• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2ستمبر کو ہندوستانی ایئر فورس کے ریٹائرڈ ایئر مارشل جتندرا مشرا کو "شری رام جنم بھومی تیرتھ کشترا ٹرسٹ" کا پہلا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا۔ جتندرا مشرا ماضی میں کارگل جنگ کا حصہ رہے جبکہ حال میں " آپریشن سیندور" میں مغربی ایئر کمانڈ کی سربرا ہی بھی کر رہےتھے۔ آپریشن سیندور کی بدترین ناکامی کے باوجود انہیں انکی خدمات کے نتیجے میں "ید سیوا" تمغہ بھی دیا گیا۔ اپریل 2026 کو ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں رام مندر ٹرسٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی نئی پوسٹ بنا کر مزید نوازا گیا۔ رام مندر مذہبی اور سیاسی نقطۂ نظر سے ہندوستان کے سب سے اہم مذہبی ادارے کے طور پر ابھرا ہے۔ بظاہر جتندرا مشرا کو 5585 درخواست گزاروں میں سے ٹرسٹ کمیٹی نے چنا، یہ ٹرسٹ فروری 2020 میں حکومت ِہندوستان نے قائم کیا تھا جبکہ اس میں تعیناتیاں بھی حکومت ہی کرتی  ہے۔ایئر مارشل مشرا کا لڑاکا جہاز اڑانے کا وسیع تجربہ، انکی سربراہی میں پاکستان سے جنگ میں بدترین شکست اور ہندوستانی افواج کے سیکولر تشخص کا علمبردار ہونا، انہیں اس نئے عہدے کے لائق نہیں بناتا۔ ہندو یاتریوں کی آمد و رفت، مندر کے انتظامی وانتصرای معاملات، پجاریوں کے اخراجات، مندر کی تزئین و آرائش کے اخراجات، عطیوں کی  آمدن کا حساب کتاب جیسے معاملات سے نمٹنے کا انہیں کوئی تجربہ نہیں۔ مشرا کا چناؤ ان کی قابلیت و صلاحیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے ہندتوا نظریات سے خفیہ اور گہری وابستی ہے۔ یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جو ہندتوا کے 100 سال پرانے نفرت انگیز نظریے کی آڑ میں پورے ہندوستان کے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اس کے عفریت نے ہر سطح،ہر شعبہ ہائے زندگی میں  اپنے خوفناک پنجے گاڑ دیے ہیں،حتیٰ کہ ہندوستان کے عسکری ادارے بھی اس کے زیرِ تسلط ہیں۔ غیر ہندوؤں کے خلاف بغض،  دشمنی اور عداوت ہندتوا کے پیروکاروں کی رگ رگ تک سرایت کر چکی ہے ۔ اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ، آر ایس ایس کے شعلہ بیاں رکن یوگی آدیتہ ناتھ کی مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی پر اکسانے والی قابلِ گرفت تقاریر کا اثر اب زہرِ قاتل بن چکا ہے۔ خصوصاً مسلمانوں کو قتلِ عام کر کے خوفزدہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ہندو مت اختیار کر لیں جسے "گھر واپس آؤ "مہم کہا جا رہا ہے ۔ ریاست ہریانہ ہو یا اتراکھنڈ میں" ہری دوار " یاترا، عسکریت پسند سادھو سنت کھلے عام ہندوؤں کو دعوت دیتے نظر آتے ہیں کہ میانمار کی طرز پر کم از کم 20 لاکھ مسلمانوں کے قتلِ عام سے ہندوستان کی دھرتی کو پاک کیا جائے۔اپنی کتابیں نیچے رکھ دینے اور "ہانتھ شاسترا" یعنی مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر اکسایا جا رہا ہے۔ راجپوت چھتیس گڑھ، اتر پردیش، گجرات، مدھیہ پردیش، آسام، ہریانہ، کرناٹکا، جھارکھنڈ، راجستھان، دہلی جیسی ریاستیں اپنی مسلمان دشمنی میں پیش پیش ہیں۔" موذی" نے بھی 2024 کی انتخابی مہم میں مسلمانوں سے اپنی ازلی نفرت اور "گجرات کا قصائی" ثابت ہونے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ ہیومن رائٹ واچ نے اس کی 173 تقاریر میں سے 110 کو مسلمان دشمنی اور اسلاموفوبیا پر مبنی قرار دیا، اس کے علاوہ  امیت شاہ، یوگی آدیتہ ناتھ اور حمانتا بسوا شرما کی تقاریر کو بھی مسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کا ذمہ دار ٹھہرایا ۔تاہم ہندوستانی حکومت کی خاموش آشیرباد انہیں مزید شہہ دے رہی ہے۔ہندوستانی افواج اب تک اپنا سیکولر تشخص جیسے تیسے قائم رکھے ہوئے ہے حالانکہ ملک میں ہندتوا کی پُرتشدد تحاریک، مسلمان دشمنی پر ووٹ حاصل کرنے والا سیاسی ماحول، آر ایس ایس کے مسلمان کش ایجنڈے سے کوئی بھی ادارہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، نتیجتاً عسکری اداروں میں مسلمانوں کی بھرتی و ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔در حقیقت ہندوستان کا سیکولر تشخص اور انتظامی ڈھانچہ اب دھڑن تختہ ہونے کو ہے۔اس کے ملبے تلے سے ایک انتہا درجے کی فاشسٹ،پُر تشدد اور بنیاد پرست قوم برآمد ہوگی جس کا اگر بروقت اس کا سدباب نہ کیاگیا تو وہ دنیا کو فاشزم کی نئی تشریح سے روشناس کرائے گی ۔ ادھر ہندوستانی مسلمان اب تک یہی ثابت کرنے میں جُتے ہیں کہ ان کی وفاداری ہندوستان سے ہے پاکستان سے نہیں، انہیں اپنی دینی اقدار تک پسِ پشت ڈالنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ہندو مذہب میں ہر اس چیز کی پوجا کی جاتی ہے جو نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتی ہو خصوصاً جیسے آگ جو جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔ ہندو نفسیات میں دشمن کو آگ سے جلا کر نیست و نابود کرنا بہترین انتقام ہے جیسے سمجھوتہ ٹرین کا واقعہ، 2020میں دہلی کے مسلم کش فسادات یا گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی ! ہر بار آگ لگا کر ہی انتقام لیا گیا۔اب ہندوستان کی "اگنی پتھ سکیم" میں سالانہ دو لاکھ نان کمیشنڈ اگنی ویر چار سال کے لیے بھرتی ہو رہے ہیں جن کے پہلے گروپ کی چار سالہ مدت ملازمت 23دسمبر 2026 کو پوری ہونے جارہی ہے۔ اگنی کا مطلب آگ اور ویر کا مطلب بھائی ہے۔ یہ آگ کے بنے بھائی چار سال تک ہندوستانی فوج سے تربیت پا کر فوج میں کام کریں گے جن میں سے 25 فیصد کی سروس چار سال بعد بھی جاری رہے گی جبکہ باقی کو "سیوا ندی پیکج" دے کر ملکی دھارے میں واپس ڈال دیا جائے گا. فروری میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے ہزاروں ریٹائرڈ فوجی افسران و نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں قومی دھارے میں بھرپور طریقے سے فعال ہونے کی ترغیب دی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آر ایس ایس ریٹائرڈ عسکری حضرات کو مستقبل میں اپنے لیے ایک بڑے اثاثے کے طور پر تاڑ رہی ہے یعنی ہر سال ڈیڑھ لاکھ عسکری تربیت یافتہ بے روزگار اگنی ویر آر ایس ایس کے ممکنہ تنخواہ دار ممبر بن سکتے ہیں۔ حزبِ مخالف کے راہول گاندھی نے بھی ایوان میں بتایا کہ آر ایس ایس کے تجویز کردہ پروگرام "اگنی پتھ" کو ہندوستانی فوج پر زبردستی مسلط کیا گیا ہے.یوں آر ایس ایس کو سرکاری خرچ پر عسکری تربیت یافتہ تیار اگنی ویر مل سکیں گے جو آر ایس ایس کے فاشسٹ ایجنڈے کی تکمیل کے لئے بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگنی پتھ پروگرام میں مسلمان بھرتیوں کا ڈیٹا پبلک نہیں۔تاہم ہندوستانی فوج میں مسلمانوں کی بھرتی آبادی کی تناسب سے 14 فیصد کے بجائے پانچ فیصد سے بھی کم ہے لہٰذا قوی گمان ہے کہ اگنی پتھ میں یہ تناسب بہت کم ہوگا۔

لبرلز اور ہندتوا نظریات سے لاعلم پاکستانی قوم کو اس فاشسٹ نظریے کے متعلق بھرپور آگہی حاصل کرنا ہوگی وگرنہ ہم لاعلمی میں اپنی بقاء و سلامتی کو ناقابل ِتلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ہمارے عسکری ادارے،ہمارے محافظ اپنے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو ہر حال میں نبھائیں گے۔ البتہ قوم کو بھی بے خبری اور خوشگمانی کی نیند سے جاگنے اور اپنے نظریات کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج پاکستانی قوم کو ترغیب دی جارہی ہے کہ باہمی اختلافات منجمند کر کے ہمیں اپنے مفاد میں ہندوستان سے صلح کر لینی چاہیے۔ اگلی نسل بعد میں فیصلہ کر لے گی۔ بنیا سازش اور جھوٹ کا ماہر ہے۔ ہم اپنے بنیادی اختلافات پسِ پشت ڈال کر کبھی بھی ہندوستان سے معاملہ نہیں کر سکتے۔ ہر چمکتی شے سونا نہیں ہوتی نہ ہی ہر میٹھی بات کے پیچھے اخلاص! صدیوں کے تجربے کی بنیاد پر بنیا تو اپنی چرب زبانی اور دو غلے پن کے لیے ویسے بھی بدنام ہے۔ 

؎دلیلِ صبح ِروشن ہے ستاروں کی تنک تابی

افق سے آفتاب اُبھرا، گیا دورِ گراں خوابی

تازہ ترین