دنیا کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی گوگل نے 18اگست 2026ء کو اسلام آباد میں اپنے پہلے براہ راست آفس کا افتتاح کیا۔ گوگل دنیا کی 3بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے جسکا دنیا میں جدید ٹیکنالوجی پر راج ہے۔ گوگل کا آغاز 1995 ء میں سلیکون ویلی کے قریب اسٹین فورڈ (Stanford) یونیورسٹی کے دو طالب علموں لیری پیج اور سرگئی برن نے کرائے کے گیراج میں کیا۔ بعدازاں اس گیراج کا مالک Susan Wojcicki گوگل کا ڈائریکٹر اور بعد میں یوٹیوب کا CEO بنا۔ گوگل کی معروف پروڈکٹس میں گوگل سرچ، یوٹیوب، اینڈرائیڈ، Gmail، گوگل میپس، گوگل ایڈ، گوگل کلائوڈ اور Gemini آرٹیفیشل انٹلیجنس (AI) قابل ذکر ہیں۔
گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ نے 2025ءمیں 403 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی جبکہ یوٹیوب کی اشتہارات سے آمدنی 40ارب ڈالر تھی۔ نئی ٹیکنالوجی کی دنیا میں دوسری بڑی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا (Meta) جسکے بانی مارک زکربرگ ہیں، کا آغاز 2004 میں فیس بک سے ہوا اور بعد میں انسٹاگرام، واٹس ایپ اور Messenger جیسے بڑے پلیٹ فارمز اس میں شامل ہوگئے۔ 2025ء میں میٹا کے یومیہ صارفین کی تعداد 3.58 ارب تھی جبکہ مجموعی آمدنی 200ارب ڈالر رہی۔ ٹیکنالوجی میں تیسرا بڑا نام ٹوئٹر (Twitter) کا ہے جسے ٹیسلا کے بانی ایلون مسک نے اکتوبر 2022ءمیں 44ارب ڈالر میں خریدا اور بعد میں اسکا نام ’’ایکس‘‘ رکھ دیا گیا جو اب دنیا کا سب سے بڑا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے۔ اسی گروپ کی مشہور الیکٹرک کار ٹیسلا ہے۔ گوگل اور میٹا نئی ٹیکنالوجی کی بدولت آج لاکھوں سافٹ ویئر انجینئرز، AI ماہرین، ڈیٹا سائنسدان، ڈیجیٹل اور گرافکس مارکیٹنگ اور فری لانسرز عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ ہیں۔ گوگل کی موجودگی پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ ایشیاپیسفک میں گوگل کے دفاتر اور ٹیکنالوجی کے مراکز بھارت، سنگاپور، انڈونیشیا، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں قائم ہیں۔ گوگل کے آپریشنز کیساتھ موبز (Mobiz) نے بھی اگست 2026ءمیں NASTP میں کراچی آپریشن شروع کیا جبکہ مائیکروسافٹ نے پاکستان میں AI، کلائوڈ، ڈیٹا، بلاک چین اور سائبر سیکورٹی میں اپنے آپریشنز کی ری اسٹرکچرنگ کی ہے۔ گوگل آفس کے قیام سے پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل نیٹ ورک کا حصہ بن سکتا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ نادر موقع ہے کہ وہ صرف عالمی ٹیکنالوجی کا ’’صارف‘‘ نہیں بلکہ ڈیجیٹل سروسز کا پروڈیوسر اور ایکسپورٹر بننے جارہا ہے۔ گوگل نے گزشتہ 10سال کے دوران پاکستان میں960000 ملازمتیں اور 3900ارب روپے کی بلاواسطہ معاشی سرگرمیاں پیدا کی ہیں۔گوگل کے پاکستان میں قیام کا مقصد پاکستانی نوجوانوں کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی تربیت فراہم کرنا ہے۔
گوگل نے 150000پاکستانی نوجوانوں کیلئے گوگل کیریئر سرٹیفکیشن ٹریننگ دینے کا اعلان کیا ہے جہاں آرٹیفیشل انٹیلی جنس، سائبر سیکورٹی، ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبوں میں تربیت حاصل کرنے کے بعد پاکستانی نوجوان نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک روزگار حاصل کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر تیزی سے ترقی کررہا ہے لیکن اسکی عالمی سطح پر مقابلاتی بنانے کیلئے جدید مہارتیں اور نئی ٹیکنالوجی تک رسائی ضروری ہے اور گوگل کا آفس اس سلسلے میں پاکستان پر اعتماد اور عالمی اعتبار میں اضافہ کرسکتا ہے۔ آج پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ 4 ارب ڈالر اور فری لانسرز ایکسپورٹ تقریباً ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ نئی ٹیکنالوجی کے اسٹارٹ اپس منصوبوں میں سرمایہ کاری آرہی ہے۔
حکومت نے 2030ءتک آئی ٹی ایکسپورٹ کا ہدف 30 ارب ڈالر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں میری وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ سے درخواست ہے کہ وہ مائیکرو سافٹ، امیزون، میٹا اور دیگر عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی پاکستان میں اپنے آپریشنز کھولنے کیلئے کوشش کریں۔ مائیکروسافٹ نے 2025 ءمیں پاکستان میں اپنا براہ راست آپریشن ختم کردیا تھا۔ بھارت میں گوگل نے کلائوڈ اے آئی، اسٹارٹ اپس اور ہائی ٹیک ٹیکنالوجی کا نیٹ ورک تشکیل دیا ہے اور 2026 ءسے 2030ء تک بھارت میں تقریباً 15ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے۔ آئی ٹی سیکٹر میں پاکستانی نوجوانوں کے پوٹینشل کو دیکھتے ہوئے گوگل اور دیگر بین الاقوامی آئی ٹی لیڈرز کے تعاون سے پاکستان بھی خطے کے دیگر ممالک کی طرح جدید ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل ہوسکتا ہے۔پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر میں نوجوانوں کی تربیت، مصنوعی ذہانت (AI)، اسٹارٹ اپس، فری لانسنگ اور عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ تک رسائی کیلئے گوگل کی پاکستان میں موجودگی نہایت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔