حیرت ہے پاکستان تحریک انصاف کے ہر جینیئس کو یہ بات اب تک تو سمجھ آجانی چاہئے تھی کہ وزیراعظم نوازشریف نے کسی بھی قیمت پر استعفیٰ نہیں دینا کہ یہ تو انتہائی نیچے سے انتہائی اوپر تک پہنچنے والے انتہائی ’’تجربہ کار‘‘ لوگ ہیں جنہیں ’’رام گلی‘‘ سے ’’رائیل فیملی‘‘ تک کا ایکسپوژر حاصل ہے۔ ان کی جگہ کوئی گائودی اور گھامڑ ترین سیاستدان بھی ہوتا تو مرتا مر جاتا لیکن مستعفی کبھی نہ ہوتا کیونکہ سیاستدان ’’سیاسی شہادت‘‘ کو ’’سیاسی موت‘‘ پر ترجیح دیتا ہے سو ایک کیا، ایک ہزار ایک دھرنا بھی ہو ...... یہ ٹس سے مس نہیں ہوں گے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دھرنے بیکار گئے۔ دھرنوں نے وہ کام کیا ہے جو بڑی سے بڑی درس گاہ نہیں کرسکتی، ان کے خلاف عوام کی بیزاری بلکہ نفرت کو وہ زبان ملی ہے جس کی گونج دور دور تک سنی جاسکتی ہے اور یہ کمال بھی دھرنوں نے ہی دکھایا ہے کہ حکمران خاندان کو ان للوئوں پنجوئوں پر بھی پیار آنے لگا ہے جنہیں اس ایپی سوڈ سے پہلے یہ منہ لگانا بھی پسند نہیں کرتے تھے ......منہ لگانا تو دور کی بات کہ یہ تو ان سے ہاتھ ملانا بھی گوارہ نہیں کرتے تھے لیکن اب بیوروکریٹس کو بلا بلا کر ہدایات دے رہے ہیں کہ ان کے احکامات پر عمل کیا جائے۔ ن لیگیئے نجی محفلوں میں جی بھر کے نہ صرف لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ دھرنوں کو داد بھی دیتے ہیں جنہوں نے تکبر کو تمیز اور رعونت کو رکھ رکھائو سکھا دیا۔ دھرنوں کا اک اور کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے بظاہر ’’دیوار چین‘‘ دکھائی دینے والوں کو ’’دیوار خستگی‘‘ میں تبدیل کردیا؎دیوار خستگی ہوں مجھے ہاتھ مت لگامیں گر پڑوں گا دیکھ سہارا نہ دے مجھےیہ اس بری طرح ’’بلیڈ‘‘ کر چکے ہیں کہ عملاً پلک جھپکنے جتنی انرجی بھی باقی دکھائی نہیں دیتی۔ سیاست تو بہت ہی پراسرار اور پیچیدہ کھیل ہے، عام زندگی میں بھی یہ حکمت عملی عام دکھائی دیتی ہے کہ ’’مارے ہوئے نالوں بھجایا ہویا چنگا‘‘یعنی بالکل ہی مار دینے سے ادھ موا کر کے میدان سے بھگا دینا بہتر ہے۔ کس بل نکل جائیں تو نکر میں بیٹھے دہی چاول کھاتے رہیں تو کسی کو کیا اعتراض کہ ناگ کے زہر کی پوٹلی پنکچر کر دی جائے تو اسے بطور نیکلس بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں کچھ شرارتی بچے بھونڈ یعنی بھڑ کا ڈنک نکال کر دھاگے سے باندھنے کے بعد اسے پتنگ کی طرح اڑایا کرتے تھے یعنی جب تک رہیں گے، ایسے ہی رہیں گے کہ ’’بہت کہو کہ ہیں پر کہیں نہیں ہیں‘‘ ...... خود بھی ’’ممنون‘‘ ہی سمجھو۔میری دوسری حیرت کا تعلق بھی پی ٹی آئی لیڈرز کی اس حیرت پر ہے کہ ’’ن لیگ ہمارے ارکان کو پیسوں اور وزارتوں کا لالچ دےرہی ہے‘‘ تو بھائی! کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ ان کا تو سیاسی شجرۂ نسب ہی چھانگا مانگا سے شروع ہوتا ہے اور کون نہیں جانتا کہ اس ملک کی سیاست میں پلاٹوں، نوکریوں اور لفافوں کا اصل موجد کون ہے کہ پہلے بھی یہ سب کچھ ہوتا تھا لیکن نہ ہونے کے برابر لیکن انہوں نے تو اسے باقاعدہ ایک ’’ادارہ‘‘ کی شکل دیدی اور آج یہ ہماری جمہوریت کا وہ حسن ہے جسے دیکھ کر قلوپطرہ اور پرتھال بھی شرماتی پھریں۔دھرنا تو کہانی کے کلائمیکس کا صرف ایک نسبتاً طویل سین تھا جس کے ساتھ ہی کہانی ایک اور خطرناک موڑ مڑ رہی ہے۔ سردار ذوالفقار خان کھوسہ جیسا دھیما، دھیرا، دیانتدار، خاندانی آدمی دیگر ناراض لیگیوں کے ساتھ سلوموشن میں کھل کر سامنے آرہا ہے۔ دوست محمد کھوسہ کا یہ بیان بھی کسی طوفان کی آمد تو نہیں کہ ’’دونوں شریفوں نے مسلم لیگ کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ ذوالفقار کھوسہ جلد کنونشن بلائیں گے‘‘۔ اک اور اخبار میں جمی یہ سرخی بھی سردیوں سے پہلے خون جما دینے کیلئے کافی ہے کہ ...... ’’مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا کھوسہ خاندان کی طرف سے فارورڈ بلاک بنانے کی خبروں کا نوٹس‘‘ تو پہلی بات یہ کہ کیا واقعی صرف اور صرف کھوسہ خاندان ہی اس ’’ہانکے‘‘ کا سرخیل ہے؟ اس میں تو بہرحال کوئی شک نہیں کہ مادر ملت کا دست راست کھوسہ خاندان تو جینوئن مسلم لیگی خاندان ہے جبکہ شریف برادران کا تو مسلم لیگ سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا میرا ’’جنیٹک انجینئرنگ‘‘ یا ’’کلاسیکل موسیقی‘‘ کے ساتھ ہے۔ ان کے والد مرحوم و مغفور شریف صاحب نے جب انہیں سیاست کی صنعت میں لانچ کیا تو لانچنگ پیڈتھی اصغر خان کی ’’تحریک استقلال‘‘ جس کے یہ چھوٹے موٹے فنانسر تھے کہ صرف لگانے والے کو ملتا ہے اور کاروباریوں کو ’’لگانا‘‘ آتا ہے، دل لگانا آئے نہ آئے، سرمایہ لگانا ضرور آتا ہے ...... بہرحال بدقسمتی کی آخری انتہا دیکھیں کہ جن کا مسلم لیگ سے دور پار کا بھی واسطہ نہ تھا، وہ اس کے ہول سیلر بن بیٹھے لیکن دروغ کی یہ بھیانک داستان اب تیزی سے اپنے کلائمیکس کی طرف رواں دواں ہے۔دھرنا تو ایک عاجزانہ سا آغاز تھا۔کیا آپ جانتے ہیں کہ آدم خود شیر کا شکار کیسے ہوتا ہے؟ اس کار خیر کیلئے کتنے اور کیسے کیسےجتن کرنے پڑتے ہیں؟ کتنے حربے، ہتھیار، اوزار استعمال ہوتے ہیں اور کتنی ’’مین پاور‘‘ درکار ہوتی ہے؟اگر آپ نہیں جانتے تو میری درخواست ہے کہ آپ کینتھ اینڈرسن اور جم کاربٹ جیسے شکاریوں کے قصے پڑھیں کہ جب کسی شیر کے منہ کو انسانی خون کی لت لگ جاتی اوروہ آدم خور بن جاتا تو اس کا شکار کتنا ضروری ہو جاتا۔تب پروفیشنل شکاریوں کو کیا کچھ کرناپڑتا، یہ سب کچھ کتنا صبر آزما ہوتا؟ پڑھیں دیکھیں گے تو سمجھ آئے گی ...... اس سارے کھیل میں یہ ایک شرط بنیادی ہوتی ہے کہ شیر کا آدم خور ہونا ثابت ہو جائے اور اس ثبوت کیلئے بہت سی لاشیں دستیاب ہیں تو یہ بھی کیوں نہ مان لیں کہ ’’لاشیں بھی جمہوریت کا حسن ہیں‘‘۔دھرنے کا آغاز بمع ساز اپنے انجام کی طرف رواں دواں ہے۔