بالی ووڈ فلموں میں کام کرنے والی مراکشی نژاد کینیڈین اداکارہ نورا فتحی کے کھلونا جہاز کمنٹس پر ایک ایوی ایشن کمپنی نے ان پر 3 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا۔
گاندھی نگر کی عدالت میں دائر اس ہرجانے اور ہتکِ عزت کے دعوے میں کمپنی نے الزام عائد کیا کہ اداکارہ کی جانب سے چارٹرڈ طیارے کو لیگو ایئر پلین قرار دینے جیسے توہین آمیز اور غیر ذمہ دارانہ تبصروں سے کمپنی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔
عدالت نے اس معاملے کی سماعت 25 ستمبر کو مقرر کی ہے۔ درخواست گزار کمپنی کے مطابق نورا فتحی نے گزشتہ سال دسمبر میں ممبئی سے جے پور جانے والی پرواز کے دوران طیارے کے اندر ویڈیوز بنائیں۔ اداکارہ نے طیارے کو چھوٹا کھلونا اور لیگو ایئرپلین قرار دیتے ہوئے یہ ویڈیوز اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کیں۔
کمپنی نے مؤقف اختیار کیا کہ نورا فتیحی کے ان غیر ذمہ دارانہ بیانات کے نتیجے میں متعدد بکنگز منسوخ ہوئیں اور اس کے کاروباری معاملات کو شدید نقصان پہنچا۔ اپریل میں دائر دعوے کے مطابق نورا کے بیانات غیر ذمہ دارانہ اور لاپرواہی پر مبنی تھے۔ یہ تبصرے تکنیکی معلومات یا حقائق پر مبنی نہیں تھے۔
کمپنی کے مطابق نورا کے 4.6 کروڑ سے زائد سوشل میڈیا فالوورز ہیں، جس کی وجہ سے ان کے بیانات نے کمپنی کی ساکھ اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثر ڈالا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی بکنگز میں 15 سے 20 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ منسوخیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔
کمپنی نے عدالت کو بتایا طیارہ معمول کے مطابق استعمال ہونے والا اور سفر کے لیے موزوں تھا اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن سے مکمل طور پر تصدیق شدہ، قابل پرواز اور درست این ایس او پی کے تحت آپریٹ کیا جا رہا تھا۔
3 کروڑ بھارتی روپے کے ہرجانے کے علاوہ کمپنی نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ نورا کی جانب سے طیارے سے متعلق تمام بیانات اور ان کے حوالے سے موجود مواد کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا جائے۔ جبکہ کمپنی نے یہ بھی مطالبہ کیا نورا ایک عوامی وضاحت بھی جاری کریں۔