آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
الطاف حسین نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے جو کچھ کہا کیا وہ واقعی لرزہ خیز تھا؟کیا اُنھوں نے اس سے پہلے میڈیا کو کبھی دھمکی نہیں دی تھی ، ججوں کو برا بھلا نہیں کہا تھا یا جنرلوں پر طعنہ زنی نہیں کی تھی؟یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ اُنھوں نے بھارت میں کہا تھا کہ پاکستان کا قیام ایک غلطی تھی۔ اسی طرح ٹونی بلیئر کے نام ایک خط لکھتے ہوئے دیگر امور کے علاوہ آئی ایس آئی کو تحلیل کرنے کے لئے برطانوی حکومت کو اپنی خدمات پیش کیں ۔ الطاف حسین کے سابق ساتھی اور حامی، جن میں مصطفی کمال اور صولت مرزا بھی شامل ہیں، نے اپنے سابق باس کے پیہم خوف اور دہشت کی کہانیاں سنائیں، نیز بھارتی خفیہ ایجنسی سے اُس کے روابط سے بھی پردہ اٹھایا۔
آئین کا آرٹیکل 5 ہر شہری کو ’’ریاست کا وفادار ‘‘ ہو نےکا پابندکرتے ہوئے ’’آئین اور قانون کی پابندی ہر شہری کے لئے لازمی ‘‘قرار دیتا ہے ۔ یہ ایک ڈیل ہے ۔ اسی طرح ریاست تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھاتی۔ اب الطاف حسین پاکستان کے بارے میں ناروا الفاظ اور خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے حامیوں کو پرتشدد کارروائیوں پر اکسا رہے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ بہت سے دھڑوں کے ان الزامات کو سچا ثابت کررہے ہیں کہ اُن کی پاکستان اور اس کے قوانین کے ساتھ وفاداری مشکوک ہے ۔ یہ باتیں پہلے

بھی ہوتی تھیں لیکن اس مرتبہ الطاف حسین نے تمام حدیں پار کرلیں۔ مزید یہ کہ کراچی پر الطاف حسین کا تسلط اب اتنا نہیں رہا کہ وہ اسے ماضی کی طرح بند کرسکیں ۔ اس کا کریڈٹ بڑی حد تک رینجرز کوجاتا ہے جنھوں نے شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کئی عشروں سے قائم ایم کیو ایم کے جبر کی فضا کو برہم کردیا ہے ۔ اب الطاف حسین کا عوامی بیانیہ بھی اپنا اثر کھو چکا ہے ۔ اس سے پہلے وہ میڈیا کو خوف زدہ کرکے طویل نشریوں کے ذریعے مہاجروں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بیان کرتے ، لیکن یہ ’’سہولت ‘‘ختم کردی گئی ۔
ایک مثالی دنیا میں الطاف حسین کی تقاریر پرپابندی نہیں لگنی چاہئے تھی۔ یہ لوگوں پر ہے کہ اُن کے خیالات سننے کے بعد قبول کریں یا رد کردیں۔ اگر وہ اپنی تقریروں کے ذریعے تشدد کو فروغ دیتے تھے تو پھر اُس پر نفرت انگیز تقاریر کرنے کی پاداش میں مقدمہ چلایا جانا چاہئے تھا ۔ کراچی میں الطاف کی تقاریر پر ’’تصورات کو مارکیٹ کرنے ‘‘ کی اصطلاح لاگو نہیں ہوتی تھی کیونکہ میڈیا یہ انتخاب کرنے میں آزاد نہیں تھا کہ وہ تقاریر دکھائے یا نہ دکھائے ۔ حال یہ تھا کہ نشر کی جانے والی طویل تقاریر کے دوران کسی وجہ سے کسی میڈیا ہائوس کو تقریر روک کر کوئی اور کہانی دکھانی پڑتی تو اس جسارت پراسے معافی مانگنا پڑتی۔ برس ہا برس تک خوف کی فضا اتنی گہری تھی کہ الطاف حسین اور ان کے رویے پر تنقید کا سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔
جب تنقید کا سانس بھی نہیں لیا جاسکتا تھا تو الطاف پر مقدمہ چلانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ ریاست سے بھی طاقتور دکھائی دیتے، اور ریاست نے اُنہیں خود سے بڑا ہونے کی اجازت بھی دی۔ ایک مرتبہ جب وہ یہ حد پار کرگئے توپہلے تو ریاست کی نرمی کی وجہ سے اور بعد میںآنکھیں بند کرلینے کی پالیسی کی وجہ سے عام شہری یا ادارے ان کے مقابلے پر کہاں ٹھہرسکتے تھے۔ لیکن پھر وہ مرحلہ آیا جب ریاست کو اپنی عملداری واپس لینے کے لئے اپنا تمام وزن میجر جنرل بلال اکبر کے پیچھے ڈالنا پڑا۔ اور پھر چشم ِفلک نے انہونی دیکھنا شروع کردی۔ گزشتہ ہفتے بلال اکبر کو للکارتے اور ریاست کے بارے میں ناروا جملے اداکرتے ہوئے الطاف حسین نے خود کش حملہ کرڈالا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب اُن کے پاس اور کوئی آپشن بچا ہی نہ تھا۔
ایم کیو ایم کے بارے میں دو مختلف تصورات موجود ہیں۔ ایک کراچی سے باہر مقبول ِعام ، کہ الطاف کی باتوں، رویے ، افعال اور سرگرمیوں کو برداشت کرنا ناممکن۔ الطاف حسین کو تشدداور دہشت کا نقیب سمجھا جاتا ہے ۔ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ نفرت اور دہشت کے ذریعے اپنے زیر اثر لوگوں کی حمایت کو کنٹرول کرتے تھے ۔ چنانچہ یہ کہا جاتا ہے کہ مہاجروں کو الطاف حسین سے بچاناہمارا فرض ہے ۔ دوسرا تاثر یہ ہے کہ الطا ف حسین مہاجروں کے نجات دہندہ ہیں۔ اُنھوں نے ایک ملک، جس پر پنجابیوں کو اور ایک صوبہ جس پر سندھیوں کو بالا دستی حاصل تھی، میں مہاجروں کواحساس، عزت، وقار اور اپنے حقوق کے لئے لڑنے کا درس اور حوصلہ دیا۔ اس زاویے سے سوچتے ہوئے اگر موجودہ حالات کو دیکھیں تو احساس ہوگا کہ الطاف حسین جو کچھ کہتے تھے، وہ درست تھا کہ کمزوری دکھانے پر مہاجروں کو دیوار کے ساتھ لگادیا جائے گا۔
سچائی ان دونوں تصورات کے درمیان ہے ۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں الطاف حسین کوان کا واجب کریڈٹ دینا چاہئے ۔اُنھوں نے ایم کیو ایم کی صورت ایک حیرت انگیز تنظیمی صلاحیت رکھنے والی جماعت تشکیل دی۔ اس جماعت نے باصلاحیت افراد کو سیاسی شناخت اور ذمہ داری بخشی، جبکہ انتظامی اورمالیاتی کنٹرول کے لئے سیکٹر کمانڈرز کا ایک جاندار نیٹ ورک قائم کیا۔ یہ نیٹ ورک براہ ِ راست الطاف حسین کو رپورٹ پیش کرتا۔ ممکن ہے کسی مرحلے پر ایم کیو ایم کا تنظیمی نیٹ ورک اسکول کی کتابوں میں پڑھایا جائے ۔ ریاست ِ پاکستان اور سیاسی جماعتوں کو موجودہ حالات میں درپیش چیلنج یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے لئے سیاسی گنجائش پید ا کی جائے تاکہ وہ مہاجروں کی نمائندگی کرتی رہے ، جبکہ اس کے انتظامی ڈھانچے کو توڑ دیا جائے جس میں تشدد پسند عناصر فعال ہوسکتے ہیں، یا اُن کی گنجائش نکلتی ہے ۔ یہ وہ میدان ہے جہاں ایم کیو ایم کے اس تنظیمی ڈھانچے پر بھتہ خوری اور تشدد کے الزامات لگے ۔ تاہم یہ بات کہنا آسان ، اور کرنا مشکل ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ بالکل مختلف سمت میں نہیں ہے۔ بسا اوقات وہ ایک دوسرے کے دست و بازو ہی ہوتے ہیں۔
ریاست کے سامنے حقیقی چیلنج یہ ہے کہ وہ اس میں باہرسے مداخلت نہ کرے ۔ اسے مہاجر کمیونٹی کی سرپرستی کی کوشش سے بھی گریز کرنا چاہئے، اورنہ ہی ایسا تاثر دینا چاہئے کہ وہ کراچی کی سیاست کو اپنی مرضی کے خطوط پر چلانا چاہتی ہے ۔ یہاں کسی کنگز پارٹی کی گنجائش نہ نکالی جائے ۔ اس سے پہلے بھی ریاست نے متعدد بار ایسی کوشش کرکے دیکھی ہے، یہ ایک بار پھر ناکام ہوگی۔ ایسے تصورات اس لئے ناکام رہتے ہیں کیونکہ انہیں عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوتی ۔ کراچی کی پیچیدہ صورت ِحال کے لئے غیر جذ باتی سوچ اور محتاط عمل کی ضرورت ہے ۔
یہ کسی کی اناکا مسئلہ نہیں ہے ، اور نہ ہی کسی ’’غدار ‘‘ کے خلاف انتقامی کارروائی دکھائی دینی چاہئے ۔ رینجرزاہل کاروں کا فاروق ستار کو عوام کے سامنے زبردستی کھینچ کر لے جانا ایک اچھا منظر نہ تھا۔ اسی طرح یونیفارم والے افراد کا الطاف کے پوسٹر پھاڑنا یا تصاویر کو نقصان پہنچانا درست نہیں۔ سیکورٹی اہل کار سیاسی دلدل سے جتنا دور رہ سکیں، اتنا ہی بہتر ہے ۔ ضروری ہے کہ اس بات کا حق صرف اور صرف مہاجروں کے پاس رہے کہ اُن کی نمائندگی کا حق کس کے پاس ہے ، اور ان کے حقوق کے لئے کون آواز بلند کرے گا۔
الطاف حسین کا مسئلہ اُن کا جرائم اور تشدد کو سیاست سے الگ نہ کرنا تھا۔ لیکن اب ریاست کو اُن کی سیاست کو نہیں، صرف جرم کو ہدف بنانا چاہئے۔ ضروری ہے کہ کراچی میں مافیاز اور بھتہ خوروں کو سیاسی عناصر سے الگ کرکے سزا دی جائے ۔ صولت مرزاکے سزائے موت کی کوٹھڑی سے اعترافی بیانات اور وسیم اخترکا 2007 کے جرائم میںعین اُس وقت گرفتار ہونا جب وہ میئر کا الیکشن لڑرہے ہیں، عوام کے لئے اچھا پیغام نہیں چھوڑتا۔ اس سے ایسا لگتا ہے کہ قانون طاقتور کے ہاتھ میں ایک کھلونے کی مانند ہے ۔
ضروری ہے کہ انصاف کی فراہمی سے عوام کا قانون پر اعتماد مضبوط کیا جائے ۔ یہ تاثر دینا بھی درست نہیں کہ کراچی کی ’’صفائی ‘‘ کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ مشتبہ ملزموں کو ’’گم ‘‘ بھی نہیں ہوناچاہئے ۔ اگر ماضی میں یہ تاثر تھا کہ ’’بھائی ‘‘ کی مخالفت کرنے والے کی لاش بوری سے ملے گی، تو اب یہ تاثر قائم نہیں ہونا چاہئے کہ بھائی کا حامی کسی دن بوری سے ملے گا۔ ضروری ہے کہ بلدیہ ٹائون فیکٹری کیس سویلین عدالت میں عوام کی نظروں کے سامنے چلے ۔ یہ کیس بہت سے گہرے نتائج دے سکتا ہے ۔


.