• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ولودومیر زیلنسکی کا ڈونلڈ ٹرمپ پر دھوکا دینے کا الزام، روسی تیل کی تنصیبات پر دوبارہ حملے کا اعلان

وولودیمیر زیلنسکی---فائل فوٹو
وولودیمیر زیلنسکی---فائل فوٹو

یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر دوبارہ حملے شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے روکنے کی پابندی ختم ہو چکی۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو انٹرویو کے دوران زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روس کے ساتھ ڈیزل معاہدے اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بڑھتی قربت پر تنقید کی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے لیے روس سے 300,000 میٹرک ٹن ڈیزل کی فراہمی کا معاہدہ کیا ہے جبکہ مزید 500,000 میٹرک ٹن فراہم کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

زیلنسکی کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ یوکرین نے روسی توانائی کی تنصیبات پر حملے 2 روز کے لیے روکے تھے، روس نے اس دوران یوکرین کے دارالحکومت کیف کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کو روسی بیلسٹک میزائلز سے متعلق امریکی پیشگی انتباہی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

امریکا اور یوکرین کے تعلقات میں کشیدگی کے دوران زیلنسکی نے صحافی پیئرز مورگن کو دیے گئے انٹرویو میں پوچھے گئے سوال ’کیا ٹرمپ انتظامیہ نے آپ کو دھوکا دیا؟‘ کے جواب میں کہا ’ہاں، مجھے صدر ٹرمپ کی جانب سے دھوکے میں رکھا گیا۔‘

دوسری جانب یوکرین میں اسٹار لنک کی خدمات محدود ہونے سے فوجی کارروائیاں اور ڈرون مشن متاثر ہوئے ہیں۔

یوکرینی حکام کے مطابق امریکی حکام نے توانائی کی تنصیبات پر حملے جاری رکھنے کی صورت میں انٹیلیجنس معلومات روکنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید