آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جھنگ میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخاب میں مولانا مسرور نواز جھنگوی کی جیت کے بعد ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ، فرقہ واریت اور انتہا پسندی کا فروغ اور نیشنل ایکشن پلان جیسے موضوعات کے حق اور مخالفت میں کئی طرح کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کوئی اسے اَپ سیٹ قرار دے رہا ہے تو کسی کیلئے یہ جیت حیران کن ہے۔ نظریات اور قومی معاملات سے ہٹ کر صرف اور صرف انتخابی سیاست کی بات کی جائے تو ہو سکتا ہے یہ بات آپ کو عجیب لگے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جھنگ میں کچھ نیا نہیں ہو ا کیونکہ جذبات اور انتخابی سیاست دو یکسر مختلف عوامل ہیں۔ وہاں کی سیاست کو ماضی کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کوئی غیرمعمولی نتائج نہیں ہیں۔ انتخابی تاریخ پر نظر ڈالنے سے حالیہ الیکشن کو سمجھنے میں مزید آسانی ہو گی۔
اگر 1988ء کے الیکشن کے نتائج کو دیکھا جائے تو جھنگ شہر میں کالعدم سپاہ صحابہ کو قومی و صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر شکست ہوئی تھی۔ مولانا حق نوا ز جھنگوی کے مقابلے میں سیدہ عابدہ حسین نے 9ہزار ووٹ کی برتری سے کامیابی حاصل کی جبکہ صوبائی سیٹ پر شیخ اقبال فتحیاب ہوئے۔ اس شکست کے بعد کالعدم سپاہ صحابہ نے نظریات کے ساتھ ساتھ جوڑ توڑ، برادری اور گروپ کی روایتی سیاست کو بھی اپنا شعار بنا لیا۔ قومی حلقے کے اہم حریف ریاض حشمت جنجوعہ

کو ایک صوبائی سیٹ کی پیشکش کر کے ساتھ ملا لیا تاکہ آئندہ مقابلہ ون ٹو ون ہو سکے۔ حق نواز جھنگوی کے قتل کے بعد 1990 میں قومی اسمبلی کی سیٹ پر قاری ایثارالحق قاسمی نے حصہ لیا اور 29ہزار ووٹ کی لیڈ سے نواب امان اللہ سیال کو شکست دی جبکہ صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر روایتی حریف شیخ اقبال کو ہرا کر انہوں نے دونوں سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ موجودہ PP-78 کو پرانی حلقہ بندیوں میں PP-65 کہا جاتا تھا۔ قاری ایثارالحق قاسمی نے قومی اسمبلی کی سیٹ کو ترجیح دی جبکہ صوبائی سیٹ پر ضمنی الیکشن ہوا اور اسی دن قاری ایثار کے قتل کے باعث الیکشن ملتوی ہو گیا۔ بعد ازاں 1992میں دونوں سیٹوں پر ضمنی الیکشن ہوا اور دونوں سیٹوں پر مولانا اعظم طارق کامیاب ہوئے۔ بعد ازاں اعظم طارق نے قومی اسمبلی کی سیٹ اپنے پاس رکھی اور صوبائی اسمبلی پر ضمنی انتخاب ہوا جس میں کالعدم سپاہ صحابہ ہی کے حاجی عابد حسین بلا مقابلہ ایم پی اے منتخب ہو گئے۔ 1993میں ایک بار پھر مولانا اعظم طارق دونوں سیٹوں پر کامیاب ہوئے جبکہ ریاض حشمت جنجوعہ اس حلقے کی دوسری صوبائی سیٹ جیت گئے۔ اعظم طارق نے دوبارہ قومی اسمبلی کا رخ کیا اور صوبائی سیٹ پر پھر الیکشن ہوا جس میں انہی کے حمایت یافتہ شیخ حاکم علی نے کامیابی حاصل کی۔ 1997میںاسی صوبائی سیٹ پر اعظم طارق نے ایک بار پھر کامیابی حاصل کی۔
2002میں حلقہ بندیوں میں تبدیلیوں کے بعد تین قومی اسمبلی کے حلقوں کی حدود میں آنے والے جھنگ کے مختلف علاقے اس میں شامل کئے گئے۔ جس کے بعد یہاں گٹھ جوڑ اور برادری کی سیاست کا کردار اور بھی بڑھ گیا۔ ریاض حشمت جنجوعہ کی وفات کے بعد اس الیکشن میں کالعدم سپاہ صحابہ نے انکے چھوٹے بھائی ظہور احمد ساجد کی حمایت کی جنہوں نے نیشنل الائنس کی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور کامیاب ٹھہرے۔
2008 میں کالعدم سپاہ صحابہ (جو اب اہلسنت والجماعت کے نام سے کام کر رہی ہے)، نے ظہور احمد ساجد سے اختلافات کی وجہ سے خالد محمود سرگانہ کو یہاں سے الیکشن جتوایا جو PP-77سے ق لیگ کے ممبر صوبائی اسمبلی تھے۔ خالد سرگانہ بھی ماضی میں کالعدم سپاہ صحابہ کی جانب سے میونسپل کمیٹی جھنگ کے چیئرمین رہ چکے تھے۔
2013 میں اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے قومی و صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیا اور دونو ں سیٹیں ہار گئے۔ صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر مسلم لیگ (ن) کی راشدہ یعقوب شیخ نے کامیا بی حاصل کی۔ یہاں مقابلہ بہت سخت رہا لیکن ن لیگ 1900ووٹوں سے جیت گئی۔ جھنگ کی انتخابی سیاست سے باہر رہنا کالعدم تنظیم نے قبول نہیں کیا اور ایم این اے شیخ اکرم اور ایم پی اے راشدہ یعقوب کے خلاف الیکشن ٹربیونل میں اپیل کر دی جہاں سے دونوں کو نااہل قرار دیا گیا تاہم شیخ اکرم نے سپریم کورٹ سے اسٹے آرڈر حاصل کر لیا اور اپنی سیٹ بچانے میں کامیاب ہو گئے لیکن راشدہ یعقوب کو ناکامی ہوئی۔
اہم بات یہ ہے کہ ضلع جھنگ کی قومی و صوبائی اسمبلی کی تمام سیٹیں جوڑ توڑ، برادری، شخصیات اور گروپ بندی کی روایتی سیاست کا شاہکار رہی ہیں۔ ہر اگلے الیکشن میں امیدوار اِدھر سے اُدھر ہو جاتے ہیں اور نئی دھڑے بندیاں سامنے آتی ہیں۔ تازہ ترین مثال یہ ہے کہ مسرور نواز جھنگوی کا مقابلہ کرنیوالے حاجی آزاد ناصر انصاری نے گزشتہ سال کالعدم تنظیم کی حمایت سے کونسلر کا الیکشن جیتا اورپھر وہی مسلم لیگ ن کے صو بائی امیدوار بن گئے۔ اب مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو 1988سے2016 تک اس صوبائی سیٹ پر کل گیارہ مرتبہ الیکشن ہوئے ہیں جس میں 9مرتبہ کالعدم سپاہ صحابہ/ اہلسنت و الجماعت نے کامیابی حاصل کی جبکہ محض دو بار مخالف امیدوار کامیاب ہوئے۔ اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ 2016 میں ہونیوالے ضمنی الیکشن میں مولانا مسرور نواز جھنگوی نے صوبائی اسمبلی کی سیٹ اپنے نام کر کے کوئی اپ سیٹ نہیں کیا بلکہ جھنگ کی انتخابی سیاست میں ایک بار پھر ’’انٹری‘‘ ڈال دی ہے۔
اب کالعدم تنظیم کی نظریں میونسپل کمیٹی جھنگ کی چیئرمین شپ پر ہیں ۔ اس سے اگلا ٹارگٹ قومی اسمبلی حلقہ90 شورکوٹ جھنگ کی نشست ہے۔ تاہم یہ وقت ہی بتائے گا کہ انتخابی سیاست کے پردے میں ابھی بھی انتہاپسندانہ نظریات چھپے ہیں یا جھنگ الیکشن میں نظریے کو نہیں سیاست کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں