فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (FPCCI) نے 7اکتوبر کو فیڈریشن ہاؤس کراچی میں ’’اسلامی معیشت ‘‘ پر ایک کانفرنس منعقد کی جس میں وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو، البرکہ بینک کے صدر عاطف حنیف، ملائیشیا، انڈونیشیا، ایران، عمان، یو اے ای، ترکیہ، سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان کے قونصل جنرلز اور وسط ایشیائی ریاستوں کے چیمبرز آف کامرس کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مجھے بھی اس کانفرنس میں خصوصی اسپیکر کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا۔ اس موقع پر اسلامک چیمبرز آف کامرس کے سیکریٹری جنرل یوسف حسن خلاوی نے سعودی عرب سے بذریعہ زوم لنک کانفرنس سے خطاب کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (TDAP) کے CEO فیض احمد تھے۔
اسلامی معیشت محض دولت کمانا یا کاروبار کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا جامع نظام ہے جس میں حلال کمائی، دیانتدار تجارت، دولت کی منصفانہ تقسیم اور دولت کو معاشرے کی فلاح کا ذریعہ بنانا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو اسلامی معیشت کو عام تجارت سے ممتاز کرتا ہے۔ اسلامی معیشت کی بنیاد اس تصور پر قائم ہے کہ کائنات کا حقیقی مالک اللہ ہے اور انسان کو زمین پر وسائل استعمال کرنے اور دولت کے حصول کا اختیار دیا گیا ہے۔ اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں، جائز کاروبار اور تجارت کی حوصلہ افزائی جبکہ دھوکہ دہی، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور بددیانتی کی سخت ممانعت کرتا ہے۔ آج کل کی دنیا میں معیشت، تجارت اور کاروبار کے تصورات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں اور عالمی منڈی میں مسابقت صرف قیمت اور کوالٹی تک محدود نہیںبلکہ صارفین کی اخلاقی ترجیحات اورمذہبی اقدار بھی کامیاب کاروبار کے اہم عوامل بن چکے ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں حلال مصنوعات اور حلال شاپنگ مال کا تصور اسلامی معیشت کے طور پر ابھر رہا ہے۔
آج حلال معیشت میں خوراک، مشروبات، ادویات، کاسمیٹکس، ملبوسات، سیاحت، خدمات اور مالیاتی لین دین شامل ہیں۔ مصنوعات کی حلال حیثیت صرف اس میں شامل اجزاء سے نہیں بلکہ اس کی تیاری، پروسیسنگ اور سرٹیفکیشن بھی صارفین کے اعتماد کیلئے ضروری ہے۔ آج غیر مسلم صارفین بھی صفائی اور اجزاء کی شفافیت کی وجہ سے حلال مصنوعات کو ترجیح دے رہے ہیں اور حلال مالز کا تصور تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ وہ شاپنگ مالز ہیں جہاں صرف حلال سرٹیفائیڈ اشیاء دستیاب ہوتی ہیں۔ دنیا کے چند مشہور حلال شاپنگ مالز میں ایران کے دارالحکومت تہران میں ایران مالز اوراصفہان میںاصفہان سٹی سینٹر، کویت میں دی ایونیو، ملائیشیا میں IOI سٹی مال، سن وے کارنیوال مال اور مائی ڈن قابل ذکر ہیں۔
گزشتہ دنوں کراچی میں ’’ناروے حلال ٹوورز‘‘ کی لانچنگ تقریب میں، میں نے شرکت کی جس میں ناروے، ڈنمارک، سوئیڈن اور فن لینڈ کے سیاحتی پیکیجز پیش کئے گئے جن میں حلال کھانے اور اسلامی ضروریات کے مدنظر رہائشی اور عبادت کی سہولتیں شامل تھیں۔ 2024ءمیں اسلامی معیشت کے 6بڑے شعبوں میں مسلمان صارفین نے 2600 ارب ڈالر خرچ کئے جس میں حلال فوڈ اور مشروبات پر 1530 ارب ڈالر، اسلامی طرز لباس پر 347ارب ڈالر، انٹرٹینمنٹ پر 276 ارب ڈالر، سیاحت پر 249 ارب ڈالر، فارماسیوٹیکل پر 112 ارب ڈالر اور کاسمیٹک پر 92 ارب ڈالر خرچ کئے گئے جو 2029 تک 3640 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسلامی معیشت کا ایک اہم اصول اسلامی بینکاری ہے جو پاکستان میں تیزی سے فروغ پارہی ہے اور روایتی بینکاری میں اس کا حصہ 24 فیصد جبکہ بینک ڈپازٹس میں حصہ 29فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ادارے فٹچ کے مطابق پاکستان کی اسلامی فنانس انڈسٹری 2027ءتک 100 ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہے۔28اپریل 2022ءکے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق پاکستان یکم جنوری 2028ءسے سود سے پاک بینکاری پر منتقل ہوجائیگا۔ اس فیصلے کو 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کا حصہ بنادیا گیا ہے۔
57 اسلامی ممالک کی مجموعی جی ڈی پی 9.2 کھرب ڈالر ہے جو عالمی جی ڈی پی کا 8.3 فیصد ہے۔ اسلامی ممالک کی باہمی تجارت تقریباً 1000 ارب ڈالر ہے جس میں سرفہرست 10ممالک میں یو اے ای، سعودی عرب، ترکیہ، ملائیشیا، انڈونیشیا، عمان، مصر، پاکستان، عراق اور نائیجریا شامل ہیں۔ ان اسلامی ممالک کو اللہ نے تیل، گیس اور خوردنی تیل کے وسائل سے مالا مال کیا ہے۔ پاکستان کو اسلامی ممالک سے اپنے برادرانہ تعلقات کو مضبوط معاشی تعلقات میں منتقل کرنا چاہئے۔ اسلامی معیشت کا تصور پاکستان کیلئے ایک نیا کاروباری موقع بن سکتا ہے جو حلال مصنوعات اور خدمات کی اسلامی ممالک میں رسائی بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔