آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
آرمی پبلک ا سکول پشاور پر حملے کو ایک سال پورا ہونے سے پہلے اس گھنائونے واقعہ میں ملوث کم از کم چاردہشت گردوں کو پھانسی دے دی گئی ۔ وہ سانحہ اتنا لرزہ خیز تھا کہ ایک سال گزرنے کے بعد بھی ایک معاصر اخبار میں اس کی تفصیل پڑھتے ہوئے دل خون کے آنسورونے لگا۔ 2014ء کے پشاور حملے نے پاکستان کی روح کو لرزا کررکھ دیا۔ ہمیں اپنے ہاں پنپنے والی انسانی اقدار پرشبہ ہونے لگا کہ کس طرح ہم نے اپنے معاشرے میںایسے خون آشام عفریت پال رکھے ہیں جنھوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لئے اس بے دردی سے معصوم بچوں کے خون سے ہاتھ رنگے۔ ترکی کے ساحل پر سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے ایلان کردی کی تصویر نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کررکھ دیاتھا۔ شاید ہی کوئی ایسے والدین ہوں گے جنہوں نے وہ تصویر دیکھ کر اپنے بچوں کے تحفظ کی فکر نہ کی ہو۔ کسی شخص کے لئے اپنے بچوں کو کھونے سے زیادہ تکلیف دہ کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ قدرتی طور پر بچوںکی زندگی میں اُن کے والدین دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، لیکن اس کے برعکس صورت ِحال انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ انتہائی اذیت ناک بات یہ ہے بچے کی زندگی کسی قدرتی وجہ سے نہیں، انسانی درندگی کی وجہ سے ضائع ہوجائے۔
اے پی ایس حملے نے ہمیں خوفزدہ بھی کردیا اور مشتعل بھی۔ ہمارے غصے نے انتقام اور ہمارے خوف نے ڈیٹرنس کی راہ اپنائی ۔

یہ حملے ہماری یاد سے محو نہیں ہوسکتے، لیکن اگر ہم انتقام لے لیں تو چلیں ہونے والا نقصان تو پورا نہ ہو گا لیکن زخم مندمل ہوجائیںگے۔ اگر ہم دہشت گردوں کو فوری اور بے لاگ سزادے دیں تو ہم دہشت گردوں کو ملنے والے دوٹوک اور بے رحمانہ جواب سے خوف زدہ کرتے ہوئے آئندہ کے لئے ایسے سانحے سے بچ سکتے ہیں۔ ہمارا طرز ِعمل اُن انسانوں جیسا تھا جو خوف اور غصے سے مغلوب ہوکر فیصلے کرتے ہیں۔ انتہائی جذباتی حالت میں ذہن عمل اور رد ِعمل کاجائزہ لینے کی زحمت نہیں کرتا۔ اپنے غصے اور صدمے کو کم کرنے کے لئے ہم نے کچھ کھلے اور ہنگامی فیصلے کرڈالے۔ ان میں ایک سزائے موت پر لگی پابندی کا خاتمہ تھا کیونکہ اگر مجرموں کو فوری طورپر پھانسی پر لٹکانا شروع کر دیں تو مجرموں کے دل میں اس کا خوف بیٹھ جائے گا۔ دوسرا یہ کہ چونکہ ہمارا کریمنل جسٹس سسٹم کمزور اور غیر موثر ہونے کے علاوہ غلطیوں سے لبریز ہے ، اسلئے ہمیں مجرموں اور دہشت گردوں کو تختہ ٔ دار تک بھیجنے کے لئے شارٹ کٹ اختیارکرنا تھا۔ تیسرا یہ کہ حالت ِ جنگ میں کسی قوم کے پاس دہشت گردوں کو قانونی حق دینے کی گنجائش نہیں ہوتی ، کیونکہ ایسا کرنا دہشت گردی کو تقویت دینے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملے کے بعد ہم پر وارد ہونے والی کیفیت نے ہمیں جرم کی سزا دینے کے لئے ایک طے شدہ نظام سے ہٹا دیا۔ ہم نے اس کے مضمرات کو جانے بغیر دوٹوک فیصلے کرنا بہتر سمجھا۔ دلیل دی گئی کہ چونکہ برادرعرب ملک میں مجرموں کے سرقلم کردئیے جاتے ہیں، اس لئے وہاں سنگین جرائم کی شرح بہت کم ہے۔ چنانچہ ہم نے بھی اس امید پر کہ مجرم خوفزدہ ہوجائیں گے، پھانسیاں دینا شروع کردیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ ضرورت پڑنے پر ترقی یافتہ ممالک نے بھی فوجی عدالتیں قائم کیں،چنانچہ نااہل سویلین جسٹس سسٹم کی جگہ فوری انصاف فراہم کرنے والی عدالتوں کے قیام میں کوئی حرج نہیں۔ اگرہمارے فوجی ہلاکت خیز جنگ لڑرہے ہیں ، ہمارے پائلٹ فاٹا اور دیگر علاقوں میں بمباری کررہے ہیں ، گویا ہم حالت ِ جنگ میں ہیں ، اور ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ہلاک ہونے والے کون ہیں، تو پھر ان کے بارے میں زیادہ تردد کی کیا ضرورت ہے جو بمباری میں ہلاک نہیں ہوئے ، زندہ پکڑے گئے ؟اس طرح ہم نے یہ نتیجہ نکالا کہ جنگ کے وقت زمانہ ٔ امن کے طریق ِ کار پر عمل کرنا مشکل ہے۔ اس نئی دوٹوک صورت ِحال نے ہمیں دہشت گرد اور دہشت گردی کے مشتبہ شخص میں تمیز کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ہم نے کہا کہ جنگ کے دوران ایک دہشت گرد پر اس اصول کا اطلاق کیسے کیا جائے کہ جب تک جرم ثابت نہ ہو، اُسے بے گناہ سمجھا جائے؟مزید یہ کہ ہنگامی حالات میں اتنا وقت نہیں تھا کہ ہم اپنے کریمنل جسٹس کی فعالیت اور محفوظ قانونی طریق ِکار کے درمیان توازن تلاش کرتے ، کیونکہ ہمیں نتائج درکار تھے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ دہشت گردوں کو پھانسی پر لٹکانے کی خبر اس کا شکار ہونے والے افراد کے اہل ِخانہ کو تسلی دے سکتی ہے۔ اس راستے میں بدترین صورت ِحال یہ ہوسکتی ہے کہ کچھ بے گناہوں کو بھی پھانسی مل جائے، لیکن ہم نے یہ کہہ کر خود کو تسلی دے لی کہ ایسے مشتبہ افراد کا کوئی نہ کوئی تعلق دہشت گردوںسے ضرور ہوتا ہے۔
چنانچہ پشاور سانحے کے بعد کریمنل جسٹس کے حوالے سے ہمارا طرز ِعمل قابل ِفہم ہے، لیکن اسے قانونی، اخلاقی اور منطق کے اعتبار سے درست قرار دینا مشکل ہے۔ ہمارے پاس ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ پھانسی کی سزا سے خائف ہوکر مجرم جرم یا دہشت گردی کے راستے سے تائب ہوجاتے ہیں۔ ریاست کی طرف سے سزائے موت کو ڈیٹرنس کے طور پر استعمال کرنے کی افادیت اُس صورت میں مزید مشکوک ہوجاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ جن دہشت گردوںسے ہمیں واسطہ ہے ، اُنہیں کسی نہ کسی عقیدے کی تحریک حاصل ہے۔ ایسے افراد موت سے ہرگز نہیں ڈرتے۔ چنانچہ اس صورت میں پھانسی کی سزا کی ڈیٹرنس کے طور پر حمایت نہیں کی جاسکتی ۔ اس کے علاوہ مشکوک طریق ِکار اور انسانی غلطیوں کی بدولت کسی بے گناہ کی جان بھی جاسکتی ہے۔
یہ مسئلہ مزید گمبھیر ہوجاتا ہے جب ہم فیئر ٹرائل کے تحفظ کو معطل کردیتے ہیں۔ فوجی عدالتیں ان سویلین افراد سے نمٹنے کیلئے نہیں ہوتیں جنہوں نے سوسائٹی میں جرم کیا ہو، ان کا مقصد فوج کے اندر نظم قائم رکھنا ہوتا ہے۔ ایک مجرم کے کیس کی سماعت کرنے والا جج اُس وقت ایک غیر جانبدار منصف ہوتا ہے اور وہ غیر جذباتی ہوکر ریاست کی طرف سے استغاثہ اور ملزم کی طرف سے وکیل ِ صفائی کو سنتا ہے۔ تاہم کورٹ مارشل آرمی ایکٹ کے تحت ہوتا ہے ، اور اس میں مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے افراد کے مقدمات کا فیصلہ ہوتا ہے، لیکن ہمارے سامنے ایسے دہشت گردہیں جو سویلین ہیں لیکن اُنہیں فوج نے پکڑا ہے۔ ایک بہتر جسٹس سسٹم ایک ہی جرم کے لئے زیادہ مقدمات سے روک دیتا ہے۔ آئین ِ پاکستان بھی یہی کہتا ہے آرمی ایکٹ کے تحت کیے گئے کورٹ مارشل میںضروری ہے کہ اتھارٹی اس فیصلے کی توثیق کرے۔ اگر اتھارٹی توثیق کرنے سے انکار کردے تو مقدمے کی کارروائی دوبارہ ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ اس مرتبہ مختلف نتیجہ سامنے آئے۔ پاکستان آرمی ایکٹ کسی شخص کو سزاسناتے ہوئے اُسے مقدمے کی نقل بھی فراہم کرتا ہے ، لیکن 1985 ء میں کی گئی ایک ترمیم کے ذریعے آرمی چیف سز ا پانے والے شخص کو کاپی فراہم کرنے سے روک سکتا ہے اگر ایسا کرنا (کاپی فراہم کرنا)’’ریاست کے مفاد کے خلاف ہو۔‘‘اس کی وجہ سے اپیل کرنے کا حق سلب ہوجاتا ہے کیونکہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ اُس کے خلاف کیا فیصلہ لکھا گیا۔
جی ایچ کیو کی ہدایت ہے کہ اگر ایک مرتبہ چیف یا وائس چیف سزا کی توثیق کردے تو عدالت میں کی جانے والی اپیل فیصلے کو تبدیل نہیں کرسکتی تاوقتیکہ کہ آرمی چیف اس کی اجازت نہ دے۔ کیا موجودہ فریم ورک کے اندر کورٹ مارشل ، جسے آرمی ایکٹ کا تحفظ حاصل ہے، فیئر ٹرائل کا متبادل ہوسکتا ہے؟ہمارے موجودہ حالات میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ صرف انتہائی سنگین کیسز ہی ملٹری کورٹس میں بھیجے جائیں گے۔ بالکل درست، لیکن جنہیں افسران پہلے ہی سنگین اور سیاہ ترین مجرم قراردے دیں، اُنہیں عدالت سے کیا رعایت ملے گی؟چنانچہ دیکھا جاسکتا ہے کہ خوف اور جذبات سے مغلوب ہوکر ہم نے اکیسویں ترمیم کے تحت فوجی عدالتیں قائم کرلی ہیں۔چنانچہ اب وقت ہے کہ ہم اصل مسئلے کا سامنا کریں۔ اب ہمیں اپنے دیمک زدہ کریمنل جسٹس سسٹم کو درست کرنا ہے۔ جتنی جلدی ایسا ہوجائے ، اتنا ہی بہتر ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں