پیپلز پارٹی کےرہنما جہانگیر بدر لاہور کے نجی اسپتال میں انتقال کر گئے ۔ ان کی عمر 72 برس تھی ۔جہانگیر بدر دل اور گردوں کے عارضےمیں مبتلا تھے ۔نماز جنازہ دوپہر 3 بجے باغ جناح لاہور میں ادا کی جائے گی۔ بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری سمیت پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا اظہار افسوس ۔
جہانگیر بدر 25 اکتوبر 1944 کو لاہور میں پیدا ہوئے ۔انھوں نے زمانہ طالب علمی سےسیاست شروع کی اور طلبہ یونین کے صدر بھی رہے۔جہانگیر بدر 1988 میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے ۔ بینظیربھٹوکے پہلےدورحکومت میں وفاقی وزیر بھی رہے۔
جہانگیر بدر پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل بھی رہے اور وہ 1994 اور 2009 میں دو بار سینیٹر بھی منتخب ہوئے ۔بلاول بھٹو زرداری کا جہانگیربدر کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ انھیں جہانگیر بدر کے انتقال کا سن کر دھچکا لگا ہے۔
بلاول کا کہنا تھا کہ جہانگیربدر کےبغیرسیاسی سفر کا تصور بھی نہیں کیا تھا،انشاء الله آپ کو سر خرو کریں گے ۔اس موقع پر امیرجماعت اسلامی سراج الحق اور لیاقت بلوچ کاجہانگیربدرکےانتقال پراظہارافسوس کیا ۔
دوسری جانب سے رہنما ایم کیو ایم لندن ندیم نصرت کا جہانگیربدرکےانتقال پر دکھ اورصدمےکااظہار کیا ہے ۔ایم کیو ایم لندن کے ندیم نصرت کا کہنا تھا کہ جہانگیر بدر کے انتقال سے پیپلز پارٹی ایک اہم رہنما سے محروم ہوگئی۔