دو اعلیٰ ایرانی ذرائع سمیت ایرانی تجارت سے باخبر افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران تیل کی فروخت اور چین سے فوجی اور دیگر سامان لینے کے لیے بارٹر تجارت کر رہا ہے۔
ان افراد نے خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے چین سے دوائیں، گاڑیاں اور مواصلاتی آلات بھی لیے ہیں، ایک سال میں یہ طریقہ کار ایران کو فضائی دفاعی سامان دینے کے لیے استعمال ہوا۔
ذرائع نے کہا کہ ایران عالمی بینکاری نظام سے گزرے بغیر چینی کمپنیوں سے چیزیں لیتا ہے۔
بارٹر نما تجارت سے متعلق خبر ایجنسی نے چینی وزارتِ خارجہ سے سوال بھی کیا ہے۔
اس پر چینی وزارتِ خارجہ نے مؤقف دیا ہے کہ اس صورتِ حال سے واقف نہیں، چین ہمیشہ یک طرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشنز نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا ہے۔