اٹھارویں صدی میں جس طرح فرانسیسی انقلاب نے یورپین تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے، اسی طرح اکتوبر انقلاب نے بھی بین الاقوامی سطح پر قوموںکے درمیان باہمی تعلقات کی بنیادیں ہلا دیں۔ ریاست اور لوگوں کے درمیان ازسر نو رشتوں کی تشکیل ہونا شروع ہوئی اور یوں ریاست نے تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور رہائش جیسی بنیادی ضروریات کی ذمہ داری قبول کر لی۔اکتوبر انقلاب کے دور میں تیسری دنیا کے وہ ممالک جویورپین نو آبادیاتی تسلط میں تھے، انہیں سماجی اور سیاسی پلیٹ فارم مہیا کیے گئے تاکہ آزادی کی جدو جہد تیز سے تیز تر ہو سکے۔اس انقلاب نے برصغیر میں آزادی کی جدوجہد کرنے والوں پر گہرا اثر ڈالا۔کئی ہندوستانی دانشوروں جن میں عبید اللہ سندھی، شوکت عثمانی، رفیق احمدا ور ایس۔ایم۔ مہدی شامل تھے، نے سوویت یونین کا دورہ کرکے یہ سمجھنا شروع کیا کہ ہندوستانی عوام اپنی جدوجہد کے ذریعے کس طرح نو آبادیاتی تسلط سے جان چھڑا سکتے ہیں۔ شوکت عثمانی نے اپنے ماسکو سفر کی روداداپنی کتاب"پشاور سے ماسکو تک"میں لکھی جو 1937ء میں خفیہ طور پر بنارس میں شائع ہوئی۔اسی طرح رابندر ناتھ ٹیگور نے 1927ء میں سوویت یونین کا سفر کیا اور وہاں اکتوبر انقلاب سے ہونے والی سماجی تبدیلیوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ بنگال میں اپنے قائم کر دہ ادارے"شانتی نکیتن"میں کئی اصولی تبدیلیاں کیں۔ 1921ء میں چینی کمیونسٹ پارٹی کا قیام بھی دراصل براہ راست اکتوبر انقلاب کا مظہر تھا اور اسی وجہ سے بالآخر 1949ء میں پورے چین کو آزادی ملی۔اکتوبر انقلاب کے وقت ویتنام، فرانس کی نو آبادی تھا، آخر کار ویتنامیوں نے اکتوبر انقلاب کے بنیادی اصولوں سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے اپنی سیاسی راہیں یوں متعین کیں جس سے وہ نہ صرف مقامی طور پر مضبوط ہوئے بلکہ فرانسیسی نو آبادیاتی طاقت اور بعد میں امریکی مداخلت کے خلاف ایک قابل ذکر قوت بن گئے۔سوویت یونین نے مادی اور عملی طور پر افریقہ کی تمام قومی آزادی کی تحریکوں کی حمایت کی جو یورپین نو آبادیاتی طاقتوں، برطانیہ، فرانس،بلجیم اور پرتگال کے خلا ف آزادی کی جنگیں لڑ رہی تھیں۔ لاطینی امریکہ میں قومی آزادی کی جدوجہد انیسویں صدی کے آخر تک کافی حد تک مکمل ہو چکی تھی اور یہاں اکتوبر انقلاب نے زیادہ تر سماجی آزادی اور طبقاتی جدوجہد کے پس منظر میں ان معاشروں پر اثر ڈالا۔یوں دوسری جنگ عظیم کے بعد لاطینی امریکہ میں امریکہ کی بالادستی کے خلاف نفرت بڑھی جس سے سوویت یونین کا اثر بھی اس علاقے میں بڑھنے لگا۔اکتوبر انقلاب کے سیاسی اثرات کیوبن انقلاب کے بعد شروع ہوئے اور یہ اتنے وسیع ہوگئے کہ امریکہ کے "منرو ڈاکٹرائن "کا مرکزی محور بن گئے۔
نو آبادیاتی قوتوں سے آزادی میں مدد کے ساتھ ساتھ سوویت یونین نے تیسری دنیا کے ممالک کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں بھرپور حصہ لیا تاکہ وہ بڑے پیمانے پر انڈسٹریلائزیشن کر سکیں جس میں خاص طور پر اسٹیل کی صنعت کی ترویج تھی۔بھارت کی 35فیصد، ایران کی 70فیصد اور مصر کی 95فیصد اسٹیل کی صنعتیں سوویت یونین کی مدد سے تیار ہوئیں۔عراق کو بجلی فراہم کرنے کیلئے 55فیصد جبکہ افغانستان کو 60فیصد اور شام کو 70فیصد پلانٹس لگا کر دیے۔ یہاں یہ با ت قابل ذکر ہے کہ سوویت یونین کی تیسری دنیا کو دی جانے والی امداد کو صرف ناپ تول کے پیمانے میں نہیں دیکھا جا سکتااور نہ ہی اس کا موازنہ یورپی اور امریکی امداد سے کیا جا سکتا ہے جو کہ خالصتاً منافع خوری اور اپنی اقتصادی اجارہ داری کے فروغ کیلئے دی جاتی تھی۔ سوویت یونین نے جو امداد تیسری دنیا کو دی، وہ یا تو گرانٹ کی شکل میں یا کریڈٹ کی شکل میں دی ۔کریڈٹ کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ طویل مدتی قابل واپسی ہونے کے ساتھ ساتھ کم تر شرح سود پر تھا۔اس کے علاوہ ان قرضوں کی واپسی خام مال کی شکل میں بھی ہوئی جیسا کہ لیبیا نے سوویت یونین کو تیل کی شکل میں اپنا قرض واپس کیا۔1977ء میں تین سو پاکستانی انجینئرز نے سوویت یونین میں تعلیم حاصل کی جس سے پاکستان نے1. 9ملین ٹن اسٹیل پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی۔اس پروجیکٹ پر 770ملین روبلز کا خرچ آیا جس کی واپسی کاٹن، کارپٹ،کپڑے اور جوتوں کی مصنوعات کی شکل میں ہوئی۔1983ء تک سوویت یونین نے تیسری دنیا کے 50ملکوں کے ساتھ تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تعاون کے معاہدے کیے۔ اس نے تیسری دنیا کو نہ صرف خود کفیل بنانے کی بلکہ انہیں اینگلو امریکن اجارہ داری سے محفوظ رکھنے کی کوشش بھی کی۔لیکن سوویت یونین کے خاتمے کے ساتھ ہی امریکہ کے اقتصادی گلوبلائزیشن کے پروگرام نے حقیقت کا روپ دھار لیا، تیسری دنیا کے ممالک اس گلوبلائزیشن کی یلغار کا مقابلہ نہ کر سکے اور انہیں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ڈبلیو ٹی او کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ یوں تیسری دنیا کے بارڈز سرمایہ کاری کیلئے کھول دیے گئے جس سے مذہبی انتہا پسندی عالمی حوالہ بن کر ابھری اور سماجوں کے مسائل کا سیکولر اور طبقاتی حل ماند پڑتا چلا گیا۔امریکہ نے تیسری دنیا کو ہتھیار فروخت کرنے میں تیزی دکھائی اور ان ہتھیاروں کی فروخت کیلئے بہت سی جنگیں بھی مسلط کیں جو سوویت یونین کے ہوتے ہوئے تقریبا ًناممکن تھیں۔
آج صدر ٹرمپ کی وینزویلا، کیوبا اور ایران پر یلغار اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ چین اور روس، سوویت یونین کی طرح تیسری دنیا کے ممالک کو برکس کے فورم پر منظم کریں۔ اسکے ساتھ ساتھ پیرس ماحولیاتی معاہدے پر عمل در آمد، سوئفٹ (SWIFT) نظام کے متبادل،برکس برج سسٹم کے ذریعے مالیاتی نو آبادات کے خلاف منظم اقدامات، مقامی کرنسیوں میں تجارت، ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی اوراقوم متحدہ کے ادارے کی توقیر بحال کرنے کی کوششوں کو تیز تر کیا جائے۔اس فورم پر آج سب سے زیادہ ضرورت یہ ہے کہ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان امن و آشتی کے دور رس اقدمات کیے جائیں تاکہ یہ علاقہ امریکی فوجی اڈوں سے آزاد ہوسکے۔