• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

16دسمبر:سقوط ِ ڈھاکہ اور سانحہ پشاور

دسمبر کی ہمارے ساتھ کئی غمناک اور کربناک یادیں وابستہ ہیں جو ہر سال ہمارے دلوں کو بہت اداس کرجاتی ہیں۔ یہی دسمبر تھا جب مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے مسلمانوں کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔ ناقص حکومتی فیصلوں اور دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم نے مشرقی پاکستان میں نفرت و لاچاری کی آگ کو ہوا دی۔ بیرونی قوتیں اور دشمن ہمیشہ سے پاکستان کو کمزور کرتے آئے ہیں۔ انہی سازشوں نے پاکستان کے مشرقی حصے میں انتقام کی آگ بھڑکائی جو آخر کار 16دسمبر 1971کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کی صورت میں سامنے آئی۔ مغربی اور مشرقی پاکستان بنگلہ اور اردو زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کے لئے لڑتے رہے حالانکہ زبان کا مسئلہ حل ہوسکتا تھا لیکن ہندوئوں کی بے جا مداخلت اور بنگالیوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کی سازشوں نےایسی افراتفری پیدا کی کہ حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ 1971میں بھارت کی بے جا مداخلت پر پاکستان نے جنگ کا اعلان کیا اور یہ جنگ تاریخ کی سب سے چھوٹی (13روز) جنگ رہی جس کا اختتام سقوط ِ ڈھاکہ پرہوا۔ اس جنگ میں بھارت نے 93,000 کے قریب پاکستانیوں کو قیدکر لیا گیا۔ ملک کا قیمتی اثاثہ تو ضائع ہوا ہی اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں جانوں کا ہونے والانقصان ناقابل تلافی تھا۔
16 دسمبر کی صبح پشاور آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے کو فراموش نہیں کیا جاسکتا جس نے مائوں کے جگر گوشوں کو ان سے جدا کردیا تھا اور ان کے پیاروں کوایسی تکلیف دی جو ساری عمر انہیں سسک سسک کر جھیلنا پڑے گی۔ ہم ان اساتذہ اور بچوں پر فخر محسوس کرتے ہیں جنہوں نے دہشتگردوں کا ہمت و بہادری سے مقابلہ کیا اور انہیں جواب دیا کہ ہم ایسی قوم سے تعلق رکھتے ہیں جس کا بچہ بچہ نڈر ہے اور دشمن کی چالوں کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دینگے۔
16 دسمبر کو دہشت گردوں نے معصوم بچوں پر اندھا دھند فائرنگ کی اور کل 9اساتذہ اور 3فوجیوں کو ملا کر تقریباً 144افراد کو ہلاک کیا۔ ہلاک ہونے والے بچوں میں زیادہ تر کی عمریں 7سے18 سال کے درمیان تھیں۔ پاکستان آرمی نے بروقت کارروائی کرکے اسکول کو قبضے میں لے لیا اور 950بچوںکو بحفاظت نکالا۔ ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ 6مقابلے میں مارے گئے۔ اس دردناک واقعہ کو دیکھنے والے بچےاب تک نفسیاتی طور پر ٹھیک نہیں ہوسکے اور خواہش کرتے ہیں کہ ایسا واقعہ دنیا کے کسی کونے میں کبھی پیش نہ آئے۔
دہشت گردی کا یہ واقعہ شمالی وزیرستان میں ہونے والےآپریشن کے نتیجے میں کیا گیا جہاں پاکستان آرمی کے بہادر فوجی دہشت گردوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے جنگ کر رہے تھے۔ پاک فوج نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک کی سلامتی اور امن و امان کو قائم کیا۔ گزشتہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ اور ’’خیبروَن‘‘آپریشن کی کامیابی نے ملک کو ایک بار پھر اپنے پیروں پر کھڑا کردیا۔
پاکستانی قوم نے زخم پر زخم تو کھائے ہیں لیکن ان تلخ واقعات نے اسے پھر سے یکجا کردیا ہے۔ آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ کے بعد پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ایک ہوگئیں جس کے بہت مثبت نتائج برآمد ہوئے اور ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لئے متفقہ موقف کے ساتھ چلے۔ یہ ملک ہمارا ہے اور اب ہم سب اس کے پاسبان ہیں۔ ہر مکتب ِ فکر سے تعلق رکھنے والے ملک پاکستان کے لئے انسانیت سب سے پہلے ہے۔ اس واقعہ نے ہر انسان کو جھنجوڑ کر رکھ دیا اور آج ہم فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر دہشت گردوں کے جڑ سے خاتمے کے لئے دعاگو ہیں۔ اگرہم اسی طرح انسانیت کی خدمت اور امن و امان کی فضا قائم رکھیں تو ہر ایک کو اس کے حقوق بھی ملیں گےاورملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن بھی رہے گا۔
(رابعہ شمس)

.
تازہ ترین