وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کے پی حکومت نے اسلام آباد پر چڑھائی کا ناپاک منصوبہ بنایا، یہ دوبارہ پاکستان کو تباہی کے دہانے کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی اور پولیس کو مضبوط نہیں کیا گیا، صوبائی حکومت دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے خاموش ہے اور دہشت گردوں کے خلاف ایک لفظ نہیں بولتی، افواج پاکستان چن چن کر دہشت گردوں کو جہنم رسید کر رہی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا ہے کہ پولیس اور سی ٹی ڈی کو ہتھیاروں سے لیس کرنا خیبرپختونخوا حکومت کی ذمے داری ہے، دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا وفاق کے ساتھ صوبے کا بھی فرض ہے لیکن کے پی حکومت خاموش ہے اور صورتحال ہر روز خراب ہوتی جا رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹیم ورک کے ذریعے اقتصادی اشاریے بہتری کی طرف جا رہے ہیں، کیا کے پی حکومت بار بار حالات خراب کرنا چاہتی ہے؟ قانون اپنا راستہ اپنائے گا اور ہر صورت اپنائے گا۔
وزیراعظم نے کہا ہے کہ فیصلہ کیا ہے کہ کے پی حکومت کے پاس ایک وفد بھیجا جائے تاکہ معاملات حل ہوجائیں، پی ٹی آئی کے ساتھ خلوص نیت سے بات چیت ہوئی، خیبرپختونخوا پاکستان کی فرنٹ لائن تھی جو دہشت گردوں سے نبردآزما تھی، تقریباً 800 ارب روپے خیبرپختونخوا حکومت کو دیے جاچکے ہیں، لیکن صوبے میں نہ پولیس کو مضبوط کیا گیا اور نہ سی ٹی ڈی کو۔
وزیراعظم نے سوال کیا کہ کیا آج کے پی حکومت یا وزیراعلیٰ کو دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کرنے یا شہداء کے لیے دو بول کہنے کی توفیق ہوئی؟ یہ دوبارہ پاکستان کو تباہی کے دہانے کی طرف لے جانا چاہتے ہیں اور اس سے زیادہ ملک دشمنی کی کوئی اور حرکت نہیں ہوسکتی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے پاس ایک وفد بھیجیں گے، ہماری کوشش ہے کہ لوگ بربادی سے بچ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہوچکا ہے اور اسی سال اگلی قسط مل جائے گی، ایم ڈی آئی ایم ایف نے پاکستان کے ناقابل یقین اقدامات اور معاشی استحکام کے لیے کوششوں کا اعتراف کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نیو یارک میں ایم ڈی آئی ایم ایف سے مثبت گفتگو ہوئی، معاشی استحکام کے لیے پاکستان کی کوششیں ایک اہم تبدیلی ہیں، چیلنجز پر قابو پانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں اور معاشی اصلاحات کے لیے حکومتی کوششوں کو پذیرائی ملی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، آبنائے ہرمز میں بدقسمتی سے حالات دوبارہ خراب ہوگئے ہیں، سفارتی کوششوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بہت بڑا کردار ہے، خطے کی صورتحال کے لیے پاکستان خلوص نیت سے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا انتہائی برادر ملک اور قابل اعتماد دوست ہے، ہماری تاریخ میں سعودی عرب سے تعلقات برادرانہ رہے ہیں اور مختلف ادوار میں سعودی شاہی خاندان نے پاکستان کی مدد کی، ایران ہمارا برادر اور ہمسایہ ملک ہے، ایرانی قیادت سے بات چیت ہوتی رہتی ہے، ہمارا ایک ہی مقصد ہے کہ خطے میں امن قائم ہو۔
شہباز شریف نے کہا ہے کہ باب المندب میں خونی کھیل کھیلا جا رہا ہے، حوثیوں کی کارروائیاں انتہائی خطرناک ہیں، جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، چند ہفتے پہلے مکہ مکرمہ میں ایک ڈرون حملے کو ناکام بنایا گیا، پاکستان مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور سعودی عرب کے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہے، پاکستان سعودی عرب کے خلاف جارحیت برداشت نہیں کرے گا۔
وزیراعظم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی سے متاثر ہے اور افواجِ پاکستان دہشت گردوں کو ختم کر رہی ہیں، افغانستان کو کئی بار سمجھایا لیکن انہیں بات سمجھ نہیں آرہی، افغانستان کو باور کروایا ہے کہ ہم ہمسائے ہیں اور قیامت تک ہمسائے رہنا ہے۔
شہباز شریف نے کہا ہے کہ معیشت کے اشاریے دن بدن بہتر ہو رہے ہیں، لیکن یہ پاکستان کا حشر نشر کرنا چاہتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں اور ایک کروڑ سے زائد افراد وزیراعظم فیول سبسڈی اسکیم سے فیض یاب ہوچکے ہیں۔