آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شراب
گدائے کوچہ میخانہ نامراد نہیں
کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں ، تو کہتے ہیں
کہ ’’ آج بزم میں کچھ فتنہ وفساد نہیں ‘‘
کراچی میں عید کے دوسرے روز زہریلی شراب سے ابھی تک32ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ اخباری اطلاع کے مطابق سات افراد کی حالت نازک ہے عید پر کچی اور زہریلی شراب پینے والوں کی خبر پڑھ کر مجھے مرزا غالب کے مندرجہ بالا اشعار یاد آئے ،قارئین کی نذر ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ہلاک ہونے والے افراد کو شہید کا درجہ دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ معصوم لوگ تھے جو خوشی منارہے تھے ۔ ’’ اللہ ہی جانے کون بشر ہے‘‘ یہ بیان پڑھ کر مجھے منٹو کا افسانہ ’’ شہید ساز ‘‘ یاد آگیا ۔ اب پانچ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو معطل کردیا گیا ہے بھٹو صاحب نے پی این اے کی تحریک کے دوران جب9 ستاروں کے مطالبات تسلیم کئے تھے تو شراب پر پابندی لگا دی تھی اور ان کا خیال تھا کہ اس طرح اسلامی جماعتیں خوش ہوجائیں گی اور ان کی تحریک حکومت کے خلاف ختم ہوجائے گی ، مگر ایسا نہیں ہوا ، مجھے نہیں یاد کہ شراب کی فروخت پر پابندی کے بعد کسی ایک شرابی نے شراب پینا چھوڑ دی ہو صرف اتنا ہوا کہ اس کی جو بوتل250روپے میں ملتی تھی وہ راتوں رات450روپے کی ہوگئی کیونکہ اس میں مبینہ طورپر 200روپے پولیس کے اخراجات شامل ہوگئے ،شراب کی امپورٹ

پرامپورٹ ڈیوٹی سیل ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی بھی حکومت کو ملتی تھی اس کی قانونی بندش پر حکومت کو یہ ٹیکس موصول ہونا بند ہوگئے اور یہی اخراجات پولیس کسٹم اور ایکسائز کے محکموں کے ان افراد کی جیبوں میں جانے لگے جن کی مہربانیوں سے آج بھی شراب کی ترسیل اور فروخت کا کاروبار رواں دواں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزی شراب مہنگی ہونے کی وجہ سے غریب لوگ دیسی اور بھٹیوں کی بنی ہوئی شراب پیتے ہیں اور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ وہ خوشی اورغم مٹانے کے لئے پیتے ہیں اور خود ہی مٹ کراس دارفانی سے کوچ کرجاتے ہیں۔ مجھے وزیر اعلیٰ کی بات میں کافی وزن نظر آتا ہے بے گناہ اور ناگہانی حادثاتی موت کا شکار لوگ بھی شہید ہی کہلاتے ہیں گناہ اور ثواب کا حساب تو اللہ کرے گا ہم کون ہوتے ہیں کسی کو گنہگار ٹھہرانے والے ! میری دعا ہے کہ خدا انکی مغفرت کرے اور ان کے گناہوں کو معاف کرے اور پسماندگان کو صبرعطا کرے۔ میرا اب بھی حکومت کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ لوگوں کو زہریلی شراب پینے سے بچانے کے لئے اور پولیس، کسٹم اور ایکسائز کے افسران کی رشوت کوروکنے کے لئے شراب کی قانونی امپورٹ اور فروخت کی اجازت دیدے دوبئی میں بھی اسلامی حکومت ہے مگر وہاں ایسے کوئی قوانین نہیں جن کو توڑنے کے لئے پولیس کورشوت دینی پڑتی ہو ۔(یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ بھارت میں جہاں شراب پینے کی قانونی اجازت ہے وہاں بھی لوگ زہریلی شراب پینے سے مرجاتے ہیں) ایسا قانون بنانا ہی نہیں چاہیئے جس پرعملدرآمد نہ ہوسکتا ہو مجھے نہیں یاد کہ شراب کی فروخت پر پابندی کے بعد کسی بھی شرابی نے شراب پینی چھوڑی ہو ہاں مہنگی ضرور ہوگئی ہے مگر آسانی سے دستیاب ہے۔ اگر حکومت اسے قانونی طور پر امپورٹ کرنے کی اجازت دے تو حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور جو روپیہ اہلکاروں کی جیبوں میں جاتا ہے وہ حکومت کو ٹیکس کی مد میں ملے گا ۔ بہت سے قوانین اس لئے بنائے جاتے ہیں تاکہ رشوت لی جاسکے مثلاً ڈبل سواری پر پابندی وغیرہ ، گٹکے اور پان پر بھی کئی دفعہ پابندی لگی مگر کسی گٹکا کھانے والے نے گٹکا کھانا نہیں چھوڑا ، منہ کے کینسر سے مرگیا شرابی بھی زہریلی شراب پی کر مرگئے مگر چھوڑی نہیں چھٹتی نہیں ہے کافرمنہ سے لگی ہوئی ! دوسری بڑی خبر جناب یوسف گیلانی صاحب کے صاحبزادے قادر گیلانی کے گارڈ کے ہاتھوں معصوم اور غریب نوجوان کا بیہمانہ اور سفاکانہ قتل ہے۔ میں اس کالم میں بار بار وی آئی پی کلچر ختم کرنے اور گارڈزکے ساتھ سڑکوں پر نکلنے کے خلاف لکھتا رہا ہوں اور خطرات سے لوگوں کو آگاہ کرتا رہا ہوں گارڈز کے ہاتھوں آئے دن بیگناہ لوگوں کا خون ہوتا ہے یہ گارڈ حفاظت کے لئے نہیں شوبازی کیلئے رکھے جاتے ہیں اور ان کا سوائے شو بازی کے اور کوئی مصرف نہیں ہے جب واردات کرنے والا آتا ہے تو وہ گارڈ کو پہلے مارتا ہے اس لئے یہ کہا جائے کہ گارڈ رکھنے سے جان بچ جاتی ہے بالکل غلط ہے بلکہ گارڈ کی جان بھی ساتھ مفت میں جاتی ہے اور وہ بال بچے دار آدمی تھوڑی سی تنخواہ کی خاطر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے،عوامی دباو پرمقدمہ تودرج ہوگیا ہے لیکن قانونی کارروائی کا خصوصاً گرفتاری کا امکان بہت کم ہے۔ مرنے والے پر ہی کوئی الزام لگادیا جائے گا۔ اگرعوامی دباو نہ ہوتا توایف آئی آر مرحوم اور اس کے بھائی پرکٹتی کہ انہوں نے جیپ کوراستہ نہیں دیا بھلا ہو میڈیا کا اور سیاسی قوتوں کا جنہوں نے عوام کو بیدار کردیا ہے اور وی آئی پی کلچر کے خاتمے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں ۔ میرا مشورہ ہے کہ اس کلچر کے خاتمے کے لئے جدوجہد اسکولوں، کالجوں اور سرکاری تقریبات کے لیول پر فوراً تیزی سے شروع کی جائے تاکہ لوگوں کو انصاف ملنے کی توقع بڑھے ایک قدم اٹھانے سے فاصلہ طے ہوتا ہے آج ہی پہلا قدم اٹھائیے اور وی آئی پی کلچر کے خاتمے کی طرف بڑھئے انشا اللہ آپ بہت جلد اپنی منزل کو پالیں گے اور اس کلچر کا قلع قمع ہوجائیگا ملتان میں شیخ رشید کے ہوٹل کے باہر مسلم لیگ نواز کے کارکنوں کے مظاہرے نے جہاں شیخ رشید کو خوفزدہ کردیا وہاں مسلم لیگ نواز کی شہرت یا ساکھ کو کافی نقصان پہنچایا گلوبٹ کے واقعہ کے بعد مسلم لیگ کو سبق سیکھنا چاہئے تھا۔ اگر طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے تو مسلم لیگ بھی اپنے بڑے بڑے جلسے کرے اس طرح رہائشی ہوٹلوں کے باہر اپنے کارکنوں کو جمع کرکے نعرے لگوانا اور پھرتحریک انصاف کے سینکڑوں کارکنوں کی آمد پر مٹھی بھر کارکنوں کا بھاگ جانا پولیس کا بطور مہمان بیٹھ کر مسلم لیگ نون کے کارکنوں کی حفاظت کرنا کچھ عجیب سا لگتا ہے اور ایسے واقعات سے نیگیٹو پبلسٹی ہوتی ہے جسے عام زبان میں بدنامی کہتے ہیں۔ اگرپولیس مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو نہ بچاتی اور ان کا تصادم تحریک انصاف کے کارکنوں سے ہوجاتا تو اسے سول وار کہتے ہیں جس کے بعد مارشل لا لگنے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ میاں صاحب کی پارٹی میں کچھ لوگ میاں صاحب کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں، میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ ماڈل ٹائون کا واقعہ اندرونی سازش کا نتیجہ تھا جس کسی نے بھی ایسے موقع پر تجاوزات ہٹانے کا مشورہ دیا تھا وہ سازش میں شریک تھا اب بھی دیکھیں سول وار کا مشورہ کون دے رہا ہے دھرنوں پر میاں صاحب کی پالیسی کامیاب رہی اب عید کے بعد محرم بھی کنٹینر میں ہوگا خدا خیر کرے محرم میں گانے بجانے کا پروگرام بند ہوجائے گا اور اس کی جگہ نعتیں اور مرثیے پڑھے جانے کا امکان ہے
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے
مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
آگ دوزخ کی ہوجائے گی پانی
جب یہ عاصی عرقِ شرم سے تر جائیں گے

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں