مقبوضہ کشمیر کی متحدہ مجلس علماء نے نریندر مودی کی سرکار کی جمعے کے یکساں خطبے کی کوشش مسترد کردی۔
نریندر مودی سرکاری نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جمعے کے یکساں خطبات کرانے کی کوشش کی، جو متحدہ مجلس علماء نے مسترد کی ہے۔
میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ مذہبی گفتگو کو کسی قانونی یا انتظامی ادارے کے ذریعے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ منبر ایک امانت ہے اور مذہبی رہنما علماء، آئمہ اور تسلیم شدہ مذہبی اداروں کا دائرہ کار ہے۔
انہوں نے وقف بورڈ سے سپرد کی گئی جائیدادوں کا انتظام، دیکھ بھال اور فرائض تک خود کو محدود رکھنے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نےکہا کہ یہ بی جے پی کی طرف سے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی ناقابل قبول کوشش ہے اور اسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔