• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
8جنوری 1959ء کی سہ پہر کو جب32سالہ فیڈل کاسترو اپنے پانچ ہزار باغیوں کے ہمراہ ہوانا میں داخل ہوا تو ملک کا ڈکٹیٹرFulgencio Batistaنئے سال کے شروع ہونے سے پہلے ہی محل سے فرار ہو چکا تھا۔ یہ وہی ڈکٹیٹر تھا جس کی فوجی بغاوت کے خلاف پہلے کاسترو نے قانونی جنگ لڑنے کی کوشش کی اور پھر ناکامی پر ہتھیار اٹھا لئے، کاسترو کو جیل میں پھینک دیا گیا جہاں اسے 15 سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔ ’’مجھے کوئی خوف نہیں، مجھے اس بدترین آمر سے بھی کوئی خوف نہیں جس نے میرے ستّر بھائیوں کی جان لی، میری بھی جان لے لو، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، تاریخ کا فیصلہ میرے حق میں آئے گا!‘‘ جیل میں یہ کاسترو کے الفاظ تھے ۔1954ء کے صدارتی انتخاب سے پہلےBatistaنے کاسترو کے لئے عام معافی کا اعلان کر دیا، یہ ایک سنگین غلطی تھی کیونکہ پھر اسی فیڈل کاسترو نے اُس فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف دو برس تک لڑائی کی تھی جس کے نتیجے میں بالآخر فتح کاسترو کے حصے میں آئی۔ ہوانا شہر کی آبادی اس وقت دس لاکھ کے قریب تھی، کاسترو کی آمد پر شہر میں جشن کا سماں تھا، اس کے حامی خوشی سے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر گھوم رہے تھے، اسی دن کیمپ کولمبیا کے آرمی ہیڈکوارٹر میں دس ہزار کے مجمع کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کاسترو نے تمام باغی گروپوں کو متحد ہونے کی تلقین کی اور تنبیہ کی کہ ’’اب کوئی نجی ملیشیا برداشت نہیں کی جائے گی۔‘‘ نوجوان انقلابی اپنے لیڈر کی ہر بات کے جواب میں جوش میں بھرے نعرے لگا رہے تھے، لوگوں کو یقین تھا کہ اب اُن کی زندگیوں سے اندھیرے دور ہو جائیں گے اور انقلاب اُن کے گھروں میں گھی کے چراغ جلا دے گا۔ فیڈل کاسترو اب کیوبا کا نیا انقلابی رہنما تھا۔
فیڈل کاسترو کی شخصیت میں وہ تمام اجزائے ترکیبی پائے جاتے تھے جو کسی بھی شخص کو تیسری دنیا کا ہیرو بنانے کے لئے کافی ہیں۔ خاکی پینٹ اور جیکٹ میں ملبوس انقلابی، ہاتھ میں سگار، چہرے پر خشخشی داڑھی، مسکراہٹ جو کسی فاتح انقلابی کے چہرے پر ہی ہوسکتی ہے اور سب سے بڑھ کر امریکہ کی مخالفت۔ فیڈل کاسترو شاید وہ واحد شخص تھا جس نے پانچ دہائیوں تک امریکہ کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا، اس پر لاتعداد قاتلانہ حملے ہوئے مگر ہر مرتبہ وہ بچ نکلا، امریکہ کے دروازے پر اُس نے کمیونسٹ انقلاب کی بنیاد رکھی، امریکہ کے سینے پر مونگ دلتا رہا، اس دوران گیارہ امریکی صدور آئے اور چلے گئے اور ہر ایک نے کاسترو سے جان چھڑانے کی کوشش کی مگر فیڈل کاسترو وہیں کا وہیں رہا اور بالآخر نوّے برس کی عمر میں اپنی طبعی موت مرا ۔ باراک اوباما نے کاسترو کی وفات پر ایک منافقانہ قسم کا بیان جاری کیا اور ماضی کو بھلا کر کیوبا کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جبکہ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بغیر کسی لگی لپٹی کے کہا کہ ’’ایک سفاک آمر کی موت ہوئی جس نے ساٹھ برس تک اپنے ہی لوگوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔‘‘ میڈیا کے تبصروں میں بھی کسی حد تقسیم نظر آئی، پاکستان جیسے ملکوں کے اخبارات نے کاسترو کی عظمت کو ہی بیان کیا، اُس کی متعارف کردہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ہونے والی اصلاحات کو سراہا، زلزلے کے موقع پر کیوبا کی طرف سے پاکستان بھیجے جانے والے ڈاکٹروں کے وفد کی تعریف کی اور دنیا بھر میں سامراج (اِس لفظ کے بارے میں وجاہت مسعود صاحب نے چیلنج دے رکھا ہے کہ اگر کوئی انہیں اِس کا مطلب ڈھونڈ کر دکھا دے تو وہ انہیں اپنے ہئیرکٹنگ سیلون کا پتہ بتا دیں گے) کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کی زبانی ہی نہیں عملی مدد کی اور چلی اور نکاراگوا جیسے ممالک، جو امریکہ کے ڈسے ہوئے تھے، میں مارکسسٹ حکومتوں کے قیام کی حمایت کی۔ دوسری طرف مغربی اور خاص طور پر امریکی میڈیا نے کاسترو کے خاصے لتے لئے، اسے ایک سفاک آمر قرار دیا جس کے ملک میں لوگوں کو فائرنگ اسکواڈ کے آگے کھڑا کرکے اڑا دیا جاتا تھا، کاسترو کے کیوبا میں آزاد میڈیا اور جمہوری آزادیوں کا تصور نہیں تھا، اس کی اپنی بہن جوانا کے بقول کاسترو ایک ’’راکھشس‘‘ تھا جبکہ بیٹی علینا فرنینڈس بھی باپ کی سخت ناقد تھی اور کیوبا چھوڑ کر امریکہ جا بسی تھی۔
فیڈل کاسترو اس لحاظ سے خوش قسمت تھا کہ فقط پانچ ہزار ساتھیوں کی مدد سے ایک انقلاب برپا کرنے میں کامیاب ہوا، یہ پچاس، ساٹھ اور شاید ستّر کی دہائی تک ممکن تھا، آج کل کی دنیا میں یہ ایک خواب ہی رہتا۔ اس زمانے میں کاسترو اور چی گویرا ہمارے بزرگوں کے ہیرو تھے، دنیا میں سوشلسٹ انقلاب ایک فیشن تھا اور چی گویرا کی تصویر کمرے میں آویزاں کرنا گویا اس بات کا ثبوت تھا کہ آپ بھی انقلابی ہیں اور استعمار کے خلاف ہیں۔ یہ بات بھی کسی غمناک لطیفے سے کم نہیں کہ کاسترو کا ساتھی چی گویرا بولیویا میں انہی لوگوں کی مخبری پر پکڑ کر مار دیا گیا جن کی زندگیوں میں وہ انقلاب لانے کی جدوجہد کررہا تھا۔ فیڈل کاسترو اور چی گویرا جیسے لوگ بہرحال عظیم تھے کہ اپنی آرام دہ زندگیاں چھوڑ کر ایک نظریے کے تحت استعمار کے خلاف لڑتے رہے، لیکن تاریخ کاسترو جیسے لوگوں سے کچھ سخت سوالات بھی پوچھتی ہے۔ جب آپ پچاس برسوں تک بلاشرکت غیرے کسی ملک پر حکمرانی کریں اور یہ حکمرانی بھی ایک انقلاب کا نتیجہ ہو جس میں لوگوں کی زندگیاں بدلنے کا وعدہ کیا گیا ہو تو ملک میں محض چند اصلاحات کرنے سے بات نہیں بنتی، پچاس برس بعد بھی اگر ملک کا انتظام اس طرح چلایا جائے کہ جاتے ہوئے اقتدار کسی بادشاہ کی طرح اپنے بھائی کو تفویض کر دیا جائے تو پھر کیا سوال باقی رہ جاتا ہے!
امریکی بھی دودھ کے دھلے نہیں، پچاس برسوں میں انہوں نے فیڈل کاسترو پر کتنے قاتلانہ حملے کروائے، کوئی حساب نہیں، انہیں کاسترو سے ایک ضد سی ہوگئی تھی، اس کے پورے دور اقتدار کے دوران امریکی میڈیا اسے شیطان صفت حکمران ثابت کرنے میں جتا رہا، 1985میں مشہور امریکی جریدے ’’پلے بوائے‘‘ کو انٹرویو کے دوران کاسترو سے سوال کیا گیا کہ صدر ریگن آپ کو ایک سفاک فوجی آمر سمجھتے ہیں، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کاسترو نے بڑا دلچسپ جواب دیا:’’اگر ڈکٹیٹرشپ کا مطلب محض حکم جاری کرکے حکومت کرنا ہے تو پھر آپ کی دلیل کے مطابق پوپ سے بڑا ڈکٹیٹر کوئی نہیں ہوسکتا!‘‘ کاسترو کے ملک پر اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں، اس کا حقہ پانی بند کر دیا گیا، جرم یہ تھا کہ ایک تیسری دنیا کے نام نہاد انقلابی کی جرات کیسے ہو کہ وہ امریکہ بہادر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکے۔ شاید یہی سبق ہے جو ہم کاسترو سے سیکھ سکتے ہیں، اپنے یہاں ہر شخص کے دماغ میں یہ بات راسخ ہے کہ امریکہ کی مرضی کے بغیر پاکستان میں چپراسی بھی تبدیل نہیں ہوسکتا، کیوبا کا فیڈل کاسترو ایسے لوگوں کے لئے ایک مثال ہے کہ اگر کوئی شخص ڈٹ جائے تو سپرپاور بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
یہ دنیا بڑے آدمیوں کی دنیا ہے، ماؤزے تنگ اور فیڈل کاسترو کی دنیا ہے، یہاں بڑے لوگوں کے ناموں کے آگے لاکھوں گمنام لوگوں کی زندگیاں کسی نہ کسی انقلاب کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں، انقلاب کے بعد بڑے لوگ سینے پر تمغے سجائے سلامی لیتے ہیں اور یہ سلامی ہزاروں لاکھوں لوگوں کی جانوں کا ثمر ہوتی ہے۔ یہ دنیا سفاکی اور ناانصافی پر کھڑی ہے، جتنی جلدی ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں گے پچھتاوا اُتنا ہی کم ہوگا۔




.
تازہ ترین