پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے کے ایس ای-100 انڈیکس کی گزشتہ دو برس کی غیر معمولی تیزی حیرت انگیز ہے۔ 2023ءکے اختتام پر انڈیکس تقریباً 62 ہزار پوائنٹس پر تھا، 2024ءکے آخر تک 115 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگیا اور 2025ءکے اختتام پر 174 ہزار پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ یہ اضافہ تاریخی ہے، مگر سوال یہ ہے:کیا اسے حقیقی معاشی بحالی کا ثبوت سمجھا جائے یا یہ محدود کارپوریٹ منافع، کم شرحِ سود، مارکیٹ کی دوبارہ قدر بندی اور چند بڑے کھلاڑیوں کے اثر کا نتیجہ ہے؟
اسٹاک مارکیٹ اور معیشت ایک چیز نہیں ہوتیں۔ انڈیکس چند بڑی فہرست شدہ کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو کا پیمانہ ہے، جبکہ معیشت کا اصل پیمانہ صنعت، برآمدات، روزگار، نئی سرمایہ کاری، زرعی پیداوار اور عوام کی آمدن ہے۔ اگر اسکرین پر سبز رنگ اور بلند پوائنٹس ہوں مگر صنعتکار نئی فیکٹری لگانے سے گریز کرے، ٹیکسٹائل ملیں بند ہوں، کپاس کی پیداوار کم ہو اور نوجوان کو باعزت روزگار نہ ملے تو صرف مارکیٹ کی تیزی کو قومی ترقی کہنا خود فریبی ہوگی۔ملک کی صنعتی صورتحال تشویش ناک ہے۔ ٹیکسٹائل، بالخصوص اسپننگ سیکٹر، بلند بجلی اور گیس نرخوں، مہنگے مالیاتی وسائل، غیر یقینی ٹیکس پالیسی، ریفنڈز میں تاخیر اور درآمدی خام مال کی دشواریوں سے متاثر ہے۔متعدد بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں موجودگی محدود، توسیع روک یا ملک چھوڑ چُکی ہیں۔ پاکستانی صنعتکار بھی افریقہ، خلیج اور ایشیا کے ان ممالک میں مواقع تلاش کررہے ہیں جہاں پالیسی قابلِ پیش گوئی، توانائی نسبتاً سستی اور کاروباری ماحول سازگار ہے۔ گزشتہ برسوں میں ملبوسات کی تیاری کا ایک قابلِ ذکر حصہ پاکستان سے بنگلہ دیش منتقل ہوا۔کے ایس ای-100کی تیزی کا اصل محرک کیا ہے؟ جواب کمپنیوں کے مالیاتی نتائج میں ہے۔ مالی سال 2025ءمیں انڈیکس کی نمایاں کمپنیوں کے مجموعی منافع میں اضافہ معمولی رہا، جبکہ انڈیکس کی قدر میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ یعنی حصص کی قیمتیں کمائی سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھیں۔ اسکا مطلب ہے کہ مارکیٹ کا بڑا حصہ حقیقی منافع سے زیادہ قیمتوں کی دوبارہ قدر بندی پر کھڑا تھا: سرمایہ کار ہر ایک روپے کے منافع کے عوض پہلے سے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنے لگے۔یہ لازماً غلط کاری کا ثبوت نہیں۔ ڈیفالٹ کے خطرے، مہنگائی اور شرحِ سود میں کمی، نسبتاً مستحکم روپے اور آئی ایم ایف پروگرام نے سرمایہ کاروں کے جذبات بہتر کیے۔ ڈپازٹس اور سرکاری سیکورٹیز کی کشش کم ہونے پر مقامی سرمایہ شیئر مارکیٹ کی طرف آیا۔ مگر جذبات میں بہتری اور معیشت میں بنیادی تبدیلی دو مختلف چیزیں ہیں۔
انڈیکس میں بینک، تیل و گیس کی تلاش کرنیوالی کمپنیاں، کھاد ساز ادارے، پاور کمپنیاں اور چند بڑے کاروباری گروپ غالب ہیں۔ یہ پاکستان کی پوری معیشت کی نمائندگی نہیں کرتے۔ بینکوں کے ریکارڈ منافع کا تعلق بڑی حد تک سرکاری قرض، سرکاری سیکورٹیز اور بلند شرحِ سود سے رہا ہے۔ یہ کارپوریٹ کارکردگی ضرور ہے، مگر صنعتی توسیع کی دلیل نہیں۔ نجی شعبے کو سستے قرض، قابلِ اعتماد توانائی اور مسابقتی ماحول کے بغیر پائیدار ترقی حاصل نہیں ہوسکتی۔او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور ماری انرجیز بڑی مارکیٹ ویلیو رکھتی ہیں، مگر تیل کی عالمی قیمت، پیداوار اور شرحِ مبادلہ میں تبدیلی ان کے منافع کو متاثر کرتی ہے۔ کسی کمپنی کے حصص کی قیمت بڑھ سکتی ہے، حالانکہ موجودہ عملی کارکردگی کمزور ہو کیونکہ مارکیٹ مستقبل کی امید پہلے ہی قیمت میں شامل کرچکی ہوتی ہے۔علاقائی تقابل بھی احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ 2024ءمیں پاکستان کی مارکیٹ نے بھارت کی سینسیکس اور کئی علاقائی مارکیٹوں سے بہتر کارکردگی دکھائی، جبکہ سری لنکا کی مارکیٹ بھی مضبوط رہی اور بنگلہ دیش سیاسی و معاشی دباؤ کا شکار رہا۔ مگر پاکستان کی غیر معمولی کارکردگی کو معاشی برتری کہنا درست نہیں۔ ہماری مارکیٹ برسوں کی سیاسی بے یقینی، مہنگائی اور ڈیفالٹ کے خدشے کے بعد بہت کم قیمتوں پر تھی۔ نچلی بنیاد سے تیز واپسی ایک بات ہے، مستقل معاشی برتری بالکل دوسری۔پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ نسبتاً کم گہری ہے۔ بڑے حصص کا آزادانہ دستیاب حجم محدود ہونے کی وجہ سے چند بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کار، میوچل فنڈز، بروکریج ہاؤسز اور دولتمند سرمایہ کار مارکیٹ پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔ یہ کسی فرد یا ادارے پر الزام نہیں بلکہ کم لیکویڈیٹی والی مارکیٹ کی ساختی حقیقت ہے۔ چند بھاری حصص اوپر جائیں تو انڈیکس پورے ملک کی خوشحالی کا منظر پیش کرنے لگتا ہے، حالانکہ بڑی تعداد میں کاروبار مشکلات میں ہوتے ہیں۔اس ماحول میں سب سے زیادہ نقصان چھوٹے سرمایہ کار کو ہوتا ہے۔ وہ ریکارڈ پوائنٹس کی سرخیوں سے متاثر ہو کر عروج کے وقت مارکیٹ میں داخل ہوتا ہے، مگر کمپنی کی اصل قدر، قرض، منافع، ڈویڈنڈ اور رسک سے واقف نہیں ہوتا۔ معمولی مندی یا منافع وصولی کی لہر اسے نقصان میں چھوڑ دیتی ہے، جبکہ بڑا سرمایہ کار تحقیق، معلومات اور فوری اخراج کی سہولت رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں سرمایہ کاری کا فیصلہ اکثر تجزیے کے بجائے افواہ، واٹس ایپ پیغام یا کسی بروکر کے مشورے پر ہوجاتا ہے۔اسلئے پی ایس ایکس اور سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کو غیر معمولی قیمت اور حجم کی نقل و حرکت پر کڑی نگرانی، حقیقی مالکان کی واضح معلومات، افواہوں کے خلاف کارروائی اور سرمایہ کاروں کی تربیت کو ترجیح دینی چاہیے۔ میوچل فنڈز اور دیگر باقاعدہ سرمایہ کاری کے ذرائع کو فروغ دے کر چھوٹے بچت کنندہ کو براہِ راست قیاس آرائی کے خطرے سے بھی بچایا جاسکتا ہے۔مضبوط اسٹاک مارکیٹ خوش آئند ہے، مگر اسے فیکٹریوں، نئی مشینری، بہتر برآمدات، زرعی پیداوار اور روزگار سے جڑنا ہوگا۔ کے ایس ای100 کا بڑھنا خبر ہوسکتی ہے، لیکن یہ قومی ترقی کا ثبوت نہیں۔ جب تک صنعتکار پاکستان کو سرمایہ کاری کیلئے بہترین جگہ نہ سمجھے اور عام آدمی کو معاشی تحفظ و باعزت روزگار نہ ملے، تب تک ٹریڈنگ اسکرین پر چمکتے پوائنٹس کو معاشی فتح کا اعلان کہنا ایک خوبصورت مگر خطرناک سراب ہوگا۔