• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

24 اکتوبر 2026ء کو اقوام متحدہ اپنے قیام کے 81سال مکمل کر رہی ہے۔ گو کہ اقوام متحدہ 1945ءمیں وجود میں آئی لیکن امن وآشتی کیلئے ایک عالمی تنظیم کی ضرورت تاریخی طور پر 14ویں صدی میں سے ہی محسوس کی گئی۔اس کے بعد 1665ء میں ہیگو گروٹیش نے اپنی مشہور کتاب ’جنگ و امن کا قانون‘لکھی اور ولیم پین نے 1693ء میں پارلیمنٹ آف یورپ کا تصور دیا۔ کانٹ نے دائمی امن کیلئے چند تجاویز پیش کیں اور روسو نے یورپ کے وفاق کا ماڈل دیا اور یوں قیام امن کایہ سلسلہ 1899ءاور 1907ء ہیگ کانفرنسوں سے ہوتا ہوا لیگ آف نیشنز کے قیام اور پھر جنگ رکوانے میں ناکامی کے بعد ایک نئے ادارے اقوام متحدہ کی بنیاد ر رکھنے پر منتج ہوا۔آج ٹرمپ اقوام متحدہ کے منبر پر کھڑے ہوکر ایران کو مٹانے اور جہنم میں دھکیلنے کی دھمکی دے رہے ہیں جو دراصل نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔اس سے پہلے بھی ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو "کھوکھلے الفاظ سے بھرا ایک ادارہ" قرار دیا تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اقوام متحدہ کا ادارہ مفلوج ہوتا رہا ہے۔لیکن اسی ادارے نے انسانی حقوق کا چارٹر منظور کیا ،جس سے انسانی حقوق کونسل بنی جہاں ہر سال جنیوا میں اجلاس کے دوران ہر ملک میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے اہلکار جنوبی سوڈان میں خیموں میں سوتے ہیں، جمہوریہ کانگو میں اقوام متحدہ کے اہلکار اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ایبولا کی وبا کے خلاف مسلسل جدوجہد کرتے ہیں اور یمن میں مسلح افراد کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت رکھتے ہیں۔یونیسف نے ویکسین اور اسہال کے بہتر علاج سے ڈھائی کروڑ جانیں بچائی ہیں اوریہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ گزشتہ سال اقوام متحدہ کے 136ملازمین امدادی کام کرتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔غزہ میں اقوام متحدہ کے اہلکار مسلسل امداد تقسیم کر رہے ہیں اسکے برعکس صدر ٹرمپ نے 2ہزار پاؤ نڈ وزنی بم اسرائیل کو فراہم کیے ہیں جنہیں رہائشی علاقوں کو تباہ کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجودآج بھی اقوام متحدہ کے اہلکار غزہ میں امن قائم کرنے اور اسرائیلی چوکیوں سے امداد گزارنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔دوسری طرف یو ایس ایڈ کی امریکی امداد کم ہونے سے ایک اندازے کے مطابق 7لاکھ 50ہزار جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔آج اگر یونیسیف، ورلڈ فوڈ پروگرام، اقوام متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین اور اقوام متحدہ کا دفتر برائے رابطہ انسانی امداد (UNOCHA) نہ ہوتے تو ہر سال مزید لاکھوں بچے مر رہے ہوتے۔یاد رہے کہ اقوام متحدہ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد بنانے میں امریکہ نے بہت مدد کی تھی جس سے عالمی امن اور تعاون و اتحاد ارتقاء پذیر ہوا۔لیکن آج کے اقوام متحدہ کے بارے میں مایوس کن رویے بھی امریکہ کی وجہ سے ہی سامنے آرہے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ1945ء میں اقوام متحدہ کے قیام کے فوراََ بعدامریکہ اور یورپین ممالک نے ملکر 1947میںGATTکے معاہدے کے تحت عالمی تجارت کو ریگولیٹ کرنا شروع کر دیالیکن اس میں تیسری دنیا کے ساتھ تجارت یا اسکی انڈسٹریلائزیشن کے بارے میں کوئی ذکرنہ تھا۔اسی دوران دنیا کے وہ ممالک جن کی قومی آزادی کی تحریکوں میں سویت یونین نے مدد کی تھی، وہ اقوام متحدہ کے رکن بننا شروع ہوئے اوریوں 1960ء تک ان رکن ممالک کی تعداد60سے بڑھ کر 99ہوگئی جسکی وجہ سے اقوام متحدہ کے اداروں پرامریکہ اپنا تسلط قائم نہ رکھ سکا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کے زیر اہتمام عالمی تجارت، پرائمری کموڈیٹی ٹریڈ اور نارتھ ساؤتھ ممالک کے درمیان نئے سرے سے اقتصادی تعلقات کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔یوں سویت یونین کی مدد سے اقوام متحدہ کے تحت UNCTADاور UNIDOجیسے ادارے بنائے گئے جنکے تحت تیسری دنیا کے ممالک میں تحقیق و تربیت اور ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی جیسے اقدامات کیے گئے جن سے GSPکے نفاذ کا راستہ ہموار ہوا۔ تیسری دنیا کے ممالک کیلئے قرضوں میں ریلیف دینے کیلئے پیرس کلب کی بنیاد رکھی گئی اور 1991ء تک تیسری دنیا کے50غریب ملکوں کو 6.5بلین ڈالرز کے قرضوں میں ریلیف دیا گیالیکن سویت یونین کے خاتمے کے ساتھ ہی ترقی یافتہ ممالک نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایسے تمام اداروں کو تباہ و برباد کر دیا جو تیسری دنیا کیلئے پالیسیاں مرتب کر رہے تھے اوریہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ عالمی مبصرین آنے والے وقتوں میں اقوام متحدہ کے ادارے کی مزید ابتری دیکھ رہے ہیں کیونکہ اقوام متحدہ کو اس سال ایک نیا سیکرٹری جنرل منتخب کرنا ہے جس کیلئے ایک بے باک اور شعور سے مزین راہنماکی ضرورت ہے جو اس عالمی ادارے کو استعمال کرتے ہوئے دنیا میں جنگوں اور انسانی بحرانوں سے نبٹ سکے۔ لیکن لگ ایسا رہا ہے کہ ٹرمپ کسی ایسے امیدوارپر کبھی بھی متفق نہیں ہوگااور وہ ایک ایسے غیر معروف شخص پر اتفاق کر لے گا جس سے یہ ادارہ نہ صرف مزید تنزلی کا شکار ہو گابلکہ ایبولا جیسی اور وبائیں بھی ابھریں گی، جنگوں کا خدشہ بڑھ جائے گا جس سے 8ارب انسانوں کا یہ کرہ ارض مزید تاریکی کی نذر ہو سکتا ہے۔آج دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ یمن و بحیرہ احمر تک پھیل چکی ہے، منشیات، وبائیں، مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر ہیکنگ، دہشت گردی، انسانی سمگلنگ، موسمیاتی تبدیلیاں اورغزہ جنگ کی تباہ کاریاں دنیا بھر کے ممالک سے ایک باہمی تعاون پر مبنی رد عمل چاہتے ہیں اور اقوام متحدہ ہی ان مشکلات کے حل کیلئے ایسافورم مہیاکرتا ہے۔لیکن ٹرمپ انتظامیہ اور اسکے حواری ممالک اقوام متحدہ کومسلسل پیچھے دھکیل رہے ہیں جسکی وجہ سے یہ ادارہ تقریباً غیر موثر ہو گیا ہے۔اسلئے تیسری دنیا کے ممالک کو چاہیے کہ وہ متحد ہو کر چین اور روس کی مدد سے اس ادارے کی تکریم کو دوبارہ بحال کروائیں تاکہ امریکہ کی عالمی تسلط کی پالیسیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

تازہ ترین