چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ عملاً صوبے میں اس وقت گورنر راج ہے، صوبائی حکومت کام کررہی ہے وفاقی حکومت کی مداخلت سے صوبہ کمزور ہوگیا ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی کے خاتمے کے طریقہ کار پر اختلاف ہے جس کو ختم کیا جاسکتا تھا، صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی اس کا علاج نہیں ہیں، ایمرجنسی یا گورنر راج کی کوئی ایسی صورتحال ہے تو وفاقی یا صوبائی اپیکس کمیٹی کی میٹنگ بلا لیں، تمام سیاسی جماعتوں کی سن لیں تاکہ عوام اس کی اونرشپ لے لیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج سے حالات مزید خراب ہوجائیں گے، اس وقت خیبر پختونخوا کسی مزید تجربہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا لانگ مارچ 6 مطالبات کے لیےتھا، ہمارے مطالبات آئینی اور قانونی ہیں، ملک کی سیاسی قیادت کو بصیرت سے کام لینا ہوگا، ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جس سے تناؤ بڑھے، ہمارے 8 ایم این اے اور 9 ایم پی اے اٹھائے گئے ہیں یا غائب ہیں۔