا امتحان بن جاتا ہے۔