• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ویمل کیس: شاہ رخ خان، اجے دیوگن، ٹائیگر شروف کو عدالت سے ریلیف نہ مل سکا

---فائل فوٹوز
---فائل فوٹوز

بالی ووڈ اداکاروں شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف سے متعلق ویمل کیس میں دہلی ہائی کورٹ نے درخواست خارج کر دی، جس کے بعد تینوں اداکاروں کو فوری ریلیف نہ مل سکا۔

یہ درخواست ویمل الائچی پان مسالہ اشتہار سے منسلک کمپنی پی بی ایگرو کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں مہاراشٹرا فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے تینوں اداکاروں کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹسز کو چیلنج کیا گیا تھا۔

جسٹس سوارنا کانتا شرما نے درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ کے علاقائی دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

عدالت نے کہا ہے کہ نوٹسز سے متعلق اعتراضات اٹھانے کے لیے مہاراشٹرا مناسب فورم ہے۔

پی بی ایگرو نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کمپنی کا دفتر دہلی میں ہونے کے باعث دہلی ہائی کورٹ اس معاملے کی سماعت کر سکتی ہے۔

 کمپنی کے مطابق اشتہاری مہم بھی دارالحکومت میں تیار اور منظم کی گئی جبکہ برانڈ ایمبیسیڈرز کو ادائیگیاں بھی دہلی سے کی گئی تھیں۔

عدالت نے یہ مؤقف تسلیم نہیں کیا اور نشاندہی کی کہ مہاراشٹرا ایف ڈی اے کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس پی بی ایگرو کو نہیں بھیجے گئے تھے اور نہ ہی کمپنی سے جواب جمع کرانے، اشتہار ہٹانے، دستاویزات فراہم کرنے یا حکام کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا تھا۔

یہ معاملہ ویمل الائچی کے اشتہارات سے متعلق ہے، جن کے ساتھ شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف وابستہ رہے ہیں۔

 مہاراشٹرا ایف ڈی اے نے اشتہار کے ذریعے مبینہ طور پر ویمل پان مسالے کی تشہیر کرنے پر تینوں اداکاروں کو نوٹس جاری کیے تھے۔

سماعت کے دوران پی بی ایگرو نے مؤقف اختیار کیا کہ نوٹس صرف اداکاروں کو جاری کیے گئے، حالانکہ اشتہار سے متعلق کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں کمپنی کو بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ 

کمپنی نے مہاراشٹرا ایف ڈی اے کے اشتہار روکنے سے متعلق ہدایات جاری کرنے کے اختیار پر بھی سوال اٹھایا تھا۔

مرکزی حکومت اور مرکزی صارف تحفظ اتھارٹی نے درخواست کی دہلی ہائی کورٹ میں سماعت کی مخالفت کی۔

 ان کا مؤقف تھا کہ چونکہ کارروائی مہاراشٹرا ایف ڈی اے نے کی ہے، اس لیے پی بی ایگرو کو بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔

عدالت کے تازہ حکم کے بعد پی بی ایگرو کی درخواست کو علاقائی دائرہ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر دہلی ہائی کورٹ نے قابلِ سماعت قرار نہیں دیا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید