• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں میری زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس میں کراچی پشاور ML-1ریلوے لائن منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ ML-1 کا بڑا مسئلہ فرسودہ ٹریک اور کمزور انفراسٹرکچر ہے۔ پاکستان کو 161 سال پرانی ریلوے لائن برطانوی راج سے وراثت میں ملی تھی مگر اس عرصے میں ریلوے لائن اور سسٹم میں کوئی اپ گریڈیشن نہیں کی گئی اور پرانے کمزور انفراسٹرکچر کی وجہ سے آئے دن حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں میں ریلوے بوگیوں کے پٹری سے اترنے کے باعث 400 سے زائد اور 158 دیگر حادثات پیش آچکے ہیں۔ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف نے ML-1 ریلوے اپ گریڈیشن منصوبے پر کام تیز کرنے اور اربوں روپے کی ریلوے اراضی پر تجارتی منصوبوں کے ذریعے بینک فنانسنگ حاصل کرکے ML-1 کو تجارتی بنیادوں پر تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔وفاقی سیکریٹری معاشی امور نے ML-1کی بریفنگ میں قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ML-1تقریباً 1726 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک منصوبہ ہے جسے پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک کو جدید بنانے اور کارگو کو جدید طریقوں پر استوار کرنے کیلئے تشکیل دیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت ٹریکس کے ارد گرد حفاظتی باڑ اور جدید ٹیلی کام سگنلز کی تنصیب کی جائے گی، ٹرینوں کی یومیہ آمد و رفت کی تعداد بڑھ کر 34 سے 171 ہوجائے گی، کارگو (فریٹ) ٹرینوں کے لوڈ میں یومیہ گنجائش 22000 ٹن سے بڑھ کر 96000 ٹن یومیہ ہوجائے گی۔ سیکریٹری معاشی امور نے بتایا کہ ML-1 منصوبہ 6.68 ارب ڈالر کی لاگت سے 2030 تک مکمل ہوگا۔ ابتدائی طور پر چینی رعایتی قرض کو منصوبے کی بنیاد بنایا گیا تھا لیکن چین سے فنانسنگ نہ ہونے کی وجہ سے اب وفاقی حکومت، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، عالمی بینک، دیگر عالمی مالیاتی اداروں، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اور PSDP جیسے متبادل فنانسنگ ذرائع پر کام کررہی ہے۔ ML-1 پانچ سیکشنز پر مشتمل ہے۔ پہلا سیکشن کراچی روہڑی ٹریک، دوسرا سیکشن روہڑی ملتان ٹریک، تیسرا سیکشن ملتان لاہور ٹریک، چوتھا سیکشن لاہور راولپنڈی ٹریک اور پانچواں سیکشن راولپنڈی پشاور ٹریک ہے۔ کراچی روہڑی ریلوے ٹریک کو پہلے مرحلے میں مکمل کیا جائے گا۔ اس طرح ML-1 منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف پاکستان ریلوے کی مال برداری کا حصہ بڑھ کر 20 فیصد ہوجائے گا بلکہ ڈیزل کی امپورٹ کی مد میں سالانہ 500 ملین ڈالر کی بچت بھی ہوگی۔ قارئین! ML-1منصوبہ پہلے سی پیک کا حصہ تھا لیکن بعد میں اسے سی پیک سے نکال دیا گیا۔ اس منصوبے کی اصل لاگت 9 ارب ڈالر تھی جسے کم کرکے 6.68 ارب ڈالر تک لایا گیا جس کیلئے منصوبے کی بعض سہولتوں کو پہلے مرحلے سے نکال دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر منصوبے کی لاگت کم کرنے کیلئے باڑ (فینسنگ) 3600کلومیٹر سے کم کرکے 1300 کلومیٹر، 631 ریلوے پھاٹک کو کم کرکے 165 انڈر پاسز اور فلائی اوور میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ریلوے ٹرین چلانے کی تجویز ہے جبکہ انفراسٹرکچر کو 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ٹرین چلانے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے جس پر میں نے شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ 6.68 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے صرف 120 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کا ٹرین نیٹ ورک ایک مذاق لگتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں ٹرینیں 250 سے 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔ حال ہی میں، میں مراکو سے آیا ہوں جہاں البراق بلٹ ٹرین 360 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی۔ انٹرنیشنل یونین آف ریلوے (UIC) کے مطابق تیز رفتار ٹرین کیلئے 250 کلومیٹر فی گھنٹہ ایک معیار ہے۔ چین سمیت مختلف ممالک میں کمرشل تیز رفتار ٹرین 300 سے 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں۔ ML-1 منصوبے میں ٹرینوں کی رفتار کم ہونے پر میرے اعتراض کو سینئر صحافی رؤف کلاسرا اور دیگر معاشی تجزیہ نگاروں نے سراہتے ہوئے اپنے ٹی وی پروگرامز میں بھی اٹھایا۔ رؤف کلاسرا اور دیگر معاشی تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور پاکستان 6.68 ارب ڈالر کا قرضہ لے کراب تک 120 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی پٹری بچھارہا ہے جس پر قائمہ کمیٹی کے ممبران کی حیرانی قابل دید تھی۔ کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ چین کے ساتھ اس منصوبے پر 12 سال تک مذاکرات کے باوجود یہ منصوبہ سی پیک میں کیوں نہیں شامل کیا گیا؟ اطلاعات ہیں کہ چینی انجینئرز نے اس پروجیکٹ کیلئے سیکورٹی ضروریات پوری نہ ہونے پر خدشات ظاہر کئے تھے۔ ریلوے ٹرینوں کی رفتار کے علاوہ اصل مسئلہ جدید ٹیکنالوجی کا حصول بھی ہے۔ پاکستان اگر آج ایسی ٹیکنالوجی منتخب کرتا ہے جسے چند سال بعد اربوں ڈالر خرچ کرکے دوبارہ تبدیل کرنا پڑے تو یہ نہایت مہنگا پڑے گا لہٰذا ML-1منصوبے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا حصول بنیادی ترجیح ہونا چاہئے۔ ML-1 مکمل ہونے سے پاکستان کو نہ صرف خطے بالخصوص وسط ایشیائی ممالک تک تجارتی کوریڈور کی سہولت میسر ہوگی بلکہ لاجسٹک اخراجات میں بھی کافی حد تک کمی آئے گی جو ملکی معیشت کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔

تازہ ترین