آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
(گزشتہ سے پیوستہ)
ڈر، خوف اور دہشت کی ہر اسمنٹ حکام بالا نے جو اس وقت بنا رکھی ہے وہاں اب بچوں سے اداروں میں حاضر ہونے کی توقع رکھنا بھی عبث ہے۔ زندہ قومیں ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کرتی ہیں اور نسل نو کو بھی یہی پیغام ازبر کراتی ہیں۔ مگر ہم نے پورا سال طالبعلموں کو کتاب سے محروم رکھ کر جو ظلم کیا ہے، اس کیلئے ہمیں شاید تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ہمیشہ مایوسی سے اُمید کی کرن نکلتی ہے‘ ہم اب بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ اگر خادم اعلیٰ تعلیمی خیرخواہی اور اداروں کے سربراہان کی حقیقی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ان اقدامات کو یقینی بنانے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ سکولوں اور کالجوں میں بالخصوص تمام اساتذہ بشمول پرنسپل کی حاضری کو صبح 8 بجے سے لیکر 3 بجے تک لازمی قرار دیں۔ طلباء و طالبات کی اداروں کے اندر نگہداشت کی مکمل ذمہ داری اساتذہ کا اولین فرض ہے، بدقسمتی سے ہمارے کالجز کے زیادہ اساتذہ بھاری بھرکم تنخواہیں لینے کے باوجود اداروں میں حاضری لگانے یا منہ کا ذائقہ بدلنے کیلئے تشریف لاتے ہیں اور اکیڈمیوں میں بڑی فرض شناسی سے اپنے فرائض ادا کرتے ہیں۔ کالجز اور اسکولوں کے تمام اساتذہ جو سرکار کے ملازم ہیں، وہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور اکیڈمیوں میں اگر پڑھائیں تو ان کیخلاف قواعد کے تحت کارروائی کی جائے

اور بلاتفریق اور کسی بھی قسم کے سیاسی دبائو کے بغیر کارروائی اور سزا کو یقینی بنائیں۔ اس سے اداروں میں تعلیمی ماحول بنے گا اور بچے سارا وقت استاد کی نگرانی میں اپنا تدریسی عمل مکمل کرینگے۔ اداروں کی سربراہی ایماندار، صاف و شفاف کردار کے حامل اور انتظامی امور پر گرفت رکھنے والے لوگوں کے سپرد کی جائے۔ سربراہان کی تقرری سیاسی بنیادوں پر کرنے کی بجائے اہلیت پر کی جائے اور سیاسی و فرمائشی تقرر و تبادلوں کی حوصلہ شکنی کی جائے تاکہ سربراہان بلاخوف و خطر اپنے فرائض کی انجام دہی کر سکیں۔ اداروں سے ہر قسم کی غیرتدریسی سرگرمیاں فی الفور ختم کر دی جائیں۔ میرٹ کے حساب سے اداروں کو مختلف کیٹگریز میں تقسیم کیا جائے اور انہیں ٹارگٹ دیا جائے کہ اتنے فیصد رزلٹ کو یقینی بنایا جائے۔ اس سلسلے میں انتظامیہ کو بااختیار کیا جائے کہ وہ اپنے ٹارگٹ کو حاصل کرنے کیلئے جو بھی طریقہ ء تدریس یا ایکٹویٹی کروانا چاہیں وہ اس میں آزاد ہے۔ رزلٹ انہوں نے ہر صورت دینا ہے، اس سے اداروں کے اندر مقابلے کی فضا پیدا ہو گی اور سربراہان کی انتظامی صلاحیتوں کا بھی حکام بالا کو پتہ چلے گا۔ تمام تعلیمی اداروں کی ظاہری حالت کو فی الفور درست کرنے کا پابند کیا جائے۔ اداروں کے اپنے فنڈز سے ہی اسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ جن اداروں کی حالت زار میں بہتر انتظامی سربراہ کی وجہ سے بہتری آئی ہو، اس کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ دیگر ادارے بھی اس کی پیروی کر سکیں۔ بورڈ اور یونیورسٹی سے 85فیصد سے اوپر نمبر حاصل کرنے والے بچوں کی سرکاری اداروں میں تعلیم کو مفت کر دیا جائے تو اس سے سرکاری اداروں میں اچھے نمبروں والے بچے داخل ہوں گے جس کی وجہ سے اداروں کے رزلٹ بہتر ہونگے اور لوگوں کا سرکاری اداروں پر اعتماد بڑھے گا اور تعداد میں بھی اضافہ ہو گا۔ بعض اداروں میں اساتذہ کی تعداد ضرورت سے زیادہ ہے اور بعض میں کم ہے۔ ہمارے سرکاری اداروں میں ایک ایک سیکشن عموماً 100 یا اس سے بھی زیادہ بچوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ کمرے میں 50 سے زیادہ بچے بیٹھنے کی گنجائش نہیں ہوتی جس کے باعث بچے نہ تو کلاسز میں آتے ہیں اور نہ ہی استاد کی آواز اتنی دُور تک جاتی ہے۔ ہر سرکاری ادارے میں 45 یا 50 سے زیادہ کا سیکشن بنایا جائے اور اسی حساب سے اساتذہ کی تعداد بھی بڑھائی جائے۔ افسران کی بیگمات کو بھی کالجز میں آنے اور کلاسز لینے کا پابند کیا جائے اور حکم عدولی پر بلاتفریق ان کیخلاف کارروائی کی جائے تاکہ اساتذہ کے اندر انہیں دیکھ کر جو حسد اور نفرت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے وہ کم کیا جائے۔ ٹیچر ٹریننگ کو لازمی قرار دیا جائے اور ٹریننگ کو اس کی ترقی سے مشروط کر دیا جائے۔ خادم اعلیٰ لیپ ٹاپ بڑی فراخ دلی سے تقسیم کرتے ہیں، طلبا و طالبات ناپختہ ذہن کے مالک ہوتے ہیں، وہ ان لیپ ٹاپس کو تدریسی سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کی بجائے فلمیں دیکھنے اور چیٹنگ وغیرہ کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں، لیپ ٹاپ سکیم کی بجائے اگر ہر سرکاری ادارے میں جدید قسم کی آئی ٹی لیبز بنائی جائیں اور وہاں مستقل بنیادوں پر اساتذہ کا تقرر کر دیا جائے تو یہ تعلیمی اداروں پر احسانِ عظیم ہو گا۔ اس وقت زیادہ تر آئی ٹی لیبز کالجز میں ایک ایک کمرے میں بنائی گئی ہیں اور 90 فیصد کالجز میں آئی ٹی کے اساتذہ موجود ہی نہیں ہیں۔ ہر سال عارضی طور پر رکھے گئے اساتذہ کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان ہے، لہٰذا اس مسئلے کی طرف بھی فوری توجہ دی جائے۔آخر میں جماعت اسلامی بلوچستان کے رہنما حاجی عبدالقیوم کاکڑ کا خادم اعلیٰ پنجاب کے نام خط جس میں انہوں نے خادم اعلیٰ کو باور کرایا ہے کہ انہوں نے 2009ء میں دورہ کوئٹہ کے موقع پر وعدہ کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے کوئٹہ میں امراض قلب کا خصوصی اسپتال قائم کیا جائیگا۔ خادم اعلیٰ کے اعلان کا یہاں کے عوام نے بھرپورخیرمقدم کیا اور کہا کہ متذکرہ منصوبے سے دونوں صوبوں کے عوام کے درمیان محبت کے رشتوں میں اضافہ ہو گا اور ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملے گا اور اعتماد بڑھے گا لیکن افسوس کہ طویل انتظار کے باوجود آج تک ان کا یہ وعدہ وفا نہیں ہو سکا۔ کوئٹہ میں امراض قلب کے حوالے سے سرکاری سطح پر علاج کے مناسب انتظامات نہ ہونے کیوجہ سے چارونارچار یہاں کے عوام علاج کیلئے بیرون صوبہ ملک کے دیگر بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں جس پر کافی مالی اخراجات کے علاوہ کئی گھنٹوں کے سفری مشکلات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اگر حقیقتاً یہ اسپتال کوئٹہ میں بن جائے تو یہاں کے غریب عوام کی مہنگے علاج سے جان چھوٹ جائے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں