اسلام آباد(خالد مصطفیٰ ) تیل کی قیمتوں میں اچانک تیزی نے عالمی معیشت میں مہنگائی کے نئے خدشات پیدا کردیئے ہیں، جس سے اسٹاک مارکیٹوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے جبکہ امریکا، یورپ اور ایشیا کے مرکزی بینکوں کے لیے بھی پالیسی کا منظرنامہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔مارکیٹ اسنیپ شاٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 107.75 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو 4.67 ڈالر یا 4.53 فیصد اضافہ ہے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 4.47 فیصد بڑھ کر 96.28 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ WTI مڈلینڈ 4.78 فیصد اضافے کے ساتھ 97.98 ڈالر جبکہ مربان خام تیل 3.53 فیصد اضافے کے بعد 117.07 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں ہوا۔ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا ہے کہ اس کی افواج نے یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائل روک لیے ہیں۔ یہ حملے سعودی شہروں طائف اور ینبع کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے تھے۔ اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ ان حملوں کا سختی سے جواب دیا جائے گا۔