• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج 14 گھر ماتم کدے ہیں۔

پمز کی نرسری میں آج شاید اُن انکیوبیٹرز کی جگہ خاموشی ہوگی جہاں کل تک ننھی سانسیں زندگی کی طرف بڑھ رہی تھیں۔

کسی گھر میں ماں نے اپنے بچے کے لیے ابھی نام سوچا ہوگا۔ کسی باپ نے بچے کی پہلی تصویر موبائل میں محفوظ کی ہوگی۔ کسی دادی یا نانی نے آنے والے دنوں کے خواب دیکھے ہوں گے۔ کسی گھر میں پہلی مرتبہ بچے کی آمد پر خوشیاں منانے کی تیاری ہورہی ہوگی۔ مگر چند لمحوں کی آگ نے ان سب خوابوں کو راکھ کردیا۔

یہ صرف چودہ بچوں کی موت نہیں۔ یہ چودہ خاندانوں کے مستقبل کی موت ہے۔اور شاید اس سانحے کا سب سے بڑا سوال بھی یہی ہے۔ اگر سروسز اسپتال 2012، این آئی سی ایچ 2020 اور ساہیوال اسپتال 2024 کے بعد بھی ہم پمز 2026 تک پہنچ گئے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ آخر ہم نے ان معصوم جانوں کی حفاظت کے لیے کیا کیا اور مذکورہ واقعات سے کیا سیکھا؟

انکوائری اپنی جگہ ہوگی۔

ذمے دار بھی تلاش کیے جائیں گے۔

شاید کچھ افسران معطل ہوں، کچھ گرفتار ہوں اور کچھ عہدوں سے ہٹائے جائیں۔مگر اصل انصاف اس دن ہوگا جب پاکستان کے کسی اسپتال کی نرسری میں موجود نومولود کو آگ سے بچانے کے لیے کسی کمیٹی، کسی حکم اور کسی سانحے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔

کیوں کہ نومولود وں کو دوسرا موقع نہیں ملتا۔

ننھی زندگیوں کا ماتم، ہم نے پچھلے سانحات سے کیا سیکھا؟

کسی اسپتال کی نرسری میں داخل ہوتے ہوئے شاید کسی ماں باپ کے ذہن میں سب سے آخری خیال بھی یہ نہ ہو کہ جس جگہ وہ اپنی ننھی سی جان کو زندگی کی پہلی سانسوں کے ساتھ محفوظ سمجھ کر چھوڑ آئے ہیں، وہ ہی جگہ چند لمحوں بعد اس کی آخری منزل بن جائے گی۔ لیکن اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں بدھ کی صبح یہی ہوا۔

مادر و طفل اسپتال کے تیسرے فلور پر قائم گائنی وارڈ کی نرسری میں آگ بھڑکی تو وہاں موجود نومولودوں کے لیے زندگی اور موت کے درمیان شاید چند ہی لمحوں کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق نرسری میں 15 نومولود موجود تھے، جن میں سےصرف ایک کو بچایا جاسکا۔

اس سانحے کی سب سے لرزا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ آگ کے سامنے موجود بچے وہ ذی روح تھے جو چل سکتے تھےاورنہ مدد کے لیے پکار سکتے تھے۔ ان میں سے بعض انکیوبیٹرز میں تھے اور بعض آکسیجن پر۔ یعنی وہ مکمل طور پر اسپتال کے نظام، آلات اور وہاں موجود عملے کی حفاظت کے محتاج تھے۔

اسی لیے نرسری میں آگ لگنے کا واقعہ عام عمارت میں لگنے والی آگ سے کہیں زیادہ سنگین ہوتا ہے۔ یہاں چند منٹوں کی تاخیر بھی زندگی اور موت کا فیصلہ بن سکتی ہے۔

یہاں پمز کا سانحہ ایک اور وجہ سے زیادہ پریشان کن ہوجاتا ہے۔ جنوری 2026 میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اسلام آباد میں فائر سیفٹی اور خطرات سے متعلق تقریباً 6,500 عمارتوں کا سروے مکمل کیا تھا۔ سرکاری بیان کے مطابق زیادہ تر عمارتوں کے فائر سیفٹی پلان منظور شدہ نہیں تھے اور ان کے کمپلیشن یا فائر سیفٹی سرٹیفکیٹس بھی جاری نہیں ہوئے تھے۔

سروے میں 300 سرکاری عمارتیں بھی شامل تھیں۔ یعنی دارالحکومت میں فائر سیفٹی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی پہلے ہی بج چکی تھی۔ اس کے بعد سالانہ فائر سیفٹی معائنے، سرٹیفکیٹس اور باقاعدہ فائر ڈرلز کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

اب سوال یہ ہے کہ اسپتال اس نظام میں کہاں کھڑے تھے؟ خاص طور پر وہ اسپتال جہاں چند دن، چند گھنٹے یا چند منٹ کی عمر کے بچے زندگی کی جنگ لڑ رہے ہوں۔

انکوائری کمیٹی …

پاکستان میں بڑے حادثے کے بعد ایک عمل تقریباً لازمی ہوتا ہے:

انکوائری کمیٹی۔

کمیٹی بنتی ہے۔ رپورٹ طلب ہوتی ہے۔ ذمہ داروں کا تعین کرنے کا اعلان ہوتا ہے۔ سخت کارروائی کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ پھر وقت گزر جاتا ہے۔ اور کسی دوسرے شہر کے کسی دوسرے اسپتال میں ایک اور آگ لگ جاتی ہے۔

پھر ایک اور کمیٹی بنتی ہے۔

پمز کے معاملے میں بھی فوری تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ تحقیق صرف یہ معلوم کرنے تک محدود نہ رہے کہ آگ کہاں سے شروع ہوئی۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ آگ شروع ہونے کے بعد نومولودوں کو بچانے کا کوئی انتظام تھا بھی یا نہیں اور اگر تھا تو وہ ناکام کیوں ہوا؟

کیا فائر الارم فعال تھا؟

کیا فائر ایکسٹنگوئشرز قابل استعمال تھے؟

کیا عملے کو نومولود وں کے انخلا کی تربیت حاصل تھی؟

کیا متبادل بجلی کا نظام محفوظ تھا؟

آکسیجن لائنز اور برقی آلات کی باقاعدہ جانچ پڑتال ہوتی تھی؟

کیا نرسری میں ہر وقت مطلوبہ تعداد میں تربیت یافتہ عملہ موجود ہوتا تھا؟

اور سب سے اہم۔ کیا پہلے سے معلوم خطرات کو دور کرنے کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود تھا؟

نومولود وں کے لیے ’’بعد میں‘‘ کا کوئی وقت نہیں ہوتا

بالغ شخص آگ لگنے کی صورت میں دروازے تک پہنچ سکتا ہے، بچہ بھاگ سکتا ہے، مریض جسے کچھ حرکت کی طاقت حاصل ہو، اسے اٹھا کر منتقل کیا جاسکتا ہے۔

لیکن انکیوبیٹر میں موجود نومولود؟

وہ اپنے جسم کو خود نہیں سنبھال سکتا۔

اس کے لیے ہر سیکنڈ اہم ہوتا ہے۔

اس کے لیے فائر سیفٹی محض ایک سرٹیفکیٹ نہیں بلکہ زندگی اور موت کا سوال ہوتا ہے۔

اس کے لیے تربیت یافتہ عملہ، قابلِ اعتماد آلات، فعال الارم، محفوظ بجلی کا نظام، مناسب آکسیجن مینجمنٹ، فوری انخلا کا منصوبہ اور باقاعدہ مشقیں سب ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔

جلتے انکیوبیٹرز

جون2024۔ ساہیوال ٹیچنگ اسپتال کے پیڈیا ٹرک وارڈ میں آگ بھڑکی۔ ابتدائی طور پر آگ کو ایئرکنڈیشننگ سسٹم میں شارٹ سرکٹ سے جوڑا گیا۔ اس سانحے میں 11شیر خوار جاں بہ حق ہوئے۔

ساہیوال کا واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہاں صرف آگ لگنے کا سوال نہیں تھا، بلکہ آگ کے بعد بچوں کو کیسے بچایا گیا، اس کا سوال بھی سامنے آیا۔

تحقیقات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا کہ بچوں کو عجلت میں دوسری جگہ منتقل کیا گیا اور فائر ایکسٹنگوئشرز کے کام نہ کرنے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ بعد میں چار سینئر افسران کے خلاف کارروائی کی گئی۔

یعنی ایک مرتبہ پھر وہی کہانی:

آگ لگی، بچے متاثر ہوئے، انتظامات پر سوال اٹھے، تحقیقات ہوئیں، ذمے داروں کے خلاف کارروائی ہوئی۔

پمزکا سانحہ اور سوالات

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں واقعے کے وقت وارڈ میں عملے کی عدم موجودگی بھی سامنے آئی اور جل جانے والے انکیوبیٹرز کو استعمال کے لیے ناموزوں قرار دیا گیا۔ ⁠یہاں بھی سوال آلات کی دیکھ بھال، عملے کی موجودگی اور ہنگامی ردعمل پر اٹھے۔

مگر اصل سوال اب شروع ہوتا ہے۔

کیا یہ صرف ایک حادثہ تھا؟

بارہ سال پہلے لاہور میں بھی یہی سوال اٹھا تھا

آج سے 14 برس پہلے، جون 2012 میں لاہور کے سروسز اسپتال کی نرسری میں آگ لگی تھی۔ وہاں26کم وزن اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے زیر علاج تھے۔ آگ کے نتیجے میں سات نومولود جاں بہ حق اور نو زخمی ہوئے تھے۔ اس سانحے کے بعد بھی سوال وہ ہی تھے: آگ کیوں لگی؟

حفاظتی انتظامات کہاں تھے؟ نومولود وں کو فوری طور پر محفوظ جگہ منتقل کیوں نہ کیا جاسکا؟ اور کیا اسپتال کی انتظامیہ نے پہلے سے موجود خطرات کو نظر انداز کیا؟

صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت کی رپورٹس میں نرسری میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مناسب سامان اور سہولتوں کی کمی کی نشان دہی ہوئی۔ زخمی بچوں کے لیے دیگر سرکاری اسپتالوں سے انکیوبیٹرز، وینٹی لیٹرز اور بیڈ تک منگوائے گئے۔ ⁠

ایک عدالتی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ سروسز اسپتال میں دو برس کے دوران ہونے والی تیسری بڑی آگ تھی۔

یعنی آگ پہلی بار نہیں لگی تھی۔

لیکن سبق پھر بھی مستقل نہیں بنا۔

کراچی۔2020 :

جنوری 2020 میں کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (NICH) میں دو روز کی بچی اس وقت جاں بہ حق ہوگئی جب اس کا انکیوبیٹر آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ ابتدائی تحقیقات میں انکیوبیٹر کے برقی نظام میں شارٹ سرکٹ کو آگ کی وجہ قرار دیا گیا۔ بعد کی انکوائری میں بتایا گیا کہ آگ تقریباً چند منٹ میں بجھا دی گئی، لیکن بچی کو نہ بچایا جاسکا۔

ہاسپٹل مینجمنٹ، ایک سائنس بن چکی

پاکستان میں اسپتال کا تصور عموماً ڈاکٹر، نرس، ادویات، آپریشن تھیٹر اور جدید مشینری تک محدود سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پے چیدہ ہے۔ اسپتال دراصل ایک ایسا ادارہ ہوتا ہے جہاں بہ یک وقت مریضوں کی آمد، تشخیص، علاج، ادویات، لیباریٹری، نرسنگ، صفائی، بجلی، آکسیجن، سیکیورٹی، مالیات اور انسانی وسائل کو مربوط انداز میں چلانا پڑتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ہاسپٹل مینجمنٹ ایک باقاعدہ سائنس بن چکی ہے۔ پاکستان میں بھی اب یہ سوال اہم ہوتا جارہا ہے کہ کیا ہمارے اسپتال صرف عمارتوں اور مشینوں سے بہتر ہوں گے یا ہمیں ان کے انتظامی نظام کو بھی جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا؟

پاکستان میں صحت کے شعبے کو محدود مالی وسائل، بڑھتی ہوئی آبادی، ماہر عملے کی کمی اور سرکاری اسپتالوں پر مریضوں کےغیر معمولی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ مگر مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں۔ اکثر ایک ہی اسپتال میں کہیں عملے کی شدید ضرورت ہوتی ہے اور کہیں دست یاب وسائل پوری طرح استعمال نہیں ہو پاتے۔

کہیں مریض بستر کے لیے انتظار کرتے ہیں، کہیں آپریشن کی تاریخ طویل ہوجاتی ہے اور بعض اوقات منہگی طبی مشینری مکمل استعداد کے ساتھ استعمال نہیں ہوپاتی۔ یہ صورت حال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ صحت کے بجٹ میں اضافہ ضروری ہے، لیکن بہتر مینجمنٹ بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

جدید ٹیکنالوجی نے دنیا کا نقشہ بدل دیاہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے ہاسپٹل مینجمنٹ کو بھی نئی سمت دی ہے۔ الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ، ڈیجیٹل لیباریٹری رپورٹس، آن لائن اپائنٹمنٹس، ہاسپٹل انفارمیشن سسٹمز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیاتی نظام انتظامی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دے رہے ہیں۔

اب کوئی اسپتال کسی بھی وقت یہ جان سکتا ہے کہ کون سا وارڈ کتنے دباؤ میں ہے، کون سی دوا تیزی سے استعمال ہورہی ہے اور کہاں اضافی وسائل کی ضرورت ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی بہ ذاتِ خود حل نہیں۔ اگر نظام درست طریقے سے ڈیزائن نہ ہو، عملے کو تربیت نہ دی جائے یا ڈیٹا کی حفاظت کو نظر انداز کردیا جائے تو جدید ٹیکنالوجی بھی مسائل پیدا کرسکتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ملک میں اسپتالوں کو آبادی میں اضافے، محدود وسائل، عملے کی کمی، مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور انتظامی مسائل جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں صرف نئے اسپتال بنانا کافی نہیں۔ موجود اسپتالوں کے انتظامی نظام کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق بنانا ہوگا۔ وسائل محدود ہوں تو ان کا بہترین استعمال مزید اہم ہوجاتا ہے۔

کوئی غیر مؤثر نظام، منہگی مشینری اور بڑے بجٹ کے باوجود مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا۔ دوسری جانب بہتر مینجمنٹ، محدود وسائل میں بھی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہے۔

ہمیں یہ حقیقت جان لینی چاہیے کہ مستقبل کا اسپتال صرف علاج فراہم کرنے والا مرکز نہیں ہوگا بلکہ ایسا مربوط نظام ہوگا جہاں ڈیٹا، ٹیکنالوجی، انسانی مہارت اور انتظامی سائنس ایک دوسرے سے جڑے ہوں ہوئے گے۔ لہذا ہاسپٹل مینجمنٹ میں اب سوال یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس کتنے وسائل ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم دست یاب وسائل کو کتنی ذہانت، شفافیت اور مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مریض کی زندگی بچانے میں ڈاکٹر کا فیصلہ جتنا اہم ہے، اس فیصلے تک پہنچنے اور اسے مؤثر بنانے والا انتظامی نظام بھی اتنا ہی اہم ہے۔اسی لیے ہاسپٹل مینجمنٹ کو محض فائلوں، بجٹ اور دفتری امور کا نام سمجھنا ایک پرانا تصور ہے۔

آج یہ میڈیکل سائنس، مینجمنٹ، ٹیکنالوجی، انسانی رویوں، ڈیٹا اور بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی کا امتزاج ہے۔ اسپتال میں علاج ڈاکٹر کرتا ہے، لیکن مؤثر نظام اس علاج کو بروقت، محفوظ اور کام یاب بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہاسپٹل مینجمنٹ واقعی ایک سائنس بن جاتی ہے۔

ہنگامی حالت میں انتظام کاری

کسی اسپتال کے انتظامی نظام کی اصل آزمائش عام دنوں میں نہیں بلکہ بحران کے وقت ہوتی ہے۔ حادثہ، قدرتی آفت، آگ، وبا یا اچانک مریضوں کی غیر معمولی تعداد کسی بھی اسپتال کے نظام کو چند لمحوں میں شدید دباؤ میں لا سکتی ہے۔

اس لیے جدید اسپتالوں میں ایمرجنسی پلان، متبادل بجلی، آکسیجن کی دست یابی، فائر سیفٹی، انخلا کے راستے، کمیونی کیشن سسٹم اور بحران کی صورت میں ذمے داریوں کی واضح تقسیم ضروری سمجھی جاتی ہے۔ کسی اسپتال کی تیاری کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب معمول کا نظام غیر معمولی دباؤ کا شکار ہو۔

آگ سے حفاظت اور آفات میں انتظام کاری 

اسپتالوں میں آگ لگنے، بجلی کے تعطل، آکسیجن کے مسائل، قدرتی آفات یا اچانک مریضوں کی تعداد بڑھ جانے جیسے حالات کے لیے پیشگی منصوبہ بندی انتہائی اہم ہے۔ پاکستان میں اسپتالوں کے انتظامی معیار کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا کوئی ہنگامی منصوبہ موجود ہے؟

کیا عملے کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے؟ کیا فائر الارم اور ہنگامی راستے فعال ہیں؟ کیا متبادل بجلی کا قابلِ اعتماد نظام موجود ہے؟ کیا آکسیجن اور دیگر ضروری سہولتوں کا بیک اپ ہے؟ کیا بڑے حادثے کی صورت میں اضافی مریضوں کو سنبھالنے کی صلاحیت موجود ہے؟ یہ سوالات صرف کاغذی کارروائی کے لیے نہیں بلکہ مریضوں اور عملے کی جان کے تحفظ کے لیے بہت ضروری ہیں۔

اسپتالوں میں بچوں کی نرسری (خصوصاً نیونیٹل نرسری کے لیے حفاظتی انتظامات کا مقصد نومولود وں کو انفیکشن، آگ، بجلی، آلات کی خرابی اور انسانی غلطیوں سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ ان کے لیےعالمی معیار اور اسپتال سیفٹی گائیڈ لائنز کے مطابق اہم منظور شدہ انتظامات یہ ہیں:

1۔ آگ سے بچاؤ کے انتظامات۔ نرسری میں فائر الارم اور اسموک ڈیٹیکٹرز کی تنصیب۔ خودکار فائرا سپرنکلر سسٹم (جہاں دست یاب اور قواعد کے مطابق ضروری ہو)۔ واضح اور کھلے ہنگامی اخراجی راستے (Emergency Exits)۔ فائر ایکسٹنگوئشرز کی مناسب جگہ پر موجودگی اور باقاعدہ تربیت۔ عملے کی فائر ڈرلزاور بچوں کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کا منصوبہ۔ آکسیجن سلنڈرز اور دیگر گیس لائنز کے لیے محفوظ اسٹوریج اور مانیٹرنگ۔

2۔ بجلی اور آلات کا تحفظNICU میں بلا تعطل بجلی (UPS/ جنریٹر )۔برقی آلات کی باقاعدہ جانچ اور مینٹی نینس۔ اوور لوڈنگ سے بچاؤ کے لیے معیاری ساکٹس اور وائرنگ۔ انکیوبیٹرز، وینٹی لیٹرز اور مانیٹرز کے لیے حفاظتی پروٹو کول۔

3۔ انفیکشن کنٹرول۔ داخلے سے پہلے ہاتھ صاف کرنے کے لازمی انتظامات۔نرسری میں داخلے کے لیے محدود رسائی۔ عملے اور وزیٹرز کے لیے حفاظتی لباس (گاؤن، ماسک، دستانے)۔ آلات کی جراثیم کش صفائی کا باقاعدہ نظام۔ بیمار افراد کے داخلے پر پابندی۔

4۔ بچوں کی شناخت اور نگرانی۔ ہر بچے کے لیے درست شناختی بینڈ یا الیکٹرانک شناخت کا نظام۔بچوں کی آمد و رفت کا ریکارڈ۔ غیر متعلقہ افراد کے داخلے کی روک تھام۔ سی سی ٹی وی نگرانی (جہاں قواعد اجازت دیں) ۔ والدین یا مجاز افراد کے علاوہ بچے کو منتقل نہ کرنے کا نظام۔

5۔ آکسیجن اور طبی گیسوں کی حفاظت۔ آکسیجن لیکیج کی نگرانی۔ آکسیجن پائپ لائنز اور سلنڈرز کی باقاعدہ جانچ۔ آکسیجن کے قریب آگ یا چنگاری کے ذرائع پر مکمل پابندی ۔ وینٹی لیٹر اور آکسیجن سپورٹ آلات کی الارم مانیٹرنگ۔

6۔ عملے کی تربیت۔ نرسز اور ڈاکٹرز کی نوزائیدہ بچوں کی ہنگامی نگہداشت، آگ لگنے کی صورت میں ردعمل، سی پی آر اور ری سسی ٹیشن کے آلات کے محفوظ استعمال کی تربیت۔ واضح ذمے داریوں کے ساتھ ایمرجنسی ریسپانس پلان۔

7۔ عمارت اور ماحول کا تحفظ۔ مناسب وینٹی لیشن اور درجہ حرارت کا کنٹرول۔جراثیم سے پاک اور صاف ماحول۔ مناسب روشنی اور شور کو کم رکھنے کے انتظامات ۔ فرش، دیواروں اور فرنیچر کی آسان صفائی کے قابل ڈیزائن۔

ماہرین کی سفارشات

پاکستان کے اسپتالوں میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعات کے تناظر میں اسپتالوں کی انتظام کاری کا تجربہ رکھنے والے ماہرین کے مطابق پاکستان کے سرکاری اسپتالوں میں خاص طور پر ضروری ہےکہ نومولودوں کی انتہائی نگہداشت کے حصّے(NICU )کے لیے الگ فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائے۔ آکسیجن کے نظام کی باقاعدہ انسپکشن ہو۔بجلی کے بیک اپ اور وائرنگ کی جانچ کی جائے۔

نرسری کے عملے کے لیے باقاعدہ ایمرجنسی مشقیں ہوں۔ اسپتال کی انتظامیہ حفاظتی ذمے داریوں کا واضح تعین کرے۔ واضح رہے کہ یہ انتظامات World Health Organization کی ہاسپٹل سیفٹی اور انفیکشن کنٹرول کی سفارشات، اور مختلف ممالک کے NICU سے متعلق حفاظتی معیارات کے مطابق بنیادی اصولوں پر مبنی ہیں۔