• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت، معیارات کی پابندی لازمی قرار

فائل فوٹو۔
فائل فوٹو۔

پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کیلئے حفاظتی اور ماحولیاتی معیارات کی پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے 30 ستمبر 2026 کے نوٹیفکیشن کے مطابق رجسٹرڈ کمپنیاں، انفرادی کاروبار اور شراکت داری فرمز مقررہ شرائط پوری کرکے گاڑیاں درآمد کرسکیں گی۔

درآمد کنندگان کے پاس درست این ٹی این اور جہاں قابلِ اطلاق ہو، سیلز ٹیکس رجسٹریشن ضروری ہوگی۔ ادائیگیاں بینکاری ذرائع سے کرنا اور گاڑیوں کا ریکارڈ رکھنا ہوگا۔ بعد از فروخت سہولت کے لیے ٹیکس رجسٹرڈ ورکشاپس سے معاہدہ یا وابستگی ضروری ہے، نوٹیفکیشن میں کم از کم سرمائے کی رقم درج نہیں۔

ہر گاڑی کے لیے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اور پی ایس کیو سی اے میں رجسٹرڈ ادارے کا پری شپمنٹ انسپیکشن سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا۔ اس میں حادثہ نہ ہونے، میٹر میں ردوبدل نہ ہونے، انجن کی درست حالت، صاف اندرونی حصے، سالم شیشوں، مطلوبہ ایئر بیگز اور تاریخِ تیاری کی تصدیق ہوگی، دھواں اور شور مقررہ حدود میں ہونا بھی ضروری ہے۔

پاکستان پہنچنے کے بعد معائنہ کار ادارے کا مقامی نمائندہ سرٹیفکیٹ کی تصدیق کرے گا، جس کا خرچ درآمد کنندہ ادا کرے گا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق عمر کی پابندی ختم کردی گئی ہے۔ جون 2027 تک 30 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی برقرار رہے گی، پھر 20 فیصد ہوجائے گی۔ پاسپورٹ سے متعلق اخراجات ختم ہونے اور پانچ سال یا زیادہ پرانی گاڑیوں پر 60 فیصد ڈیپریسی ایشن (فرسودگی) کی بھی وضاحت دی گئی ہے۔

کاروباری اندازے کے مطابق پانچ سے دس سال پرانی گاڑیاں قابلِ عمل جبکہ پندرہ سال تک پرانی گاڑیاں موزوں ہوسکتی ہیں۔ تاہم عمر، ڈیوٹی اور ڈیپریسی ایشن کی تفصیلات مذکورہ نوٹیفکیشن میں درج نہیں اور الگ احکامات سے تصدیق طلب ہیں۔

قومی خبریں سے مزید