آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عمران خان کا ..... ’’سیاسی واٹرلو‘‘؟

آج سے ٹھیک ساتویں روز یعنی 2نومبر 2016، تحریک ِ انصاف کے چیئرمین عمران خان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو بند کرنے، گویا اپنی پوری سیاسی زندگی کے فیصلہ کن نکتے کافیصلہ کرنے جارہے ہیں۔ لیڈر کے ساتھ حسب ِ قانونِ سیاست ان کی پوری جماعت بھی اس فیصلہ کن نکتے کی کشتی میں سوار ہے!
کیا کہا جارہا ہے، اس سے پہلے نپولین کے ’جنگی واٹرلو‘‘ کی کہانی یاد کرتے چلیں۔ کہانی کا انجام واٹرلو کے مقام پر عظیم جرنیل کی حتمی شکست تھا۔ جس کے بعد وہ بالآخر اقتدار سے محروم ہوکے، سینٹ ہلنیا کے جزیرے میں جلاوطنی کی زندگی گزارتا، سرطان کے ہاتھوں زندگی کے آخری سانس پورے کرگیا۔
نپولین کے اس فیصلہ کن ’’جنگی واٹرلو‘‘ کی داستان اس وقت شروع ہوتی ہے جب اس نے 1796 سے لے کر 1809کے دوران میں تین بار آسٹریا اور دو بار روس کو شکست دی۔ 1812میں البتہ روس کو فتح کرنے میں ناکام رہا جس کے نتیجے میں اس نے 1815میں ایک بار پھر روس کو زیرنگیں کرنے کابیڑا اٹھایا۔ اس کے مستقل نجومی نے اسے ’’موافق وقت‘‘ کا بار بار انتظار کرنے کو کہا۔نپولین پر نہ صرف قطعی کوئی اثر نہ ہوا الٹا وہ نجومی ہی سے کلیتاً لاتعلق ہو گیا۔ اپنے ارادے کے اسپ ِ تازہ پر سوار روس کی جانب بڑھا۔ راہ میں تازہ دم ہونے کےلئے واٹرلو میں پڑائو ڈال دیا جہاںاسے روس کے مقابلے میں

عبرتناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اس کی فتوحات، عسکریت، مہم جوئی اور قوت ِ ارادی کے چاروں سورج تاریک ہوگئے۔ شکست خوردہ نپولین نےبالآخر اپنے اس فیصلہ کن جنگی واٹرلو کا آخری باب 1821میں سینٹ ہلنیا کے جزیرے میں جلاوطنی کے ہاتھوں موت کی صورت قلم بند کیا۔ یہاں سےاب عمران خان کے 2نومبر2016کا قصہ اٹھاتے ہیں۔ یہ اس کا فیصلہ کن ’’سیاسی واٹرلو‘‘ ہے!
تجزیہ کاروں، دانشوروں، اہل فکر و نظر، سیاسی تاریخ دانوں اور ریاستی بُنت پیمائوں کےافکار کا خلاصہ مجموعی طور پر مندرجہ ذیل آرا پر مشتمل ہے۔
O۔ نومبر میں ہونے والے نوازشریف کے سیاسی خاتمے کے تجزیئے پر مبالغہ آرائی بھی کی جاسکتی ہے۔ اگر ایسا ہو گیاتو ہم اس پر آنسو بہائیں یا نہ بہائیں لیکن جب بھی ملک میں مارشل لا لگے گا، چاہے ہماری ہمدردی موجودہ حکومت کے ساتھ ہے یا نہیں، جمہوریت کے حامیوں کواجتماعی طور پر قومی سانحے، نقصان اور تکلیف سے گزرنا ہوگا۔
O۔ عمران خان کو چاہئے کہ وہ پامانا لیکس کی چائے دانی کو گرم رکھیںاور اگرمسلم لیگ نواز اگلے انتخابات سے قبل اس گھنٹی کو اپنے گلے سے اتار نہیں پھینکتی تو وہ زور سے اسے بجا سکتے ہیں لیکن وہ جو قبل از وقت اور بغیر انجام کے جانے کس اندھیرے کنویں میں چھلانگ لگانے پر بضد ہیں،اس کا انجام ان کے لئے بھی بہتر نہ ہوگا۔
O۔ تحریک ِ انصاف کے سربراہ عمران خان صاحب کو بھی سوچنا چاہئے کہ اکوڑہ خٹک، مریدکے اور جنوبی پنجاب کے ایک طبقے کے لوگ آپ کی مقبولیت کی وجہ نہیں ہیں، آپ ایسے راستے پر چل پڑے ہیں جس میں جلد یہ کیفیت آنے والی ہے کہ آگے کنواں ہوگا اور پیچھے کھائی۔
O۔ ہمارے پاس سوچنے کا وقت نہیں کہ اسلام آباد میں بھی ’’مائنس ون‘‘ کی تیاریاں ان دنوں عروج پر ہیں۔ دیکھئے اس ’’مائنس‘‘ کا ’’عشرت العباد‘‘ کون ہوگا؟ 2نومبر کے بعد چیزیں کھل کر سامنے آنا شروع ہو جائیں گی۔
O۔ احتجاج کا شوق پوراکرنے کے طعنے دینے والے وفاقی وزرا اب تحریک ِ انصاف سے پس پردہ رابطوں کے لئے ہاتھ پائوں کیوں مار رہے ہیں؟  اپوزیشن لیڈر کی منتیں کیوں کی جارہی ہیں؟2نومبر کا انتظار کریں اور خیر کی د عا مانگیں لیکن ساتھ ہی ملک کا ماضی ذہن میں رکھیں۔
O۔ تحریک ِ انصاف آج پاپولرزم کی سیاست کر رہی ہے۔ اگر یہ ناکام ہوتی ہے تو اس کا فائدہ نوازشریف کو پہنچے گا اور وہ زیادہ طاقت ور ہو جائیں گے۔اگر کامیاب ہوتی ہے تو اس کا نتیجہ غیرآئینی اقدام ہوگا۔ کیا تحریک ِ انصاف کی صفوں میں کوئی ایک رجل رشید ہے جو اس پہلو پر غور کرسکے۔ (جناب! رجل رشید تونہیں البتہ ’’شیخ رشید‘‘ ہیں۔ کالم نگار)
O۔ بعض لوگ فوج کی طرف دیکھتے ہیں..... میرا خیال ہے کہ یہ آپشن ہر لحاظ سے ناقابل قبول ہوگا۔ اس سے ملک کی تقدیر سنورنے کی بجائے زیادہ بگڑے گی۔ فوج کی اعلیٰ ترین قیادت ماضی قریب کے تین چار برسوں (بلکہ 2008کے بعد سے اب تک کے 8برسوں) میں بار بار اس تاثر کو زائل کرچکی ہے کہ فوج کی مداخلت کسی سیاسی تنازع کا کوئی کافی یا شافی حل ہے؟
O۔ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر سسٹم کی اکھاڑ پچھاڑ کرنے والوں کی اب بہرصورت حوصلہ شکنی ہونی چاہئے کیونکہ اس سیاست کی بنیاد پر ہی اب تک سسٹم کو استحکام حاصل نہیں ہو پایا۔ سسٹم کو کمزور کرنے والے سیاستدانوں سے ملک کی سلامتی کے تحفظ اور عوام کی فلاح کی کیا توقع کی جاسکتی ہے؟
O۔ ’’لیکن تشویشناک امر یہ ہے کہ اس وقت چین جتنا پاکستان میں سیاسی استحکام کا متمنی ہے اتنا امریکہ اور ہندوستان پاکستان میں مارشل لا کا نفاذ چاہتے ہیں۔ مجھے تولگتا ہے کہ امریکہ نے پھر 1999 والا کام شروع کردیا ہے کہ چور سے کہے چوری کرو اور گھر والے سے کہے بیدار رہو۔‘‘
O۔ نہ گھوڑا دور نہ میدان..... سب کھل جائے گاکہ تنہا کون اور رونق کہاں؟ سیاہ رو کون اور سرخرو کون؟ ابھی تو ’’لیک‘‘ اور ’’فیڈ‘‘ کا فیصلہ بھی ہونا ہے، میری اطلاع کے مطابق قربانی کا بکرا اڑیل گدھے میں تبدیل ہو کرعالم پناہوں کو دھمکیوں کی دولتیاں مارتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ مجھے پھنسایا گیا تو میں وعدہ معاف گواہ بن کر صاف صاف بتا دوں گا کہ مجھے کس نے اُکسایا؟
O۔ 1986سے ہم 2016تک پہنچ چکے ہیں، نومبر کے پہلے ہفتے میں عمران خان اور ان کی جماعت نے اسلام آباد کی تالہ بندی کرکے نوازشریف سے استعفیٰ لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ مجھے ہرگز خبر نہیں کہ نواز حکومت اس تالہ بندی سے کیسے نبردآزما ہونا چاہ رہی ہے۔ ایک بات کا البتہ مجھے یقین ہے کہ موجودہ وزیراعظم کے پاس SK(ماضی کا ایک حق گو بیوروکریٹ) جیسا کوئی دبنگ افسر ہرگز موجود نہیں ہے۔ شہباز صاحب کے سدھائے Yes، Yes Sir، Sir والے نمونے ہیں، خدا خیرکرے!
کالم نگار کی قیاس آرائی!
2نومبر 2016کے حوالے سے ملک کا اجتماعی قومی سیاسی منظرنامہ آپ کی خدمت میں پیش کیاجاچکا۔ یہ تحریر بروز منگل مورخہ 25اکتوبر2016کو مکمل کی جارہی ہے جبکہ 24اکتوبر کی شب گیارہ بجے تا چار بجے صبح نیو سریاب پولیس ٹریننگ سنٹر کوئٹہ میں دہشت گردوں نے 60سے زائد پولیس اہلکار اور 130سے زائد زخمی کردیئے، کاالمیہ بھی رونما ہوچکا ہے۔ طالب علم کالم نگار کی خاکسارانہ اور عاجزانہ قیاس آرائی، منتخب حکومت کو کمزور ہوتا دیکھنے کے ساتھ ساتھ اسے اس بحران سے باہر نکلتے محسوس کر رہی ہے اور عمران خان پر ’’سیاسی واٹرلو‘‘ کی ٹریجڈی کے سائے گہرے ہیں!




.