امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن 321 روزہ طویل تعیناتی کے بعد بالاخر واپس امریکا پہنچ گیا۔
امریکی اخبار کے مطابق جہاز پر تقریباً 5 ہزار اہلکار سوار تھے اور ایران کے خلاف جنگ کے دوران تعیناتی طویل ہونے کے باعث جہاز پر تازہ خوراک کی قلت اور پلمبنگ کے مسائل سامنے آئے تھے۔
دوسری جانب عالمی میڈیا میں جہاز پر تعینات اہلکاروں کے ذہنی حالت پر بھی تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
جہاز کو نومبر میں معمول کی تعیناتی پر بھیجا گیا تھا، تاہم فروری میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد جہاز کی مشرق وسطیٰ میں تعیناتی طویل ہو گئی تھی۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے یو ایس ایس ابراہم لنکن کے سان ڈیاگو کی بندرگاہ کے قریب پہنچنے پر دورہ کیا اور کہا کہ مشن کی ضرورت کے باعث اس جہاز کی تعیناتی میں 2 مرتبہ توسیع کی گئی۔