• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مولانا فضل الرحمان بھی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔ میں ان دونوں کو 1988ء سے جانتا ہوں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کے فوجی صدر جنرل ضیاء الحق نے اپنے ہی لائے ہوئے وزیراعظم محمد خان جونیجو کو کرپشن کے الزامات لگا کر برطرف کر دیا تھا۔ اُس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف نے اپنی پارٹی مسلم لیگ کے وزیراعظم جونیجو کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے جنرل ضیاء کا ساتھ دیا۔ جنرل ضیاء نے جونیجو کو برطرف کرنے کے بعد نئی حکومت میں عمران خان کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ عمران خان 1987ء میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے تھے لیکن جنرل ضیاء کی درخواست پر اُنہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ واپس لے لی تھی۔ جنرل ضیاء کا خیال تھا کہ اگر عمران خان نئی حکومت میں شامل ہو جائیں تو اُنکی تباہ شدہ ساکھ کو بہت سہارا ملے گا۔

میں نیا نیا صحافت میں آیا تھا۔ مجھے خبر ملی کہ عمران خان کو نئی حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش کی گئی ہے۔ جب میں نے عمران خان سے اس خبر کی تصدیق کیلئے رابطہ کیا تو اُنہوں نے جواب دینے کی بجائے پوچھا تمہارا کیا خیال ہے مجھے کیا کرنا چاہئے؟ میں نے جھٹ سے کہا آپ انکار کر دیں۔ میرا مشورہ سُن کر خان صاحب نے کہا ٹھیک ہے میں انکار کر دوں گا لیکن اس انکار کی خبر نہ بنانا ورنہ بڑی مشکل ہو جائیگی۔ میں اس خبر کو زیادہ عرصہ روک نہ سکا اور ایک دن خبر ٹھوک دی۔ خان صاحب ناراض ہو گئے۔ عمران خان 1988ء میں حکومت کا حصہ بن جاتے تو 1992ء میں پاکستان کیلئے ورلڈ کپ نہ جیت پاتے۔

اسی زمانے میں تحریک ریشمی رومال پر میں نے ایک جرمن اسکالر کا انٹرویو کیا جس نے بتایا تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران برصغیر پاک و ہند کے علماء نے افغانستان، ترکی اور جرمنی کی مدد سے برطانوی سرکار کےخلاف مزاحمت کیلئے "برلن پلان" بنایا۔ ریشمی رومال تحریک اسی برلن پلان کا حصہ تھی اور اگر یہ کامیاب ہو جاتی تو ہندوستان کو 1916ء میں برطانوی سامراج سے آزادی مل جاتی۔ مولانا فضل الرحمان نے یہ انٹرویو پڑھا اور لاہور میں ایک ملاقات میں اسکی بڑی تعریف کی۔ پھر انہوں نے مجھے اپنے ایک ساتھی کے ذریعے مولانا سید محمد میاں کی چار جلدوں پر مشتمل کتاب "علمائے ہند کا شاندار ماضی" بھجوائی تاکہ مجھے ریشمی رومال تحریک کے بارے میں مزید آگاہی حاصل ہو۔یہ مولانا سے نیاز مندی کا آغاز تھا۔

1990ء میں عراق کے صدر صدام حسین نے کویت پر حملہ کر دیا۔ امریکہ نے کویت کے دفاع کیلئے اپنی فوجیں مختلف خلیجی ممالک میں بھیج دیں۔ پاکستان میں صدام حسین کے حق میں مظاہرے شروع ہو گئے۔ ایک دن روزنامہ جنگ لاہور کے سپورٹس رپورٹر شاہد شیخ عمران خان کا یہ بیان لے آئے کہ "جو صدام کے ساتھ نہیں وہ مسلمان نہیں۔" اس بیان نے ہلچل مچا دی کیونکہ حکومت پاکستان صدام حسین کی بجائے سعودی عرب کے ساتھ کھڑی تھی۔ پہلی دفعہ میں نے مولانا فضل الرحمان کی زبان سے عمران خان کیلئے تعریف سنی۔ صدام کے بارے میں میری ذاتی رائے مختلف تھی لیکن یہ اندازہ ہو گیا کہ عمران خان اور مولانا فضل الرحمان امریکہ کے ناقدین میں شامل ہیں۔2002ء میں ایک اور فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے الیکشن کے ذریعے اپنی غیر آئینی حکومت کو آئینی رنگ دینے کی کوشش کی۔ عمران خان قومی اسمبلی میں اپنی پارٹی کے واحد رکن تھے۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید آصف علی زرداری نے جنرل مشرف کے وزارت عظمیٰ کے اُمیدوار میر ظفر اللہ جمالی کے مقابلے پر مولانا فضل الرحمان کو وزیراعظم بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ اُس وقت محترمہ بے نظیر بھٹو دبئی اور نواز شریف سعودی عرب میں جلاوطن تھے۔ بے نظیر صاحبہ نے مولانا کی حمایت سے انکار کر دیا لیکن نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو وزارت عظمیٰ کا اُمیدوار بنا دیا۔ مولانا کو وزارت عظمیٰ کا ووٹ ڈالنے والوں میں صرف مسلم لیگ (ن) نہیں بلکہ عمران خان بھی شامل تھے۔ مجھے یاد ہے کہ اس زمانے میں جب کوئی گستاخ مولانا فضل الرحمان کو مولانا ڈیزل کہتا تو عمران خان اُس سے لڑ پڑتے تھے۔ پھر یہی عمران خان 2018ء میں وزیراعظم بنے تو سیاسی جلسوں میں مولانا فضل الرحمان کو مولانا ڈیزل کہنے لگے۔ خان صاحب اور مولانا کے درمیان نفرت اتنی بڑھی کہ مولانا نے عمران خان کو صیہونی ایجنٹ قرار دے دیا۔2019ء میں مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ اُس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صحافیوں کو بلا بلا کر بتاتے کہ مولانا فضل الرحمان برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی سکس کیلئے کام کرتے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے جنرل باجوہ سے کہا کہ آپ مولانا کیخلاف کوئی ٹھوس ثبوت سامنے لا کر اُن کیخلاف قانونی کارروائی کیوں نہیں کرتے؟ جنرل باجوہ فوراً موضوع بدل لیتے۔ باجوہ ایک طرف اسرائیل کے ساتھ دوستی کے فوائد بیان کیا کرتے اور دوسری طرف مولانا فضل الرحمان کو برطانیہ کا ایجنٹ قرار دیتے۔

پھر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مولانا کو خان کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ مولانا کی سربراہی میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) بنائی گئی اور عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک شروع ہو گئی۔ خان صاحب نے تمام خفیہ اداروں اور نیب کو مولانا فضل الرحمان کی کرپشن ڈھونڈنے پر لگا دیا۔ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید خود کچھ خاص الخاص صحافیوں کو مولانا کے خلاف فیک نیوز پلانٹ کیا کرتے۔ مولانا کا میڈیا ٹرائل شروع ہو گیا۔ مولانا پر اس میڈیا ٹرائل کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ جنرل باجوہ کی اسرائیل سے دوستی کی خواہشیں اُنہیں عمران خان سے دور لے گئیں۔ خان نے انہیں مزید ایکسٹینشن دینے کی بجائے جنرل فیض کو آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ 2022 میں اپوزیشن نے جنرل باجوہ اور عمران خان کے اختلافات کا فائدہ اُٹھا کر تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو وزیراعظم ہاؤس سے نکال باہر کیا۔ حکومت سے نکلنے کے بعد عمران خان کو مولانا فضل الرحمان کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ انہوں نے مولانا سے اتحاد بنانے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ دوسری طرف آئی ایس آئی کے نئے سربراہ جنرل ندیم انجم نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو مولانا سے دور کر دیا۔ وہ مولانا فضل الرحمان جنہوں نے 2010 میں جامعہ اشرفیہ لاہور میں ملک بھر کے علماء کو دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ اعلامیے پر راضی کیا تھا اب اُسی مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیا جانے لگا۔ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خلاف اس اعلامیے کے بعد مولانا فضل الرحمان پر صوابی، چارسدہ اور کوئٹہ میں اوپر تلے خودکش حملے ہوئے لیکن مولانا نے سیاست میں عسکریت کے خلاف مؤقف کو تبدیل نہ کیا۔

یہ سچ ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور عمران خان افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حامی تھے لیکن اس اتفاق کے باوجود مولانا نے عمران خان کا سیاسی اتحادی بننے سے گریز کیا۔ دونوں میں اعتماد کا شدید فقدان تھا لیکن آخرکار شہباز شریف حکومت کے کچھ غلط فیصلے مولانا اور عمران خان کو ایک دوسرے کے قریب لے آئے ہیں۔ مولانا کہتے ہیں کہ عمران خان کو اُن کے خاندان کی تمام عورتوں سمیت جیل میں قید کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کر دیا ہے۔ ان حالات میں ہمارے پاس ظلم کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

آجکل مولانا فضل الرحمان کیخلاف سوشل میڈیا پر فیک ویڈیوز کی بھرمار نظر آ رہی ہے۔ مولانا کو گرفتاری کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ وہ اپنی سیاسی زندگی میں گیارہ مرتبہ گرفتار ہو چکے ہیں۔ بارہویں گرفتاری کیلئے بھی تیار ہیں۔ مولانا اور خان صاحب کو قریب لانے کا کریڈٹ شہباز شریف کو جاتا ہے۔ جس طرح خان کو حکومت سے فراغت کے بعد مولانا کی اہمیت کا احساس ہوا اسی طرح مسلم لیگ ن کو بھی حکومت سے فراغت کے بعد ہی مولانا یاد آئیں گے لیکن شاید مولانا دوبارہ انکے جال میں نہ پھنسیں گے۔

تازہ ترین