• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2 ستمبر2026ء کے روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق پاکستان ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کی روشنی میں اگست 2026 ءمیں ملک میں عمومی مہنگائی کی شرح 11.1فیصد رہی، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ 12.2فیصد اور شہری علاقوں میں 10.4 فیصد تھی۔ حساس اشیا کی قیمتوں پر مشتمل اشاریہ بھی اگست میں سالانہ بنیاد پر 9.5فیصد بڑھا۔ تصویر کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اوسط ماہانہ اجرت تقریباً 39ہزار روپے ہے، جبکہ اوسط ماہانہ گھریلو آمدن 82ہزار 179روپے اور اوسط گھریلو اخراجات 79ہزار 150 روپے ہیں۔ یعنی آمدن اور خرچ کے درمیان اوسط فرق ہی چند ہزار روپے کا رہ جاتا ہے۔یہ اعدادوشمار صرف کاغذ پر درج ہندسے نہیں۔ انکے پیچھے کروڑوں پاکستانی گھرانوں کی پریشانی ہے۔ پٹرول، بجلی، راشن، بچوں کی فیسیں، علاج اور گھر کے دوسرے اخراجات پہلے ہی محدود آمدن پر بھاری ہیں۔اب اس خبر کو پہلے بیان کیے گئے واقعے کے ساتھ ملاکر دیکھیں تو معاملہ مزید واضح ہوجاتا ہے۔ جماعت اسلامی نے مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنے دیئے۔ احتجاج کئی روز جاری رہا اور اب اسے ملک گیر احتجاج اور شٹر ڈاؤن کی طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سوال یہ نہیں کہ جماعت اسلامی یہ احتجاج کیوں کر رہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جن مسائل کے خلاف وہ آواز اٹھا رہی ہے، کیا وہ صرف جماعت اسلامی کے مسائل ہیں؟پٹرول مہنگا ہو تو اس کا اثر صرف جماعت اسلامی کے کارکن پر نہیں پڑتا۔ بجلی کا بل کسی ایک جماعت کے گھر نہیں آتا اور مہنگائی کسی ووٹر کو شناختی کارڈ دیکھ کر متاثر نہیں کرتی۔پٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ اسکا اثر ٹرانسپورٹ، سبزی، دودھ، آٹا، کرایوں اور تقریباً ہر اس چیز پر پڑتا ہے جو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتی ہے۔اس کے باوجود جماعت اسلامی کے احتجاج کو وہ عوامی پذیرائی نہیں مل سکی جسکی توقع ایک ایسے ملک میں کی جاسکتی تھی جہاں تقریباً ہر شخص مہنگائی کا شکوہ کرتا ہے۔

چند روز قبل وفاقی وزیر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں یہ تاثر دیا کہ جماعت اسلامی کے مظاہروں میں زیادہ تر اسکے اپنے کارکن شریک ہو رہے ہیں اور عام لوگ بڑی تعداد میں نہیں آرہے۔اگر یہ تاثر درست ہے تو یہ صرف جماعت اسلامی کیلئے سوال نہیں، پورے معاشرے کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ہم مہنگائی کو برا بھلا کہتے ہیں، پٹرول کی قیمت پر غصہ کرتے ہیں، بجلی کے بل کو دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، لیکن جب انہی مسائل پر کوئی دوسری سیاسی جماعت سڑک پر نکلتی ہے تو ہم سب سے پہلے اس کا جھنڈا دیکھتے ہیں۔اگر جھنڈا اپنا ہو تو احتجاج ’’عوامی جدوجہد‘‘ ہے، اور اگر دوسرا ہو تو ’’سیاسی ڈرامہ‘‘!یہی سیاسی عصبیت ہماری اجتماعی قوت کو تقسیم کر رہی ہے۔ہم نے اپنے اپنے سیاسی چشمے لگا رکھے ہیں۔ ایک کو پی ٹی آئی کا چشمہ دکھائی دیتا ہے، دوسرے کو مسلم لیگ ن کا، کسی کو پیپلز پارٹی کا اور کسی کو جماعت اسلامی کا۔ چشمہ بدلتے ہی حقیقت کا رنگ بھی بدل جاتا ہے۔اپنا لیڈر غلط ہو تو ہم اس کے دفاع میں دلیلیں تلاش کرتے ہیں اور مخالف درست بات بھی کرے تو اس کی نیت پر سوال اٹھا دیتے ہیں۔یہ رویہ کسی ایک جماعت تک محدود نہیں۔پی ٹی آئی ملک کی بڑی سیاسی قوت ہے، مگر اس کی سیاست کا بڑا حصہ عمران خان کی رہائی اور ان سے متعلق معاملات کے گرد گھومتا ہے۔ عام آدمی کے معاشی مسائل اس شدت سے سیاسی ایجنڈے کا مرکز نہیں بن سکے جس کی ایک بڑی عوامی جماعت سے توقع کی جاتی ہے۔دوسری جماعتوں کی بھی اپنی ترجیحات اور سیاسی مفادات ہیں۔ حکومت میں شامل جماعتیں بھی اکثر اسی وقت زیادہ متحرک دکھائی دیتی ہیں جب ان کے سیاسی مفادات متاثر ہوں۔نتیجہ یہ ہے کہ عوام کا مسئلہ سب کا مسئلہ ہے، مگر کسی ایک کا مستقل مسئلہ نہیں۔یہی ہماری اصل ناکامی ہے۔

جماعت اسلامی کے احتجاج کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ نعروں یا دھرنے میں موجود افراد کی تعداد سے نہیں ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ مطالبات کتنے حقیقی ہیں، عوام انہیں اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں یا نہیں، حکومت نے کیا جواب دیا اور احتجاج کے نتیجے میں کوئی عملی تبدیلی آتی ہے یا نہیں۔لیکن اس سے بھی بڑا سوال ہمارے لیے ہےکہ اگر مسئلہ ہمارا ہے تو احتجاج بھی ہمارا کیوں نہیں؟ہمیں یہ فیصلہ جھنڈے کی بنیاد پر نہیں بلکہ مسئلے کی بنیاد پر کرنا ہوگا۔اگر کسی جماعت کا مطالبہ درست ہے تو محض اس لیے غلط نہیں ہوجاتا کہ مطالبہ کرنے والی جماعت ہماری پسندیدہ نہیں۔ اسی طرح اگر اپنی جماعت غلط مطالبہ کرے تو صرف جماعتی وابستگی کی وجہ سے اسے درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔جمہوری معاشرے میں سیاسی اختلاف ضروری ہے، مگر اجتماعی مفاد پر اتفاق اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ہمیں اپنے لیڈروں سے محبت اور سیاسی وابستگی ضرور رکھنی چاہیے، مگر اپنی عقل انکے حوالے نہیں کرنی چاہئے۔ سیاسی جماعتیں عوام کیلئے ہوتی ہیںعوام سیاسی جماعتوں کیلئے نہیں۔جماعت اسلامی کا احتجاج کامیاب ہوتا ہے یا ناکام، یہ الگ بحث ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ہم اس احتجاج کو صرف ’’جماعت اسلامی کا احتجاج‘‘ سمجھتے ہیں یا اس میں اٹھائے گئے عوامی مسئلے کو اپنا مسئلہ بھی سمجھتے ہیں؟پٹرول، بجلی اور مہنگائی کسی پارٹی کا جھنڈا نہیں دیکھتے۔پھر ہم کیوں دیکھتے ہیں؟ ہمیں اب یہ طے کرنا ہوگا کہ بات کی سچائی کا فیصلہ بولنے والے کے جھنڈے سے ہوگا یا بات کے وزن سے۔شاید پاکستان کی سیاسی بلوغت کا آغاز اسی ایک فیصلے سے ہو۔

تازہ ترین