• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ یمن کے بحران کی سنگینی کے پیش نظر سفارتی کوششوں میں فوری تیزی لانا ہوگی۔ ایک خبر کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’حوثی حملوں سے علاقائی امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔‘‘ ان کا کہنا یہ بھی تھا کہ ’’باب المندب کے گرد حوثی حملوں کا پھیلاؤ سنگین کشیدگی کا باعث بن رہا ہے، یمن کی بگڑتی ہوئی صورتحال انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب پر حوثیوں کے تمام حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، حوثی حملوں کے عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اہم بحری گزر گاہوں کو خطرے میں ڈالنے یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کے عالمی تجارت اور توانائی کے تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان، سعودی عرب کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی مکمل حمایت کرتا ہے، پاکستان، سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی بھی مکمل حمایت کرتا ہے۔‘‘ان کامزید کہنا تھا کہ ’’یمن میں کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سیاسی تصفیے کیلئےمخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ یمن میں جامع سیاسی تصفیہ پائیدار امن اور علاقائی استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے، بات اتنی بھی سادہ نہیں ہے کہ چند دنوں یا چند ماہ کے اندر اندر یمن کا مسئلہ حل ہو جائے۔‘‘ تاریخ سے نابلد معاملہ کی نزاکت کو جان لیں کہ یمن میں ایک جامع، یمنی قیادت میں اور تمام اہم فریقوں کو شامل کرنے والا سیاسی تصفیہ پائیدار امن اور علاقائی استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے لیکن اس کیلئے صرف جنگ بندی کافی نہیں ہوگی۔ سیاسی، معاشی، آئینی، حفاظتی اور علاقائی مسائل کو ایک ہی عمل میں حل کرنا ہوگا۔ موجودہ حالات میں اقوامِ متحدہ بھی اسی سمت کو قابلِ عمل راستہ قرار دے رہی ہے۔ سمجھ دار افراد جانتے ہیں کہ یمن کا محلِ وقوع اسے محض ایک داخلی تنازع کا ملک نہیں رہنے دیتا بلکہ باب المندب، آبنائے بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے ملاتی ہے، اسلئے یہاں عدمِ استحکام عالمی تجارت، توانائی اور بحری آمدو رفت پر اثر ڈال سکتا ہے۔ رواں ماہ میں اقوامِ متحدہ نے باب المندب کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن کے مغربی ساحل پر لڑائی پر خاص تشویش ظاہر کی ہے۔ اسی لیے یمن میں سیاسی تصفیہ صرف یمنیوں کیلئے داخلی امن کا مسئلہ نہیں بلکہ بحیرۂ احمر کی بحری سلامتی اور وسیع تر علاقائی استحکام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یمن کی حالیہ تاریخ میں شمالی و جنوبی یمن کی تقسیم، سال انیس سو نوے کا اتحاد، بعد کی سیاسی کشمکش، قبائلی و علاقائی طاقتوں کا اثر اور بالآخر حوثی تحریک اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان جنگ نے ریاستی اداروں کو شدید کمزور کردیا ہے۔ اس لیے مستقبل کا امن کسی ایک گروہ کی مکمل فتح کے بجائے طاقت کے اشتراک، ادارہ جاتی بحالی اور سیاسی مفاہمت پر زیادہ منحصر ہوگا۔ اقوامِ متحدہ بھی یمن کی وحدت، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو سیاسی عمل کا بنیادی اصول قرار دیتی ہے۔

امر واقع یہ ہے کہ جامع تصفیے کےچند بنیادی ستون ہیں، پہلا یہ کہ ایک قابلِ عمل سیاسی معاہدے کی تکمیل کی جائے جس میں کم از کم یہ معاملات شامل ہونا ضروری ہوں۔ اول ’’مستقل جنگ بندی اور سکیورٹی ضمانتیں۔‘‘ دوم ’’محض عارضی جنگ بندی کے بجائے بھاری ہتھیاروں، مسلح گروہوں اور سرحدی سکیورٹی کا قابلِ نگرانی انتظام۔‘‘ سوم ’’اقتدار میں شمولیت، حوثیوں، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت، جنوبی یمن کے سیاسی دھڑوں، قبائلی نمائندوں اور دیگر اہم یمنی حلقوں کو سیاسی عمل میں جگہ دینا‘‘ اور چوتھا اہم نکتہ یہ کہ ’’جنوبی یمن کی خود مختاری یا علیحدگی کے مطالبات کو نظر انداز کرنا مستقبل کے تنازع کو دوبارہ جنم دے سکتا ہے۔‘‘ اسلئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنوبی عوام کی سیاسی خواہشات کو مذاکرات کا حصہ بنا از بس لازم ہے۔ بعینہ مرکزی بینک، تیل و گیس کی آمدنی، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، بندرگاہیں اور بنیادی خدمات یہ سب سیاسی امن کیساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے بھی سیاسی پیش رفت کیساتھ معاشی بہتری کو ضروری قرار دیا ہے۔ اس پس منظر میں علاقائی طاقتوں کا کردار بھی پیش نظر رکھا جائے کیونکہ سعودی عرب، ایران، عمان اور دیگر علاقائی فریقوں کے مفادات کو یمن کے داخلی سیاسی عمل سے الگ رکھنا مشکل ہے۔ اسلئے یمنی مذاکرات کے ساتھ علاقائی سطح پر بھی کشیدگی کم کرنے کا انتظام درکار ہوگا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق بائیس ملین سے زائد یمنی انسانی امداد کے محتاج ہیں اور تقریباً اٹھارہ اعشاریہ تین ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے اصل سوال یہ ہے کہ کیا یمن کے اندرونی فریق اور بیرونی طاقتیں اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات سے کچھ پیچھے ہٹ کر مشترکہ سیاسی فریم ورک قبول کرنے پر آمادہ ہوں گی؟

اقوامِ متحدہ کے مطابق جون 2026 ء میں سولہ سو سے زائد تنازعات سے متعلق قیدیوں کی رہائی پر معاہدہ ایک مثبت پیش رفت تھی لیکن جولائی اور ستمبر کے واقعات نے یہ بھی دکھایا کہ امن کا عمل اب بھی انتہائی نازک موڑ پر ہے۔ یمن کی تاریخ اور جغرافیہ دونوں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پائیدار حل عسکری نہیں بلکہ سیاسی اور جامع ہونا ہوگا۔ ایسا تصفیہ اگر یمنی قیادت میں ہو، تمام اہم سیاسی و علاقائی مفادات کو مرتب کرے، ریاستی اداروں کو بحال کرے، معاشی وسائل کی منصفانہ تقسیم کرے، جنوبی مسئلے کو حل کرے، بحیرۂ احمر کی سلامتی کو یقینی بنائے تو وہ صرف یمن میں جنگ ختم کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ خلیجِ عدن، باب المندب، بحیرۂ احمر اور پورے خطے میں وسیع تر استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

تازہ ترین