• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یوکرین کا روسی تیل کی تنصیبات پر حملے دوبارہ کرنے کا اعلان، کریملن کا سخت ردِعمل

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

روس نے یوکرین کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان امریکی امن کی کوششوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرینی صدر ولادومیر زیلنسکی نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملوں کی پابندی ختم ہو چکی، اب یوکرین دوبارہ حملے کرے گا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس بیان پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کی جانب سے توانائی تنصیبات پر حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی مذاکرات کاروں کی امن کوششوں کے خلاف ہیں، کیف اور زیلنسکی کی جانب سے امن کے لیے آمادگی نہ ہونے کے باعث مذاکراتی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔

روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یوکرین میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے 7 مقامات پر حملے کیے ہیں، اس سے قبل روس کا مؤقف تھا کہ جنگ بندی کی حدود اور شرائط پر اتفاق نہیں ہوا تھا۔

دوسری جانب زیلنسکی نے امریکی صحافی پیئرز مورگن کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے مجھے دھوکا دیا ہے۔

زیلنسکی نے اس سے پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بتایا تھا کہ یوکرین نے توانائی سے متعلق جنگ بندی کی تجویز کے تحت روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے 2 دن کے لیے عارضی طور پر روک دیے تھے۔

انہوں نے روس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ روس نے کیف کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید