• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کی کرپٹو کمپنی پر غیر ملکی سرمایہ کاری سے ناجائز فائدہ حاصل کرنے کا الزام، مقدمہ دائر

امریکی صدر ٹرمپ— فائل فوٹو
امریکی صدر ٹرمپ— فائل فوٹو 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان سے منسلک کرپٹو کمپنی ’ورلڈ لبرٹی فنانشل‘ کے خلاف مبینہ طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری سے ناجائز فائدہ حاصل کرنے اور حریف کمپنی کو مالی نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کر دیا گیا۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ مقدمہ کرپٹو کمپنی ’سرکل انٹرنیٹ گروپ‘ کے ایک شیئر ہولڈر جے بینجمن گرین برگ نے دائر کیا ہے۔

بینجمن گرین برگ کی درخواستِ مقدمہ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے منسلک 2 بڑے مالیاتی سودوں سے ڈونلڈ ٹرمپ کے کاروباری مفادات کو فائدہ پہنچا جبکہ اس کے نتیجے میں سرکل اور اس کے سرمایہ کاروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ 

2 ارب ڈالرز کا معاملہ کیا ہے؟

رپورٹ کے مطابق مقدمے میں جس اہم سودے کو بنیاد بنایا گیا ہے، اس کا تعلق ایک اماراتی سرمایہ کاری فنڈ کی جانب سے کرپٹو ایکسچینج بائنانس میں 2 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری سے ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ادائیگی ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ڈالر سے منسلک ڈیجیٹل کوائن یو ایس ڈی 1 (USD1) کے ذریعے کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ اس لین دین سے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ڈیجیٹل کوائن کو نمایاں فروغ ملا اور ٹرمپ خاندان کے کاروباری مفادات کو فائدہ پہنچا۔

مقدمے میں ایک دوسرے سودے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے سے 4 روز قبل ایک اماراتی سرمایہ کاری ادارے نے ورلڈ لبرٹی فنانشل میں 49 فیصد شیئرز خریدنے کے لیے 500 ملین ڈالرز کا معاہدہ کیا تھا۔

امریکی آئین کی خلاف ورزی کا الزام

رپورٹ کے مطابق مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان سودوں سے امریکی آئین کی اس شق کی خلاف ورزی ہوئی جو کانگریس کی اجازت کے بغیر وفاقی عہدے داروں کو غیر ملکی حکومتوں سے مالی فوائد حاصل کرنے سے روکتی ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے مبینہ غیر قانونی فوائد کی تفصیلات سامنے لانے، متعلقہ رقوم کا حساب پیش کرنے اور قانون کے مطابق مناسب تدارک کا حکم دینے کی استدعا کی ہے۔

درخواست میں امریکی مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ورلڈ لبرٹی فنانشل سے منسلک دیگر کمپنیوں کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ امریکی عوام کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے اثاثے ایک ٹرسٹ کے تحت رکھے گئے ہیں، اس لیے مفادات کے ٹکراؤ کا الزام درست نہیں۔

یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ خاندان کے کرپٹو کے کاروبار اور اماراتی سرمایہ کاروں کے ساتھ اس کے مالی تعلقات پر پہلے ہی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید