• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نظام ناکام ہوچکا ہے: ایمان مزاری اور ہادی علی کو عدالت میں پیش نہ کرنے پر جج کا اظہارِ برہمی

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف بیریئر ہٹانے کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں وکلاء ایمل مندوخیل اور ریاست علی عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل ایمل مندوخیل نے عدالت کو بتایا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے عدالتی حکم کے باوجود تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، ایمان مزاری اور ہادی علی سے علیحدہ کمرے کے بجائے کانفرنس روم میں ملاقات کرائی گئی، جہاں رازداری میسر نہیں تھی اور جیل اہلکار گفتگو سنتے رہے۔

ایمل مندوخیل نے کہا ہے کہ جیل حکام نے دستاویزات اندر لے جانے یا ملزمان کو دینے کی اجازت نہیں دی، ملاقات صرف 25 منٹ جاری رہی، جس کے باعث کیس سے متعلق مؤثر مشاورت نہیں ہو سکی۔

وکیل کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی ٹرائل کا بائیکاٹ نہیں کر رہے بلکہ دونوں ملزمان ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں، دونوں نے عدالتی احکامات کو چیلنج کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ جیل حکام بتائیں کہ ملزمان کو عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا، جیل حکام کی رپورٹ نہ آنے کی صورت میں ایس ایس پی کو طلب کیا جائے گا۔

جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ ہمارا نظام ناکام ہو چکا، وکلاء کی عزت عدالتوں سے ہے، اگر عدالتیں نہ ہوں تو وکلاء کی عزت کون کرے گا؟

دورانِ سماعت وکیل ریاست علی نے کہا کہ اب کالے کوٹ والوں کو لوگ برا بھلا کہتے ہیں۔

جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ گزشتہ روز جب میں نے دیگر باتیں کیں تو ایمان مزاری اور ہادی علی کو سمجھ آ رہی تھی، لیکن جب کیس سے متعلق بات شروع ہوئی تو انہیں آواز کا مسئلہ ہونے لگا۔

قومی خبریں سے مزید