• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خواتین کی آنکھ صبح ساڑھے 3 بجے کیوں کھل جاتی ہے؟ ماہرین نے حیران کن وجہ بتا دی

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

طبی ماہرین نے ان ممکنہ وجوہات کی نشاندہی کی ہے جن کے باعث ایک مخصوص عمر کے بعد بڑی تعداد میں خواتین رات کے دوران بالخصوص صبح ساڑھے 3 بجے کے قریب جاگ جاتی ہیں۔

برطانوی ویب سائٹ مائی لندن کے مطابق ڈاکٹر آسکر ڈیوک نے رواں ہفتے بی بی سی کے پروگرام ’مارننگ لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔

ان کا یہ بیان ایک تحقیق کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انکشاف کیا گیا کہ 40 سال سے زائد عمر کی 10 میں سے 9 خواتین کی آنکھ رات کے دوران تقریباً صبح ساڑھے 3 بجے کھل جاتی ہے۔

پروگرام کے میزبان نے کہا کہ میرے خیال میں یہ بات ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن نہیں ہو گی کہ ہم میں سے بڑی تعداد پوری رات سکون سے نہیں سو پاتی، 40 سال یا اس سے زائد عمر کی 10 میں سے 9 خواتین باضابطہ طور پر ’کلب 330‘ میں شامل ہو چکی ہیں، مجھے ابتداء میں کلب 330 سے کیا مراد ہے؟ سمجھ نہیں آیا لیکن کیا اس کا تعلق اس وقت سے ہے جب خواتین کی آنکھ کھلتی ہے؟

اس پر ڈاکٹر آسکر ڈیوک نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جی ہاں، ’کلب 330‘ سے مراد رات کے ساڑھے 3 بجے سے ہے، یعنی اس وقت کون جاگ رہا ہے، یہ تحقیق ایک گدے بنانے والی کمپنی نے کروائی ہے، اس لیے ہمیں اپنے معلوماتی ذرائع کے حوالے سے محتاط رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس تحقیق میں 40 سال سے زائد عمر کی 1 ہزار سے زیادہ خواتین سے رات کے دوران نیند سے جاگنے کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

ڈاکٹر آسکر ڈیوک نے کہا کہ تحقیق کے مطابق خواتین کی بھاری اکثریت، یعنی تقریباً 10 میں سے 9 صبح 7 بجے سے پہلے کم از کم ایک مرتبہ جاگ جاتی ہیں، بہت سی خواتین اس سے بھی پہلے بیدار ہو جاتی ہیں، اس مطالعے میں شامل خواتین کے جاگنے کا سب سے عام وقت صبح ساڑھے 3 بجے سامنے آیا۔

تحقیق کے مطابق 40 سال یا اس سے زائد عمر کی 84 فیصد خواتین رات کے دوران باقاعدگی سے نیند سے جاگ جاتی ہیں، جبکہ 78 فیصد خواتین کے ساتھ ایسا رات 1 بجے سے صبح 4 بجے کے درمیان ہوتا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ان خواتین کے لیے نیند سے جاگنے کا سب سے عام وقت صبح 3 بج کر 30 منٹ اور 16 سیکنڈ ہے۔

اس دوران بعض خواتین چھت کو تکتی رہتی ہیں، لحاف ایک طرف ہٹا دیتی ہیں، اپنا فون اٹھا لیتی ہیں یا یہ حساب لگانے لگتی ہیں کہ الارم بجنے سے پہلے اب کتنے گھنٹے باقی رہ گئے ہیں؟

برطانیہ میں 40 سال یا اس سے زائد عمر کی 1 ہزار خواتین پر کیے گئے اس سروے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کس قدر عام ہے۔

سروے میں شامل 92 فیصد یعنی تقریباً ہر 10 میں سے 9 خواتین صبح 7 بجے سے پہلے کم از کم 1 مرتبہ جاگنے کی شکایت کرتی ہیں، جبکہ نیند سے بیدار ہونے کے بعد دوبارہ سونے کی کوشش میں خواتین اوسطاً 33 منٹ اور 55 سیکنڈ صرف کرتی ہیں۔

ڈاکٹر آسکر ڈیوک نے ہارورڈ کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہ رات کو جاگنے کی کیفیت ہارمونز میں تبدیلیوں، نیند کے قدرتی دورانیے میں رد و بدل اور خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے جیسے جسمانی عوامل کے مجموعے کے باعث پیدا ہوتی ہے۔

ان کے مطابق عمر رسیدہ خواتین کی رات ساڑھے 3 بجے آنکھ کھلنے کی وجوہات میں سرِ فہرست مینوپاز کے دوران ایسٹروجن اور پروجیسٹرون ہارمونز کی سطح میں نمایاں کمی ہے۔

ان ہارمونز میں ہونے والی تبدیلیاں جسم میں متعدد تبدیلیوں کا سبب بنتی ہیں، تاہم ان کے نمایاں اثرات میں نیند کے معمولات میں خلل پڑنا شامل ہے۔


نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

صحت سے مزید