سندھ اسمبلی سندھ کے عوام کا سب سے بڑا نمائندہ سیاسی ایوان ہے۔ یہاں اختلاف ہونا چاہیے، حکومت سے سوال ہونے چاہئیں، اپوزیشن کو کھل کر اپنی بات رکھنے کا حق ہونا چاہیے اور عوامی مسائل پر حکمرانوں کا احتساب بھی ہونا چاہیے۔ جمہوریت کی خوبصورتی ہی اختلافِ رائے میں ہے۔ لیکن اختلاف اور اشتعال کے درمیان ایک باریک لکیر ہوتی ہے۔ جب سیاسی تقریروں میں بار بار زبان، قومیت، لسانی شناخت اور ’’الگ صوبے‘‘ جیسے حساس معاملات کو سیاسی ہتھیار بنایا جائے تو معاملہ محض حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلاف تک محدود نہیں رہتا، بلکہ معاشرے کے اندر ایسی دراڑیں پیدا ہونے لگتی ہیں جنہیں بعد میں پاٹنا آسان نہیں ہوتا۔حالیہ سیاسی ماحول میں سندھ اسمبلی کے اندر اور باہر بعض ایسی آوازیں سنائی دے رہی ہیں جو کراچی کے مسائل کا حل سندھ کی تقسیم یا ایک نئے صوبے کے قیام میں تلاش کرتی ہیں۔ سوال ضرور اٹھایا جاسکتا ہے کہ کیا چند سیاسی رہنماؤں یا کسی مخصوص جماعت کا مطالبہ پورے کراچی کی اجتماعی آواز قرار دیا جاسکتا ہے؟ کراچی ایک وسیع اور متنوع شہر ہے، جہاں کروڑوں لوگوں کی زندگی، مفادات اور سیاسی ترجیحات ایک جیسی نہیں۔کراچی کو کسی ایک زبان، نسل یا برادری کے نام سے شناخت کرنا خود اس شہر کی حقیقت کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ ایک کثیرالقومی اور کثیراللسانی شہر ہے جہاں سندھی، پشتون، اردو بولنے والے، بلوچ، پنجابی، سرائیکی، میمن اور ملک کے تقریباً ہر خطے سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ اسلئے کسی ایک سیاسی یا لسانی حلقے کی جانب سے اٹھائے گئے ’’الگ صوبے‘‘ کے نعرے کو پورے کراچی کی اجتماعی آواز قرار دینا درست نہیں ہے۔ ایک سندھی ہونے کے ناتے میرے لیے سندھ محض نقشے پر کھینچی ہوئی انتظامی حدود کا نام نہیں۔ یہ ہزاروں سال پر محیط تہذیب، زبان، ثقافت، تاریخ اور اجتماعی شعور کا نام ہے۔ سندھ کی وحدت میرے لیے صرف جذباتی معاملہ نہیں بلکہ تاریخی حقیقت بھی ہے۔ لیکن سندھ سے محبت اور پاکستان سے محبت کے درمیان کوئی تضاد نہیں۔ میں اپنی سندھی شناخت پر فخر کرتا ہوں اور اسی کے ساتھ پاکستان کے وفاق کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہوں۔ میرے نزدیک مضبوط سندھ، مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔اسی لئے سندھ کی وحدت کا دفاع کرتے ہوئے ہمیں خود بھی اپنی زبان اور لہجے کا خیال رکھنا ہوگا۔ اگر کوئی سیاسی جماعت سندھ کی تقسیم کی بات کرتی ہے تو اسکا جواب کسی پوری زبان بولنے والی برادری کو موردِ الزام ٹھہرا کر نہیں دیا جاسکتا۔ کسی سیاسی نظریے اور کسی قومیت میں واضح فرق کرنا ہوگا۔ ہمارا اختلاف کسی زبان سے نہیں، کسی نسل سے نہیں اور کسی پاکستانی شہری سے نہیں،ہمارا اختلاف اس سیاست سے ہے جو سندھ کے باشندوں کے درمیان مصنوعی سرحدیں کھینچ کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔سندھ کی وحدت کے علمبرداروں بالخصوص صوبائی حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف جذباتی نعروں سے سندھ مضبوط نہیں ہوگا۔ سندھ کو مضبوط بنانے کیلئے لوگوں کی زندگی بہتر بنانا ہوگی۔ اگر کراچی کا شہری پانی خریدنے پر مجبور ہے، نوجوان روزگار کیلئے پریشان ہے، سڑکیں تباہ ہیں، ٹرانسپورٹ کا نظام ناکافی ہے اور شہری ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہے تو اس غصے اور محرومی کو کوئی نہ کوئی سیاسی قوت ضرور استعمال کرے گی۔ یہی بات سندھ کے باقی شہروں اور دیہات پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ سندھ کے دوسرے شہروں اور دیہی علاقوں میں تعلیم، صحت، روزگار، پینے کے صاف پانی، نکاسیِ آب اور بنیادی انفراسٹرکچر کے مسائل موجود ہیں۔ جب شہری کو ریاست سے انصاف اور سہولت نہیں ملتی تو محرومی سیاسی نعرے کو جنم دیتی ہے۔ اسلئے سندھ کی وحدت کا سب سے مضبوط جواب محض تقریر نہیں بلکہ اچھی حکمرانی ہے۔شاہ عبداللطیف بھٹائی کا سندھ تنگ نظری کا سندھ نہیں تھا۔ سندھ نے صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والوں کو اپنے دامن میں جگہ دی ہے۔ یہی سندھ کی تہذیبی طاقت ہے۔ جو شخص سندھ میں رہتا ہے، اس سرزمین کو اپنا گھر سمجھتا ہے اور اس کے امن، ترقی اور خوشحالی میں حصہ ڈالتا ہے، اسے احساسِ تحفظ اور برابری ملنی چاہیے۔ اسی طرح سندھ میں آباد ہر شخص سے یہ توقع بھی فطری ہے کہ وہ اس سرزمین کی تاریخ، زبان، ثقافت اور وحدت کا احترام کرے۔پاکستان کو اس وقت معاشی، سیاسی اور سلامتی کے بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ ہمیں نئے لسانی محاذ کھولنے کی نہیں بلکہ پاکستانیوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی ضرورت ہے۔ سندھ اسمبلی کو اس بحث کا مرکز بننا چاہیے کہ بچوں کو معیاری تعلیم کیسے ملے گی، نوجوانوں کو روزگار کیسے ملے گا، کراچی کو پانی کیسے ملے گا، شہریوں کو اسٹریٹ کرائم سے کیسے محفوظ رکھا جائے گا، دیہی سندھ میں بنیادی سہولیات کیسے پہنچائی جائیں گی اور صوبے کی معیشت کو کیسے مضبوط بنایا جائے گا۔سندھ کسی ایک سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں اور کراچی کسی ایک زبان یا قومیت کی جاگیر نہیں۔ کراچی سندھ کا دارالحکومت بھی ہے اور پاکستان کی معاشی شہ رگ بھی۔ ان دونوں حقیقتوں میں کوئی تضاد نہیں۔ کراچی کی ترقی سندھ کی ترقی ہے اور سندھ کی مضبوطی پاکستان کی مضبوطی ہے۔
ہم اپنی سندھی شناخت پر فخر کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ ہم سندھ کی تاریخی وحدت کا دفاع بھی کرینگے، لیکن پاکستان کے پرچم کے سائے میں۔ ہمارا خواب ایسا سندھ ہونا چاہیے جہاں سندھی، پشتون، بلوچ، اردو بولنے والا، پنجابی، سرائیکی اور ہر دوسرا پاکستانی ایک دوسرے کو حریف نہیں بلکہ شریکِ سفر سمجھے۔سندھ کو تقسیم کی سیاست نہیں، انصاف کی سیاست چاہیے۔ اسے نفرت انگیز تقریریں نہیں، اچھی حکمرانی چاہیے۔ اسے لسانی محاذ آرائی نہیں، مساوی حقوق اور ترقی چاہیے۔ کیونکہ جب سندھ کے ہر شہری کو انصاف، عزت اور بنیادی سہولیات میسر ہوں گی تو تقسیم کے نعرے اپنی کشش کھو دیں گے۔
سندھ مضبوط ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا، اور پاکستان مضبوط ہوگا تو سندھ سمیت اسکی ہر وفاقی اکائی کا مستقبل بھی محفوظ ہوگا۔ لیکن جب تک سندھ کی اصل شناخت پر وار کئے جاتے رہیں گے یا سندھ کی وحدت کو نقصان پہنچانے کی سازشیں کی جائیں گی، تو یہ فطری بات ہے کہ سندھ کے لوگوں میں احساس محرومی پیدا ہو گا جو کہ آہستہ آہستہ دلوں میں جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے نتائج بھی خراب ہوتے ہیں۔ اسلئے ریاست کوبرابری کے طور پر سب قوموں کے ساتھ ایک رویہ رکھنا چاہئے۔ سندھی زبان سمیت ہر زبان کا احترام ہونا چاہیے اور سندھ کے لوگوں کے جو بنیادی مسائل ہیں، وہ حل ہونے چاہئیں۔