1885ء میں جرمنی کے انجینئر کارل بینز (Karl Benz) نے پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی پہلی موٹر کار تیار کی لیکن آلودگی پھیلنے کی وجہ سے بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی ایجاد پر کام شروع ہوا اور 2003 ءمیں ٹیسلا نے پہلی الیکٹرک کار تیار کی۔ ایک سال بعد 2004ءمیں چین نے اپنی پہلی الیکٹرک کار BYD متعارف کرائی۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2026ءتک دنیا میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت ڈیزل اور پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کا تقریباً 30 فیصد ہوجائے گی۔ ایشیا میں الیکٹرک گاڑیوں کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 2025ءمیں اس خطے میں EV گاڑیوں کی فروخت دوگنا سے بھی زیادہ رہی اور توقع کی جارہی ہے کہ 2035ءتک EV گاڑیوں کی فروخت 60 فیصد تک جاسکتی ہے۔ اس وقت دنیا میں ہر 4نئی گاڑیوں میں سے ایک الیکٹرک گاڑی فروخت ہورہی ہے اور دنیا میں چین الیکٹرک گاڑیاں بنانیوالا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ امریکہ دوسرے نمبر پر ہے۔ چین دنیا کی طلب کا 55 فیصد الیکٹرک گاڑیاں تیار کررہا ہے اور گزشتہ سال 2 کروڑ 20لاکھ الیکٹرک گاڑیوں میں سے تقریباً 3 چوتھائی یعنی 25لاکھ الیکٹرک گاڑیاں چین میں تیار کی گئیں۔الیکٹرک گاڑیوں کی کامیابی کا بڑا دارومدار 50 کلوواٹ لیتھیم بیٹری پر ہے جو 400کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کرسکتی ہے یعنی لاہور سے اسلام آباد کا سفر سنگل چارج سے کیا جاسکتا ہے۔ چین کی سب سے بڑی کمپنی BYD کراچی میں میگا موٹرز کے اشتراک سے BYDالیکٹرک گاڑیوں کا پلانٹ قائم کررہی ہے۔ چینی کمپنی ADM نے بھی پاکستان میں 350ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں 3000سے زائد چارجنگ اسٹیشنز موٹر ویز پر نصب کئے جائیں گے جن کا ٹیرف 45.55روپے سے کم کرکے 23.57 روپے مقرر کردیا گیا ہے۔ حال ہی میں لکی موٹرز نے بھی چینی آٹو کمپنی GAC کیساتھ الیکٹرک گاڑیاں بنانے کا اعلان کیا۔ لکی موٹرز کے مطابق ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور گھروں میں سولر سسٹم کے استعمال کے باعث پاکستانی صارفین تیزی سے الیکٹرک گاڑیوں اور الیکٹرک بائیکس کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔ اس وقت ملک کی ایک چوتھائی بجلی سولر سے حاصل ہورہی ہے جس سے صارفین کیلئے رات کے وقت گھروں میں گاڑیاں چارج کرنا ممکن ہوگیا ہے۔ پاکستان میں EV بائیکس کی فروخت 3گنا بڑھ کر عام موٹر سائیکلوں کی فروخت کا 5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
قارئین! ہر بحران ایک نیا موقع پیدا کرتا ہے۔ امریکہ ایران تنازع کے باعث آبنائے ہرمز سے پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی متاثر ہونے سے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس نے صارفین کو الیکٹرک گاڑیاں خریدنے پر مجبور کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ دنوں نئی آٹو پالیسی 2026-31 ءکے مسودے کی منظوری دی جس کے تحت پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کے مینوفیکچررز کو مزید 4سال تک تحفظ حاصل رہے گا جبکہ نئی الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کیلئے ٹیکس مراعات دی جائیں گی، الیکٹرک گاڑیوں اور ان کے اسپیئر پارٹس پر صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا جبکہ نئی الیکٹرک گاڑیوں(NEVs)کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپٹل ویلیو ٹیکس (CVT)اور ود ہولڈنگ ٹیکس (WHT) سے بھی استثنیٰ دیدیا گیا ہے۔ NEVs کی خریداری کیلئے قرض کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھاکر ایک کروڑ روپے اور قرض کی مدت 3 سال سے بڑھاکر 5سال کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے جبکہ چارجنگ اسٹیشنز کی درآمد پر بھی صرف ایک فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہوگی۔ حکومت نے نئی آٹو پالیسی کا مسودہ آئی ایم ایف کو بھیجا ہے جس کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کیلئے ڈیزل اور پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی مرحلہ وار کم کرکے 80 فیصد تک لائی جائیگی۔ گاڑی کی بکنگ کے بعد قیمت بڑھنے کی ذمہ داری کمپنی کی ہوگی اور خریدار کو بکنگ کے وقت ڈیلیوری کی کنفرم تاریخ بتانا لازمی ہوگا۔ پاکستان میں بننے والے الیکٹرک ٹریکٹرز، موٹر سائیکل، رکشے اور آٹو پارٹس کیلئے ایکسپورٹ ہدف 15فیصد اور الیکٹرک گاڑیوں کیلئے 20 فیصد تجویز کیا گیا ہے۔ یہ اہداف پورےنہ کرنے پر اضافی کسٹم ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔ حکومت کو پالیسی کے پہلے 5سال میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 485 ارب روپے اور ایندھن کی درآمد میں 1226ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ پاکستان میں پیٹرول اور بجلی سے چلنے والی ہائبرڈ گاڑیوں کے فروغ کیلئے آئندہ 5سال میں ٹیکس میں 20فیصد کمی کی گئی ہے اور ان پر کسٹم ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کرکے 30فیصد کرنے کی تجویز ہے جبکہ ہائبرڈ ٹریکٹروں اور بسوں پر ڈیوٹی 30فیصد سے کم کرکے 15فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق 3000سی سی گاڑیوں پر 10 فیصد ماحولیاتی لیوی جبکہ 3000سی سی سے بڑی گاڑیوں پر 19.5 فیصد ماحولیاتی لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے جس سے حکومت کو آئندہ 5سال میں 143ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ چین میں آدھے سے زائد نئی گاڑیاں الیکٹرک یا ہائبرڈ ہیں۔ اسی طرح ناروے، جرمنی، برطانیہ اور فرانس میں حکومتی سبسڈی اور چارجنگ اسٹیشنز کی وجہ سے الیکٹرک گاڑیاں تیزی سے مقبول ہورہی ہیں۔ بھارت میں الیکٹرک رکشوں اور بائیکس میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے تاہم پاکستان میں روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیاں مہنگی اور نئی EV پالیسی نہ ہونے کے باعث انکی فروخت ابتدائی مرحلے میں ہے۔ پاکستان کی گزشتہ آٹوپالیسی (AIDEP) 2021-26 ء کی میعاد ختم ہوچکی ہے۔ پاکستان میں اگر سستی EVs گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ اور موثر چارجنگ نیٹ ورک قائم کیا جائے تو پاکستان میں بھی الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔