یہ 21فروری 1952کا واقعہ ہے ،جب بنگال کی سرزمین خونِ آدم سے لالہ زار ہوگئی، طلبہ بنگالی زبان کا مطالبہ کررہے تھے کہ آتشیں اسلحہ موت بانٹنے لگا،متعدد اپنی مائوں سے تاعدن بچھڑ گئےتو اقوام متحدہ نے 21فروری کو ’’ماں بولی زبانوں کا عالمی دن قرار دیدیا۔ 2نومبر 2001 کو یونیسکو نے اعلان کیا’’ ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند خصوصاً اپنی مادری زبان میں اپنے خیالات اور تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار اور پرچار کرے، تمام انسان ایسی معیاری تعلیم و تربیت کا حق رکھتے ہیں، جس کے باعث ان کی ثقافت کی شناخت ہو سکے‘‘ آئیے اس موقع پر پشتو عالمی کانفرنس کے چیئر مین سلیم راز صاحب کے دس سال قبل پشتو میں تحریر کئے گئے ایک فکر انگیز مقالے کی مدد سے موضوع پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
گلوبلائزیشن کے موجودہ ہنگامہ خیز دور میں جہاں ایک طرف سرمائے نے جغرافیائی سرحدوں کو عبور کرلیا ہے تو دوسری طرف قومی ثقافتوں کو بقا و فنا کا مسئلہ درپیش ہے۔ خصوصاً ان ممالک میں جہاں قومی زبانیں حکومتوں کی بدسلوکی اور عوام کی لاپروائی کا شکار ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے، جہاں بعض قومی زبانوں (مادری زبانوں) کو علاقائی زبانیں کہا جاتا ہے اور ان کو دوسرے اور تیسرے درجے کی حیثیت دی گئی ہے۔ تعلیمی اور سرکاری اداروں میں یہ زبانیں شجر ممنوعہ ہیں، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ان پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے، ظاہر ہے کہ جو زبان ذریعہ تعلیم نہ ہو، معاش اور ملازمت کی ضرورت بھی نہ ہو اور ذرائع ابلاغ میں کسی بنیادی اہمیت کی حامل نہ ہو، وہ زبان کس طرح ترقی کر سکے گی اور زندہ رہ پائے گی، اہل فہم و دانش کہتے ہیں کہ بچے کی ذہنی نشوونما، ترقی، تعلیم اور تربیت مادری زبان کے ذریعے ہی اچھی ہو سکتی ہے۔ ماہرین تعلیم و نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں کو اس زبان میں تعلیم و تربیت دینی چاہئے جس میں وہ خواب دیکھتے ہوں، ظاہر ہے کہ خواب مادری زبان ہی میں دیکھے جاتے ہیں۔
یہ حق دنیا کی تمام مہذب اور ترقی یافتہ اقوام نے عملی طور پر قوم کے بچوں کو دیدیا ہے۔ آزادی کی تحریک میں باچا خان کی زیر نگرانی آزاد اسکولوں میں پہلی مرتبہ پشتو زبان کو ذریعہ تعلیم قرار دیا گیا، پھر ڈاکٹر خان صاحب کی وزارت میں بھی پرائمری سطح تک پشتو ذریعہ تعلیم تھی۔ ایوب خان کے دور حکومت میں قائم کردہ قومی تعلیمی کمیشن نے ایک رپورٹ تیار کی تھی جس میں سفارش کی گئی تھی کہ بچوں کو ان کی مادری زبانوں میں تعلیم دی جائے اور اس کیلئے تمام علاقائی زبانوں (مادری زبانوں) کو اپنے علاقوں میں ذریعہ تعلیم بنایا جائے، تاہم یہ امر قابل افسوس ہے کہ اس سفارش پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ 1973کے آئین کے آرٹیکل 251کی تیسری شق کے تحت صوبوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ قومی زبان اردو کے ساتھ ساتھ صوبائی زبانوں کی ترقی، استعمال اور تعلیم کیلئے مناسب قوانین وضع کر سکتے ہیں، اور اسی شق کے تحت سندھ میں سندھی زبان نہ صرف تعلیمی بلکہ دفتری زبان قرار پائی ہے۔ لیکن پشتو زبان کو اپنے اس آئینی حق سے تاحال محروم رکھا گیا ہے البتہ سابق گورنر پختونخوا جنرل فضل حق کے دور حکومت میں باضابطہ طور پرپشتو زبان کو پشتو بولنے والے علاقوں میں پرائمری سطح تک ذریعہ تعلیم قرار دیا گیا۔ المیہ یہ ہے کہ پشتو زبان کواپنی قدامت اور بھاری علمی خزینے کے باوجود نہ تو قدیم پختون بادشاہوں نے تعلیم، روزگار یا دربار کی زبان بنایا اور نہ ہی قوم پرستوں نے اپنے دور حکومت میں اس زبان کو اپنا آئینی حق فراہم کیا۔ چنانچہ جو زبان اپنے ملک میں تعلیم اور معیشت کی زبان نہ ہو وہ گلوبلائزیشن کی یلغار میں اپنے وجود کا توازن کس طرح برقرار رکھ سکے گی، کیونکہ آج دنیا میں زبان صرف اظہار کا وسیلہ نہیں ہے، بلکہ یہ قوموں کی موت و زندگی سے وابستہ اور ہر ملک و قوم کی سیاست، تاریخ، ادب، ثقافت، معاشرت اور معیشت پر پھیلی ہوئی ہے۔
ہمارے ملک میں جس طرح دیگر حقوق غصب کئے گئے ہیں، اسی طرح اس انسانی حق کو بھی تلف کیا گیا ہے، لہٰذا عالمگیریت کے اس دور میں قومی زبانوں کے تحفظ کی ضرورت پہلے سے بھی زیادہ ہوگئی ہے کیونکہ نظر انداز زبانیں گلوبلائزیشن کا زور برداشت نہیں کر پائیں گی۔ پشتو کے نامور ادیب و محقق ڈاکٹر شیر زمان طائزے کے مطابق پروفیسر اسٹیفن اے وورم کی ایک تحقیقی کتاب Atlas of the worlds languages in danger of disappearance میں کہا گیا ہےکہ دنیا میں اس وقت کم و بیش 6ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں،ان میں آدھی سے زیادہ زبانیں مستقبل میں ختم ہو جائینگی۔ Hutchison Encyclopediaکے مطابق پشتو دنیا میں آبادی کے لحاظ سے 43ویں نمبر پر ہے، مذکورہ ڈکشنری تین درجوں میں منقسم ہے، جس میں پشتو اول درجے میں شامل ہے اور اس کے بولنے والوں کی تعداد دو کروڑ بتائی گئی ہے(اگرچہ محققین کا یہ اندازہ5 کروڑ تک پہنچتا ہے) اسی طرح انکارٹا المانک میں سمرلنگوئسٹک انسٹیٹیوٹ Summer linguistic institute نے ان زبانوں کا جدول محفوظ کیا ہے، جن کے بولنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے۔ ایسی زبانوں کی تعداد 65ہے اور پشتو ان میں 43ویں نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ اگر ہم عالمی سطح پر نظر ڈالیں تو پشتو زبان کی اہمیت اور بھی واضح ہوتی ہے، مثلاً اس وقت دنیا کے تقریباً 18ممالک کے ریڈیو اسٹیشن سے پشتو کے پروگرام نشر کئے جاتے ہیں، وقت کے لحاظ سے بی بی سی پشتو سروس 17ویں نمبر پر ہے، اقوام متحدہ میں تسلیم شدہ 14زبانیں ہیں، جن میں پشتو بھی شامل ہے۔ اقوام متحدہ میں پشتو میں تقاریر ہو چکی ہیں، جینوا معاہدہ پشتو میں لکھا گیا ہے اور اس پر دستخط بھی پشتو زبان میں کئے گئے ہیں، افغانستان کے سربراہ امان اللہ خان کے دور میں آئین پشتو زبان میں تھا۔ پشتو افغانستان میں سرکاری و تعلیمی زبان رہی ہے۔ سابق ریاست سوات میں بھی پشتو دفتری اور تعلیمی زبان تھی۔ ایک لحاظ سے پشتو خلا کی زبان بھی ہے ، روس کی جانب سے1988میں خلا میں بھیجے جانے والےخلائی جہاز ’’میر‘‘ کے کیپٹن عبدالاحد مومند تھے، جنہوں نے جہاز میں خرابی کے بعد اپنی والدہ سے پشتو میں گفتگو کی تھی، تاہم اہمیت کی حامل ان تمام صداقتوں کے باوجود پشتو نہ تو پختونخوا میں تعلیم کی زبان ہے اور نہ ہی دفتری، باوجود اس کے کہ پشتو اکثریتی آبادی کی زبان ہے۔
1998کی مردم شماری کے مطابق پختونخوا کی کل آبادی ایک کروڑ 77لاکھ 35ہزار ہے جن میں پشتون ایک کروڑ 31لاکھ 5ہزار ہیں اور یہ تناسب 73.90فیصد بنتا ہے، فاٹا کی آبادی تقریباً 30لاکھ ہے جن میں 29لاکھ 15ہزار پشتون ہیں، جن کا تناسب 99.13فیصد ہے۔ پاٹا میں رہنے والوں کی تعداد تقریباً ڈھائی لاکھ ہے جن میں 2لاکھ 31ہزار پشتون ہیں اور یہ تناسب 98.69فیصد ہے، اسی طرح پختونخوا اور قبائلی علاقوں کی مجموعی آبادی دو کروڑ 9لاکھ 12ہزار 243ہے، ان میں ایک کروڑ 62لاکھ 53ہزار 32پختون ہیں، جن کا تناسب 77.72فیصد بنتا ہے، بلوچستان ، کراچی اور ملک کے دیگر علاقوں کے پختونوں کو ملا کر یہ تعداد محتاط اندازے کے مطابق تین کروڑ تک پہنچتی ہے، افغانستان کی آبادی تین کروڑ 20لاکھ 6ہزار ہے، جن میں دیگر زبانیں بولنے والے بھی شامل ہیں، یہاں کے پختونوں کوملانے سے یہ تعداد 5کروڑ سے آگے نکل جاتی ہے ۔(اگرچہ قوم پرست حلقےیہ تعداد 7کروڑ بتاتے ہیں) اسی طرح دنیا کے اکثر ممالک میں پشتون بستے ہیں، جن میں بعض نے اپنی ثقافت اور زبان کو زندہ رکھا ہے اور کوئی اپنی زبان بھول گیا ہے، لیکن اپنی نسلی شناخت کو قائم رکھا ہے، جبکہ ایسے بھی ہیں جو اپنی نسلی، لسانی اور ثقافتی شناخت ہار چکے ہیں، گلوبلائزیشن کے موجودہ تیز رفتار دور میں ہمیں پشتو زبان کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کرتے وقت اپنے حالات، پشتو بولنے والوں کے رویوں، حکمراں طبقات کے سلوک، پشتو زبان کے علمی ذخیرے، پشتو زبان و ادب کے حوالے سے کئے گئے کام اور پشتون اہل قلم کی سرگرمیوں کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ ہم یہ فیصلہ قاری پر چھوڑتے ہیں کہ گلوبلائزیشن میں پشتو زبان کہاں اور کس حیثیت میں کھڑی ہے اور اس کا مستقبل کیا ہے.......